Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبھارتسومنات کا مندر، محمود غزنوی اور ہندوؤں سے انگریز کا فراڈرو میلا...

ٹرینڈنگ

سومنات کا مندر، محمود غزنوی اور ہندوؤں سے انگریز کا فراڈرو میلا تھاپر جس نے تاریخ کا بھانڈا پھوڑا

سومنات کا مندر، محمود غزنوی اور ہندوؤں سے انگریز کا فراڈ
رو میلا تھاپر جس نے تاریخ کا بھانڈا پھوڑا
تاریخ بھی کیا فراڈ ہے؟؟؟

طاہر ملک

1931ء میں پیدا ہونے والی رومیلا تھاپر نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ پھر یونیورسٹی آف لندن سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ امریکا، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک کی یونیورسٹیوں میں وہ پڑھاتی رہیں۔ انہیں 2005ء میں پدم بھوشن ایوارڈ دیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں اپنے علمی کام پر سرکاری سرپرستی نہیں چاہتی۔

رومیلا تھاپر نے برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں گورے کی بددیانتی کی ایک بہت بڑی مثال اپنی کتاب ’’سومنات: تاریخ کی بہت سی آوازیں‘‘ میں پیش کی ہے۔
اس کتاب میں اس نے قدیم سنسکرت اور فارسی کے تاریخی شواہد سے ثابت کیا ہے کہ محمود غزنوی کی سومنات کے عظیم مندر کی تباہی، اس کے سب سے بڑے بت کو توڑنے، اس کے اندر سے سونا اور دولت کا نکالنے اور اس دولت کو لوٹ کر غزنی لے جانے کی ساری کہانی انگریز دور میں تراشی گئی۔
انگریز دور میں ہی محمود غزنوی کو بت شکن کا لقب دے کر مسلمانوں کے ہاں اس کے کردار کی عظمت اور ہندوؤں کے ہاں کردار کشی کی گئی۔

اس تاریخی بددیانتی کا آغاز برطانوی پارلیمنٹ کی 1843ء کی اس بحث سے ہوتا ہے، جسے ’’دروازوں کا اعلان‘‘ یعنی دروازوں کی برآمدگی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ بحث گورنر جنرل لارڈ ایلن برو کے اس اعلان کے بعد شروع ہوئی، جس میں اس نے کہا تھا کہ محمود غزنوی نے سومنات کے عظیم مندر سے صندل کی لکڑی کے تاریخی دروازے اکھاڑ کر غزنی میں نصب کیے تھے۔ یہ دروازے ہندوستان کا اثاثہ ہیں اور انہیں واپس لایا جائے۔
پارلیمنٹ کی بحث کے دوران یہ ثابت کیا گیا کہ سومنات کے مندر کی تباہی دراصل ہندو قوم کی بہت بڑی توہین ہے، اس لئے دروازوں کو واپس لاکر ان کی عزت بحال کی جائے۔
انگریز کا اس بحث سے ایک ہی مقصد تھا کہ ہندو قوم کو افغانستان میں ہونے والی جنگ میں ساتھ ملایا جائے اور پورے ہندوستان پر یہ ثابت کیا جائے کہ انگریز کا افغانستان پر کس قدر کنٹرول ہے۔ یوں ایک مقامی فوجی بھرتی کے ساتھ افغانستان پر حملہ کیا گیا۔
غزنی میں موجود دروازوں کو اکھاڑا گیا ۔ جب انہیں ہندوستان لایا گیا تو ان پر کنندہ آیاتِ قرآنی نے بھانڈا پھوڑ دیا کہ ان کا سومنات تو دور کی بات ہندو مذہب سے بھی کوئی تعلق نہیں۔
یہ دروازے آج بھی آگرہ کے قلعے کے سٹور روم میں پڑے ہوئے ہیں۔
برصغیر کی تقسیم کے بعد اسی انگریز کے جھوٹ کو متعصب ہندوؤں نے اپنے لئے مشعلِ راہ بنایا اور تقسیم کے فوراً بعد ہی سومنات کا مندر دوبارہ تعمیر کرنے کی تحریک شروع کردی۔ اس کا سرغنہ کے ایم منشی تھا، جس نے گجرات کی تاریخ لکھی جس میں اس نے سومنات کو پورے برصغیر کے ہندو مذہب کی عظیم علامت اور بیرونی حملہ آوروں کے مقابلے میں بھارت کی جدوجہد کا استھان قرار دیا۔
تمام ہندو قوم پرستوں کے نزدیک اس کا دوبارہ تعمیر کیا جانا، محمود غزنوی کے حملوں کا منہ توڑ تاریخی جواب ہوگا۔ انگریز کی تحریر کردہ اسی تاریخ کی بنیاد پر جذباتی مسلمانوں نے بھی محمود غزنوی کو بت شکن کا لقب دے کر اس واقعے کے دفاع میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے جس کی حیثیت بہت ہی معمولی تھی۔
رومیلا تھاپر کہتی ہے جب میں نے اصل سنسکرت میں لکھے تاریخی مآخذ کا مطالعہ شروع کیا تو میں حیران رہ گئی کہ وہاں سومنات نام کا شہر تو ملتا ہے، لیکن وہاں کسی بڑے مندر کا کوئی تذکرہ تک نہیں کیا گیا، جبکہ محمود غزنوی کے ہندوستان آنے سے بہت پہلے جین مت کے تاریخی مواد سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے سومنات پر حملہ کیا اور ایک مندرکو تباہ کیا۔ اس مندر کی تباہی کو وہ مہاویر کی شیو کے اوپر فتح کی علامت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ رومیلا تھا پر حیرانی کے ساتھ تحریر کرتی ہے کہ میں نے جین تاریخ اور سنسکرت کے تاریخی مواد کو بہت تفصیل سے جانچا اور پرکھا اور ڈھونڈنے کی کوشش کی کہ کہیں محمود غزنوی کے مندر پر حملے اور اس کی لوٹ مار کا تذکرہ ملے، لیکن مجھے اس کا بالکل ذکر تک نہ ملا۔ جب کہ آج کے ہندو اس واقعہ کو اس قدر شدید درد اور کرب سے بیان کرتے ہیں جیسے یہ ان کی تاریخ کی بدترین کہانی ہو۔ محمود غزنوی کی آمد اور لڑائی کو جین اور سنسکرت کے تاریخی مآخذ ایک چھوٹے سے واقعہ کے طور پر لیتے ہیں جب کہ اس واقعہ کے سو سال بعد وہ بالکل خاموش ہو جاتے ہیں، جیسے یہ کوئی واقعہ ہی نہ تھا۔

جب کہ اس مندر کی آرائش اور اس کے ساتھ ساتھ ایک مسجد کی تعمیر کے بارے میں جین اور سنسکرت کے مؤرخین بہت کچھ تحریر کرتے ہیں۔ سومنات کا شہر ہندو آبادی اور مسلمان تاجروں کا شہر تھا، جہاں ہندو راجہ نے عرب کے تاجروں کو مسجد بنانے کے لیے زمین بھی دی تھی۔ رومیلا تھاپر کہتی ہے کہ سومنات کے ایک بوہرہ مسلمان تاجر کے بارے میں ایک کتبہ اسے ملا ،جو سومنات شہر کے دفاع میں مارا گیا۔

یہ تاریخی بددیانتی کب شروع ہوئی؟ 1872ء میں انگریز سرکار کی سرپرستی میں دو مؤرخین، ایچ ایم ایلیٹ اور ایڈورڈ جان ڈاؤسن نے ایک تاریخ مرتب کی، جس کا نام تھا: ’’ہندوستان کی تاریخ، جیسا کہ اس کے اپنے مؤرخین نے بیان کیا‘‘۔

اس کتاب کو تحریر کرنے کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ ہندوستان ایک منقسم ملک ہے، یہاں کے لوگ ہر وقت آپس میں دست و گریبان رہتے ہیں اور اپنے خلاف ہونے والے حملوں کا دفاع نہیں کر سکتے۔ مسلمان حملہ آور خونخوار اور مذہبی شدت پسند ہیں، اور ہندوستان کو صرف انگریز ہی پُرامن اور مستحکم رکھ سکتا ہے۔
برصغیر پاک وہند کے ہر نصاب تعلیم کی کتابوں میں، دانشوروں کی گفتگو میں اور عام لوگوں کی کہانیوں میں اسی کتاب کی جھوٹی داستانیں آج بھی گونجتی رہتی ہیں۔

مزید پڑھیں