Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکالم / بلاگپاکستان میں ایران اور امریکہ کے مبینہ امن معاہدے پر فکری کشمکش:...

ٹرینڈنگ

پاکستان میں ایران اور امریکہ کے مبینہ امن معاہدے پر فکری کشمکش: مسلم دنیا کی کامیابی یا طاقت کی نئی ترتیب؟

پاکستان میں ایران اور امریکہ کے مبینہ امن معاہدے پر فکری کشمکش: مسلم دنیا کی کامیابی یا طاقت کی نئی ترتیب؟
تجزیہ آفاق فاروقی
پاکستان کے بعض تجزیہ کاروں اور اینکرز کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والا حالیہ سفارتی سمجھوتہ محض دو ریاستوں کے درمیان ایک روایتی معاہدہ نہیں بلکہ اسے مسلم دنیا کی اجتماعی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس بیانیے میں یہ تصور ابھارا جا رہا ہے کہ اس پیش رفت نے مسلم ممالک کے درمیان ممکنہ فرقہ وارانہ کشیدگی، خاص طور پر شیعہ اور سنی تناؤ کے خطرات کو کسی حد تک کم کیا ہے، اور ایک نئے سفارتی توازن کی بنیاد رکھی ہے
تاہم دوسری طرف ایک مختلف اور زیادہ پیچیدہ تصویر بھی سامنے آتی ہے، جس کے مطابق اس معاہدے میں طاقت کا جھکاؤ واضح طور پر ایران کے حق میں دکھایا جا رہا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق ایران نہ صرف اپنی سفارتی پوزیشن کو مضبوط ظاہر کر رہا ہے بلکہ اس کے داخلی حلقوں میں اسے ایک “سیاسی فتح” کے طور پر بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ اس تاثر کے ساتھ یہ بحث بھی جنم لیتی ہے کہ معاہدے کی شرائط میں نرمی، مالی معاملات میں لچک، اور سفارتی روابط کی بحالی دراصل ایک بڑے جغرافیائی سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہیں، نہ کہ مکمل برابری کی بنیاد پر طے پانے والا سمجھوتہ
اس پورے منظرنامے میں اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بھارت اور افغانستان جیسے علاقائی فریقین کا ردعمل بھی غیر واضح یا محتاط دکھائی دیتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن ابھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوا۔ بعض مبصرین اس تضاد کو اس بڑے سوال سے جوڑتے ہیں کہ آیا واقعی یہ ایک نیا امن ڈھانچہ ہے یا محض طاقت کی ازسرنو تقسیم کا مرحلہ
فلسفیانہ زاویے سے دیکھا جائے تو یہ صورتحال کلاسیکی ریاستی نظریات کی یاد دلاتی ہے، جہاں امن اکثر مکمل ہم آہنگی کے بجائے طاقت کے توازن کا نام ہوتا ہے۔ بعض سیاسی مفکرین کے مطابق قومیں بیک وقت اخلاقی بیانیہ بھی بناتی ہیں اور عملی مفادات کی سیاست بھی چلاتی ہیں، اور یہی دوہرا پن اس معاہدے کی تعبیر کو پیچیدہ بناتا ہے۔
مزید یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مسلم دنیا میں اصل تقسیم اکثر ریاستی مفادات اور عوامی جذبات کے درمیان پیدا ہوتی ہے۔ عوامی سطح پر ایک دوسرے کے قریب آنے کا رجحان موجود رہتا ہے، مگر ریاستی قیادتیں اپنی خارجہ پالیسیوں میں عالمی طاقتوں کے ساتھ توازن برقرار رکھنے پر مجبور رہتی ہیں۔ یہی تضاد اس موجودہ صورتحال میں بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے, کہنے والے تو یہ بھی کہہ رہے اب ایران جس کے مڈل ایسٹ کے ممالک سے تعلقات کبھی بہتر نہیں رہے اب وہ ان ممالک کے عوام کی اپنے حق میں پزیرائ دیکھ کر حکمراں طبقات کے لیے گہرے اور سنگین مسائل پیدا کرنے کی کوشش کرے گا ، سعودی عرب جو پہلے ہی شعیہ مسلمانوں کو ملک میں داخلے کی پالیسی میں سخت رویہ رکھتا رہا ہے اب متحدہ عرب امارات نے بھی مذکورہ فرقے کے باشندوں کے لیے سخت پالیسی اپنانی شروع کردی ہے اور اس پورے تنازعے میں متحدہ عرب امارات کے کردار و عمل سے ایران ہی نہیں دنیا بھر کے مسلمان ایک خاص عرب مارات مخالف جذبات رکھتے ہیں، ایک نئی کشیدگی کا سبب بن سکتے ہیں، جبکہ اس پورے تناظر میں پاکستان کے ساتھ قطر کے کردار کو ایران سراہتا نظر آتا ہے، مگر ایران جو پورے تنازعے کے دوران جہاں ایک طرف پورے مڈل ایسٹ پر حملے بھی کرتا رہا دوسری طرف ان سے رابطے کرکے انہیں بھائ چارے اور مذہبی ہم آہنگی کا درس بھی دیتا رہا ، سفارتی سطح پر اسکی کامیابی تصور کیا جارہی ہے ، مگر آنے والے دنوں میں وہ اپنی کامیابی کے غرور میں خطے میں کیا کرنے جارہا ہے فی الحال کوئ نہیں جانتا
بظاہر ابھی یہ معاہدہ ایک طرف اگر سفارتی کامیابی اور کشیدگی میں کمی کی علامت سمجھا جا رہا ہے، تو دوسری طرف اسے ایک وسیع تر جغرافیائی سیاسی کھیل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں ہر فریق اپنی اپنی تعبیر کے مطابق اسے فتح یا توازن قرار دے رہا ہے

مزید پڑھیں