Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکالم / بلاگآپ کا پیسہ کہاں جاتا ہے؟ — ایک تنخواہ دار شہری کا...

ٹرینڈنگ

آپ کا پیسہ کہاں جاتا ہے؟ — ایک تنخواہ دار شہری کا احتساب

آپ کا پیسہ کہاں جاتا ہے؟ — ایک تنخواہ دار شہری کا احتساب
تحریر: خالد مسعود
 
‎صبح کی تاریکی اور ڈھائی روپے کا سوال
‎صبح کے پانچ بجے ہیں۔ اندھیرا ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں۔ آپ کے فون کے   الارم  کی آواز   ہر صبح کی طرح آپ کو نیند سے جھنجھوڑ کر اٹھا دیتی ہے۔ آپ اٹھتے ہیں، نہاتے ہیں، ناشتے میں پچھلی رات کے بچے ہوئے سالن کو روٹی کے ساتھ کھاتے ہیں، بیگم تب تک بچوں کو اسکول کے لیے تیار کرتی ہے ، اور پھر گاڑی میں پیٹرول ڈالنے پٹرول پمپ پر رکتے ہیں۔
‎مشین پر لگے نمبر گھومتے ہیں۔ 108 روپے فی لیٹر — صرف لیوی کے نام پر۔
‎آپ نے سوچا تھا کہ پیٹرول کی عالمی قیمت میں اضافہ ہوا ہے؟ نہیں صاحب، یہ آپ کے پسینے کی قیمت ہے، جسے کوئی اور وصول کر رہا ہے۔
‎کل بجلی کا بل آیا تھا۔ 34 روپے فی یونٹ۔ آپ نے گھر بیٹھے حساب لگایا تو پتہ چلا کہ حکومت آپ کے بل کا 40 فیصد حصہ مختلف ٹیکسوں اور سرچارجز کی شکل میں کاٹ لیتی ہے۔ آپ نے منہ ہی منہ میں بڑبڑایا، “یہ تو بجلی نہیں، سونا ہے” — لیکن سچ یہ ہے کہ سونا بھی اتنا مہنگا نہیں جتنا آپ کی جلی ہوئی راتیں ہیں۔
‎یہ کالم آپ کے پیسے کی کہانی ہے۔ وہ پیسہ جو آپ کی جیب سے نکلتا ہے، آپ کے بینک اکاؤنٹ سے کٹتا ہے، آپ کی تنخواہ سے منہا کیا جاتا ہے ، اور پھر کبھی واپس نہیں آتا۔

 
‎قرضے کی موت
‎چند دن پہلے بجٹ پیش ہوا۔ 18.8 کھرب روپے کا بجٹ۔ یہ نمبر اتنا بڑا ہے کہ سمجھنا مشکل ہے۔ لیکن اس بجٹ کا ایک نمبر ہے جو آپ کی راتوں کی نیند اڑانے کے لیے کافی ہے
‎ان میں سے آٹھ کھرب بیس ارب روپے سیدھے سیدھے   وہ حصہ ہے جو پرانے قرضوں کی سود پر چلا جاتا ہے۔  قرض کی ادائیگی پر نہیں بلکہ صرف سود کی ادائیگی پر !
‎یاد رکھیں، یہ وہ قرضے ہیں جو آپ نے نہیں لیے۔ یہ وہ قرضے ہیں جو فوجی آمر نے لیے تھے، سیاستدانوں نے لیے تھے، بیوروکریٹس نے “ترقی” کے خوبصورت نام پر لیے تھے ۔  کہاں استعمال ہوئے ، کچھ معلوم نہیں — اور اب آپ اُن کی سود چکا رہے ہیں۔ ہر ماہ، ہر ہفتے، ہر گھنٹے۔
‎آپ جب سوچتے ہیں کہ ٹیکس کیوں نہیں گھٹتا، مہنگائی کیوں نہیں رکتی، تو سمجھ لیجیے کہ آپ کی کمائی کا 43 فیصد حصہ سیدھا اس قرض کے منہ میں جاتا ہے — جس کا اصل    استعمال کنندہ آج اپنی کوٹھیوں میں بیٹھا چین کی نیند سو رہا ہے۔
‎آپ جاگ رہے ہیں؟ آپ کی نیند اڑئی ہوئی ہے  ۔   قسطیں، بجلی کے بل، مہنگائی، اور وہ مستقل احساس کہ آپ دوڑ تو رہے ہیں مگر جگہ نہیں بدل رہی۔

 
‎تنخواہ دار — حکومت کی گائے
‎یہ سب سے تلخ حقیقت سنیں۔
‎پاکستان میں تنخواہ دار طبقہ وہ ہے جو ہر ماہ خودبخود ٹیکس دیتا ہے۔ اس کی پوری تنخواہ بینک میں آتی ہے، اس کا ہر روپیہ دستاویزی ہے، وہ چھپ نہیں سکتا، وہ بھاگ نہیں سکتا، وہ “پکڑا جاتا ہے”۔
اور کون نہیں پکڑا جاتا؟ وہ تاجر جو پانچ لاکھ روپے ماہانہ کماتا ہے مگر ٹیکس رجسٹر میں اس کا نام تک نہیں۔ وہ پراپرٹی ڈیلر جو ایک ہی دن میں کروڑوں کا لین دین کرتا ہے مگر ٹیکس دیتا ہے صرف دو ہزار۔ وہ زمیندار جو سو ایکڑ کا مالک ہے مگر اُس کی پوری آمدنی پر صفرٹیکس ہے۔
فیصد زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے 352 اعداد بولتے ہیں — تنخواہ دار طبقہ تاجروں، خوردہ فروشوں، اور برآمد کنندگان کے مقابلے میں
آپ جو پچاس ہزار ماہانہ کماتے ہیں، اس کا چھ فیصد کٹتا ہے۔ مگر وہ کاروباری شخص جو لاکھوں روپے ماہانہ کماتا ہے، وہ صفر ادا کرتا ہے۔
‎کیوں؟ کیونکہ آپ فائلر یا   “دستاویزی” ہیں۔ آپ ایماندار ہیں۔ اور ایمانداری پاکستان میں جرم ہے — جس کی سزا آپ ہر ماہ اپنی تنخواہ کی سلپ پر دیکھتے ہیں۔

 
‎بجلی — 46,000 میگاواٹ کی طنز
‎اعداد سنیں۔
میگا واٹ ہے 28000 میگاواٹ  بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے جبکہ ضرورت محض 46000 پاکستان میں
اتنی اضافی صلاحیت ہونے کے باوجود آپ کے گھر میں چھ سے آٹھ گھنٹے اندھیرا ہے۔ دیہات میں چودہ سے سولہ گھنٹے۔
تو بجلی ہے، لیکن آپ تک نہیں پہنچتی۔ کیوں؟
نامی ایک جماعت ہے جسے آپ کے پیسوں سے ہر سال ڈھائی کھرب روپے کیونکہ آزاد پاور پروڈیوسرز(IPPs)
“کیپیسٹی پیمنٹ” کے نام پر ان کو دئیے جاتے ہیں ۔ یہ وہ پیسہ ہے جو ان بجلی گھروں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے بجلی پیدا ہی نہیں کی
معاہدہ ہے “ٹیک-اور-پے” — چاہے تم بجلی لو یا نہ لو، ہمیں پیسے دو۔
نتیجہ؟ آپ کا بل 34 روپے فی یونٹ ہے۔ بھارت میں آٹھ سے بارہ روپے۔ بنگلہ دیش میں آٹھ سے دس روپے۔ ہماری بجلی دنیا کی مہنگی ترین بجلی ہے — اور ہمیں  سب سے کم ملتی ہے ۔
‎یہ بجلی نہیں ہے۔ یہ ایک ڈاکہ ہے، قانونی لفافے میں لپٹی ہوئیلوٹ مار ہے۔

 
‎پیٹرول — غریب کا گناہ
نو سال پہلے پیٹرولیم لیوی (جو ایک سرچارج ہے، ٹیکس بھی نہیں) 120 ارب روپے سالانہ تھی۔
کھرب روپے۔ یعنی چودہ گنا اضافہ 1.73 اگلے سال اس کا ہدف ہے
ہر لیٹر پیٹرول پر 108 روپے صرف لیوی۔ امیر ہو یا غریب، ہر ایک اتنا ہی دے گا۔ یہ سب سے ظالمانہ ٹیکس ہے — جس پر بیس ہزار تنخواہ   والا بھی اتنے روپے ادا کرتا ہے جتنے بیس لاکھ روپے کمانے والا۔
‎پچھلے تین مہینوں میں پاکستان میں پیٹرول 55 فیصد مہنگا ہوا۔ بھارت میں صرف چار فیصد۔ بنگلہ دیش میں سترہ فیصد۔
‎دنیا میں سب سے زیادہ متاثر ہم ہوئے۔ کیوں؟ کیونکہ ہماری حکومت نے عالمی بحران کا پورا بوجھ — پورا کا پورا — آپ کے سر پر ڈال دیا۔
‎آپ کا گناہ کیا ہے؟ آپ غریب ہیں۔ اور غریب ہونا، اس ملک میں جرم ہے۔
 

 
‎سرکاری ادارے — سفید ہاتھیوں کا قبرستان
پاکستان اسٹیل ملز — سالوں سے بند، پھر بھی سالانہ 26 ارب کا گھاٹا۔ پاکستان ریلوے — 60 ارب کا نقصان۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی — 294 ارب روپے میں ڈوبی۔
ارب روپے 832 پچیس سرکاری اداروں کا مجموعی نقصان:
انہیں بچانے کے لیے حکومت نے 2,078 ارب روپے ڈالے — آپ کی جیب سے۔ وہ پیسہ جو اسکول بن سکتے تھے، ہسپتال کھل سکتے تھے، سڑکیں بن سکتی تھیں، وہ سب ان “سفید ہاتھیوں” کے پیٹ میں گیا۔
‎اور ان میں سے اکثر، جیسے پاکستان اسٹیل ملز، بند ہیں۔ لیکن ملازمین کی تنخواہیں، افسران کی گاڑیاں، دفاتر کا کرایہ — سب چل رہا ہے۔ آپ کے پیسے سے۔

 
100 روپے کا حساب — آپ کا، حکومت کا نہیں
: یہ سب سے تکلیف دہ حصہ ہے۔ ہر سو روپے میں سے
روپے 43 پرانے قرضوں کی سود (جو آپ نے نہیں لیے) •
روپے 16 دفاع •
روپے 6 سبسڈیز (بیشتر بجلی اور سرکاری اداروں کےلئے) •
روپے 6 انتظامیہ (بیوروکریسی کی تنخواہیں) •
روپے 6 پنشن (سرکاری ملازمین کی) •
روپے 5 ترقیاتی منصوبے (اسکول، ہسپتال، سڑکیں) •
روپے 18 سرکاری اداروں کا گھاٹا، بدعنوانی، غیر ضروری و نامعلوم اخراجات •
 
‎یہ سب سے تکلیف دہ حصہ ہے۔ ہر سو روپے میں سے ،   ان پانچ روپے کے ترقیاتی منصوبوں میں بھی بدعنوانی اور ناکارہ حکمرانی کی وجہ سے شاید دو یا تین روپے ہی عوام تک پہنچتے ہیں۔ سو میں سے دو روپے۔
‎باقی اٹھانوے روپے — آپ کبھی واپس نہیں دیکھیں گے۔ وہ کسی اور کی جیب میں گئے، کسی اور کی جائیداد بنے، کسی اور کے بچوں کے غیر ملکی کالجوں میں گئے۔

 
‎آخری سوال — یہ سلسلہ کب ٹوٹے گا؟
‎آپ کل صبح اٹھیں گے۔ پیٹرول مہنگا ہوگا۔ بجلی کا بل بڑھے گا۔ تنخواہ پر ٹیکس کاٹا جائے گا۔ اور آپ دوبارہ وہی سوال پوچھیں گے: میرا پیسہ کہاں جاتا ہے؟
جواب وہی ہے جو کل تھا، جو آج ہے، جو کل بھی رہے گا— وہاں جاتا ہے جہاں آپ کی آواز نہیں پہنچتی۔
جب تک بجلی کے ظالمانہ معاہدے نہیں بدلتے ،
جب تک تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جاتا،
‎جب تک سرکاری اداروں کی نجکاری نہیں ہوتی، جب تک بجٹ میں شفافیت نہیں آتی — تب تک یہی ہوگا۔
‎آپ دیں گے۔ وہ لیں گے۔
آپ پوچھیں گے۔ وہ چپ رہیں گے۔
آپ روئیں گے۔ وہ ہنسیں گے۔
‎یہ پاکستان کا بجٹ نہیں ہے۔ یہ پاکستان کا غصہ ہے۔
‎اور یہ غصہ، کسی دن، کسی جگہ، کسی صورت میں — پھٹے گا ضرور۔

مزید پڑھیں