بھارت میں تعلیم کا سیلاب، مگر نوکریوں کی زمین خشک: کیا ملک اپنی معاشی برداشت سے زیادہ گریجویٹس پیدا کر رہا ہے؟
بھارت میں تعلیم کا سیلاب، مگر نوکریوں کی زمین خشک: کیا ملک اپنی معاشی برداشت سے زیادہ گریجویٹس پیدا کر رہا ہے؟
بھارت میں اعلیٰ تعلیم کی غیر معمولی توسیع نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ آیا ملک کی معیشت اتنے بڑے پیمانے پر پیدا ہونے والے گریجویٹس کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت میں ہزاروں نئے کالج اور جامعات قائم ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں ہر سال لاکھوں نوجوان ڈگریاں حاصل کر رہے ہیں۔ سرکاری و غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صورتحال یہ ہے کہ تعلیم یافتہ بے روزگاری ایک سنگین مسئلے کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، اور اندازاً ہر تین میں سے ایک گریجویٹ کو ملازمت نہیں مل رہی۔
ماہرین کے درمیان اس سوال پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے کہ اصل مسئلہ تعلیم کی فراوانی ہے یا معیشت کی سست رفتار تخلیقِ روزگار۔ بعض ماہرین کا مؤقف ہے کہ بھارت میں ڈگری یافتہ افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن صنعت، ٹیکنالوجی اور خدمات کے شعبے اس رفتار سے روزگار پیدا نہیں کر پا رہے۔ نتیجتاً ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جہاں تعلیم یافتہ نوجوان یا تو کم درجے کی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہیں یا طویل عرصے تک بے روزگار رہتے ہیں۔
دوسری جانب کچھ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسئلہ تعلیم کی زیادتی نہیں بلکہ تعلیمی معیار اور ہنر کی کمی ہے۔ ان کے مطابق ڈگریاں تو بڑھ رہی ہیں لیکن مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق مہارتیں پیدا نہیں ہو رہیں، جس کی وجہ سے طلب اور رسد میں عدم توازن گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
یہ بحث اب صرف تعلیمی پالیسی تک محدود نہیں رہی بلکہ بھارت کی مجموعی معاشی حکمتِ عملی پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن گئی ہے کہ آیا ترقی کی رفتار واقعی نوجوانوں کے روزگار کی ضرورت کے ساتھ ہم آہنگ ہے یا نہیں


