بھارت جنگ میں پاکستان سے شکست کو چھپانے کے نئے سے نئے بہانے تراش رہا، تمام رافیل موجود کا نیا گھٹیا فسانہ
بھارت جنگ میں پاکستان سے شکست کو چھپانے کے نئے سے نئے بہانے تراش رہا، تمام رافیل موجود کا نیا گھٹیا فسانہ
نئی دہلی: بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ کے مطابق بھارتی فضائیہ (آئی اے ایف) نے اپنے تمام 36 رافیل جنگی طیاروں کے لیے “برج سپورٹ” اور دیکھ بھال کے انتظامات سے متعلق ایک ٹینڈر جاری کیا ہے، جسے بعض بھارتی حلقے اس بات کا ثبوت قرار دے رہے ہیں کہ رافیل بیڑے کے تمام 36 طیارے اب بھی سروس میں موجود ہیں۔
بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ ٹینڈر ان پاکستانی دعوؤں سے متصادم ہے جن میں گزشتہ برس “آپریشن سندور” کے دوران متعدد رافیل طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق چونکہ ٹینڈر میں تمام 36 طیاروں کے لیے معاونت طلب کی گئی ہے، اس لیے بھارتی تجزیہ کار اسے اس دعوے کی تردید کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
تاہم رافیل طیاروں کے نقصانات سے متعلق دعوے اور جوابی دعوے اب بھی متنازع ہیں۔ مئی 2025 کی جھڑپوں کے بعد پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کئی بھارتی جنگی طیارے، جن میں رافیل بھی شامل تھے، مار گرائے۔ دوسری جانب بھارت نے ان دعوؤں کو مسترد کیا۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی اس معاملے پر مختلف اور بعض اوقات متضاد رپورٹس شائع کیں، جس کے باعث مکمل تصویر اب تک واضح نہیں ہو سکی۔
اسی دوران بھارت اپنی فضائی قوت میں مزید اضافے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ فروری 2026 میں بھارت کی دفاعی خریداری کونسل نے تقریباً 114 نئے رافیل طیاروں کی خریداری کی منظوری دی، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 39 ارب ڈالر بتائی گئی۔ یہ طیارے فرانسیسی کمپنی Dassault Aviation سے حاصل کیے جائیں گے اور بھارتی فضائیہ کی جدید کاری کے منصوبے کا حصہ ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق تازہ ٹینڈر سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی فضائیہ اپنے رافیل بیڑے کو مکمل آپریشنل حالت میں برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن یہ دستاویز ماضی کی جنگی کارروائیوں میں کسی ممکنہ نقصان یا نقصان نہ ہونے کے بارے میں حتمی اور آزادانہ ثبوت فراہم نہیں کرتی۔ اس لیے رافیل طیاروں کے نقصانات سے متعلق پاکستان اور بھارت کے متضاد دعوے بدستور سیاسی اور عسکری بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔


