قصہ اُس جشن غدیر کا جسمیں سُنی عقیدہ گوشت میں دبا سسکتا تڑپتا رہا
قصہ اُس جشن غدیر کا جسمیں سُنی عقیدہ گوشت میں دبا سسکتا تڑپتا رہا
آفاق فاروقی
تاریخی طور پر یومِ غدیر کی اہمیت دونوں مکاتبِ فکر کے نزدیک مسلم ہے، البتہ اس کی تشریح اور مفہوم میں اختلاف پایا جاتا ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ تاریخ کے بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جنہیں سب مانتے ہیں مگر سب ایک ہی طرح نہیں مانتے۔ گویا واقعہ ایک ہوتا ہے، مطلب ہر شخص اپنا اپنا گھر سے لے آتا ہے، یومِ غدیر بھی انہی چند خوش نصیب واقعات میں سے ایک ہے
گو کہ اب اس دن کو شیعہ ہی یاد بھی رکھتے ہیں اور مناتے بھی ہیں اور اس اہم اسلامی دن کو عیدِ غدیر یا جشنِ غدیر کا نام بھی دیا جاتا ہے، کیونکہ یومِ غدیر اسلامی تاریخ کا اس لیے ایک اہم واقعہ ہے کہ جب 18 ذوالحجہ 10 ہجری کو آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع سے واپسی پر مقامِ غدیر خم پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حضرت علی بن ابی طالب کا ہاتھ بلند کرکے فرمایا تھا: “جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔”
شیعہ مسلمانوں کے نزدیک یہ اعلان حضرت علیؑ کی جانشینی اور قیادتِ امت کے تعین کا واقعہ ہے، اسی لیے وہ اسے عیدِ غدیر کے طور پر مناتے ہیں،دوسری طرف اہلِ سنت اس واقعے کو حضرت علیؓ کی فضیلت، محبت اور بلند مقام کے اظہار کے طور پر تو تسلیم کرتے ہیں، لیکن اسے سیاسی یا مذہبی جانشینی کے اعلان کے طور پر نہیں دیکھتے، یوں صدیوں سے ایک ہی جملہ مسلمانوں کے درمیان شاید اتنی بحث پیدا کر چکا ہے جتنی بعض لوگ پورا قرآن پڑھ کر بھی پیدا نہیں کر پاتے
اسی عیدِ غدیر کے موقع پر لانگ آئ لینڈ میں مارگیج بزنس سے تعلق رکھنے والے محسن علی شاہ نے ، جو ناسا کاؤنٹی میں گجراتی طرزِ سیاست کے بانی اور چیف ایگزیکٹو بروس بلک مین کی کابینہ میں اعزازی ایڈوائزر اکرم چوہدری کے فنانشل سپورٹر بتائے جاتے ہیں، اپنے گھر میں ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا، جس کے دوران ہزاروں ڈالر کا گوشت سیخوں اور دیگچیوں میں گلا پکا کر رج کے تے ڈٹ کے کھایا کھلایا گیا
محسن شاہ جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ اس اعتبار سے نابغۂ روزگار شخصیت ہیں کہ یوپی کے پنجابی ہیں، ان سے مل کر تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ بلاشبہ یوپی بڑی زرخیز زمین ہے،اس کی زرخیزی کھیت کھلیان سے کہیں زیادہ ہے، وہ گندم، چاول، سبزی، پھل اور فروٹ کے ساتھ ساتھ دوسرے خطوں کی انسانی نسلیں بھی کامیابی سے پیدا کر لیتی ہے،دنیا میں جہاں سائنسی تجربہ گاہیں برسوں محنت کر کے نئی اقسام پیدا کرتی ہیں، وہاں برصغیر کی مٹی کبھی کبھی یہ کام انتہائ خاموشی سے کرڈالتی ہے
محسن شاہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب سے واجبی سے پڑھے لکھے عون نقوی ناسا کاؤنٹی میں انتہائ اعلی تعلیم یافتہ پاکستانی امریکن بچی کو برطرف کروا کر ایشین افیئرز کے ڈائریکٹر تعینات کروائے لگوائے گئے ہیں، ناسا کاؤنٹی میں زمین کی خریداری میں محسن شاہ پیچھے سے بہت آگے نظر آتے ہیں،یہ وہ فلسفہ ہے جسے عام لوگ سمجھ نہیں پاتے،دنیا میں آگے بڑھنے کے دو طریقے ہیں،ایک آگے چل کر، دوسرا پیچھے رہ کر آگے نکل جانا،محسن شاہ بظاہر دوسرے مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں
یوں تو محسن شاہ، جن کی انگریزی عین ہم جیسی ہے، ایک مخصوص گروپ کے یہاں پیدا ہونے والے امریکن پاکستانی بچوں کو ادبی انگریزی میں مذہبی تعلیمات بھی دیتے ہیں، یہ بھی ہماری تہذیب کا ایک عظیم معجزہ ہے کہ جن لوگوں کی اپنی انگریزی سن کر آکسفورڈ کے در و دیوار بھی استغفار پڑھنے لگیں، وہی لوگ اگلی نسل کو ادبی انگریزی پڑھا رہے ہوتے ہیں،قوموں کی ترقی شاید اسی اعتماد کا دوسرا نام ہے
ان کے گھر میں منائے جانے والے جشنِ غدیر میں ایک بڑی تعداد ان سنی افراد کی بھی تھی جو اپنے گھر میں عیدِ غدیر کو اگر منانے کا سوچ بھی لیں تو ان کا دھرم بھرشٹ ہو جائے، مگر چانپوں، جھینگوں، بکرے کے روسٹ اور مرغے کی بھنی ہوئی ٹانگوں کی خوشبو نے وہاں فرقے کی بدعت کا ایسا دف مارا کہ صدیوں کے اختلافات چند منٹ میں پلیٹوں کے نیچے دب کے دم توڑ گئے
افلاطون نے اپنی مثالی ریاست میں فلسفی بادشاہ کا خواب دیکھا تھا،اگر وہ اس تقریب میں موجود ہوتے تو شاید انہیں معلوم ہو جاتا کہ دنیا کو دراصل فلسفی بادشاہ نہیں بلکہ اچھا باورچی زیادہ متحد کر سکتا ہے۔ جہاں دلیل ناکام ہو جائے وہاں مصالحہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ جہاں مناظرہ الجھ جائے وہاں باربی کیو راستہ نکال لیتا ہے
وہیں جب اس موقع پر نئے نئے بنے عالم اور ہمارے پرانے شناسا جاوید حسین اپنے خطاب میں فرما رہے تھے: “دین علی پر مکمل ہو گیا”، تو تعلیماتِ اسلام اور ایمان بھی اس لذیذ اور گرم گوشت کی قسم قسم کی اقسام میں سسک سسک کر دبا پڑا رہا کہ قرآن میں واضح طور پر کہا گیا ہے: “آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دیں اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا” اور اللہ تعالیٰ نے یہ سب بتایا سنایا اور کہا کس سے ؟ جسے نبی آخر الزماں قرار دیاگیا جسے محسن انسانیت قرار دیا گیا اور جو محور کائنات بتایا گیا مگر ناسا کاؤنٹی بلڈنگ میں منائے جانے والے یوم حسین میں جاوید حسین جیسے ہی ایک ماہر عالم دین نے انکشاف کیا تھا محور کائنات بھی علی ہی ہیں، اہل علم کہتے ہیں قران کی آخری آیات میں شامل مذکورہ آیت کے نزول سے اشارہ مل گیا تھا آپ حضور صلی اللہ و علیہ وصلم کے جانے کا وقت ہوا چاہتا ہے
جشنِ غدیر میں شامل “اہلِ ایمان” ہوں یا یوم حسین کے شرکا، کسی ایک کے کانوں تک بھی سماعت پر گراں گزرنے والے یہ تمام الفاظ بیک وقت یا تو پہنچ نہ سکے یا پھر انہوں نے اس حدیث کے تیسرے درجے پر فائز ہونے کو ترجیح دی جس میں کہا گیا ہے: “اگر کہیں برائی ہوتے دیکھو تو اول طاقت کے زور سے روک دو، دوئم اگر طاقت نہ ہو کمزور پڑ جاؤ تو ہاتھ کے اشارے سے منع کرو، اور اگر تم میں ہاتھ کے اشارے سے بھی منع کرنے کی جرات نہیں ہے، مطلب تمہاری اتنی بھی اوقات نہیں ہے، تو پھر تیسرے نمبر پر کم از کم دل میں ہی برا جانو۔”
البتہ عید غدیر کی شام تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اہل ایمان کے دل و ذہن بھی شاید پلیٹوں میں پڑی بوٹیوں روٹیوں سے جہاد میں مصروف تھے، کسی کے ہاتھ میں ران تھی، کسی کے ہاتھ میں جھینگا، کسی کے ہاتھ میں مرغے کی ٹانگ، اور ہر شخص اپنے اپنے ایمان اور کولیسٹرول کے درمیان ایک نازک مگر تاریخی توازن قائم کیے ہوئے تھا
ابنِ خلدون اگر اس محفل میں موجود ہوتے تو شاید اپنی عمرانیات میں ایک نیا باب شامل کرتے کہ قومیں صرف نظریات سے نہیں بلکہ مشترکہ دعوتوں سے بھی بنتی ہیں۔ جبکہ برٹرینڈ رسل شاید لکھتے کہ انسان بنیادی طور پر ایک عقلی مخلوق نہیں بلکہ ایک بھوکی مخلوق ہے جو بعد میں اپنے فیصلوں کے حق میں دلائل ایجاد کرتی ہے
بھنے ہوئے بکرے کی رانوں، مرغے کی سرخ گرم ٹانگوں اور جھینگوں کی مست، کولیسٹرول بھری آنتوں کی بھینی خوشبو میں یہ خوب خوب سنا گیا، “اور تم پر اپنی تمام نعمتیں پوری کر دیں۔” البتہ اس سے پہلے والے الفاظ کہ “آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا” شاید دھوئیں، مصالحوں کی خوشبوؤں قہقہوں اور دوسری پلیٹ کے درمیان کہیں راستہ بھول گئے تھے
اور یوں رات کے اختتام پر فلسفہ، فقہ، تاریخ، سیاست، مسلک، عقیدہ اور تفسیر سب اپنی اپنی جگہ موجود تھے، مگر سب سے مضبوط دلیل پھر بھی وہی نکلی جو دیگچی کے اندر سے آرہی تھی، کیونکہ بعض اوقات انسان مذہب کو نہیں سمجھتا، کھانا اسے سمجھا دیتا ہے؛ اور بعض اوقات اختلافات کتابوں سے ختم نہیں ہوتے، بکرے کی ایک اچھی ران خاموشی سے وہ کام کر دیتی ہے جو صدیوں سے جاری خطبے نہیں کر پاتے


