Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکالم / بلاگمیڈیا صحافی سے درباری تک

ٹرینڈنگ

میڈیا صحافی سے درباری تک

میڈیا صحافی سے درباری تک
آفاق فاروقی

دنیا میں ذرائع ابلاغ صرف اطلاعات پہنچانے کے لیے پیدا نہیں ہوئے تھے، ان کی اصل ضرورت اقتدار سے سوال کرنا، طاقت کے اندھیرے کمروں میں روشنی ڈالنا، اور عوام کو وہ سچ بتانا تھی جو ریاستیں، کارپوریشنیں، فوجیں، مذہبی ادارے یا سرمایہ دار طبقات چھپانا چاہتے تھے۔ فرانسیسی مفکر مشیل فوکو نے طاقت اور علم کے تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاشرے میں “سچ” اکثر وہی بنتا ہے جسے طاقتور ادارے سچ قرار دے دیں، اسی لیے آزاد صحافت ہمیشہ طاقت کے لیے خطرہ رہی ہے۔
جرمن مفکر یورگن ہیبرماس نے “عوامی دائرہ” کا تصور پیش کیا تھا؛ ایک ایسی جگہ جہاں شہری آزادانہ بحث کر سکیں اور ریاست و سرمایہ کے سامنے سوال اٹھا سکیں۔ اگر یہ دائرہ مر جائے تو جمہوریت صرف انتخابی تماشہ بن کر رہ جاتی ہے۔ امریکی دانشور نوم چومسکی نے اپنے مشہور نظریے میں لکھا کہ جدید ذرائع ابلاغ اکثر طاقتور طبقات کی مرضی کے مطابق عوامی رائے تیار کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود تاریخ گواہ ہے کہ کبھی کبھی یہی میڈیا طاقتور ترین ریاستوں کے سامنے بھی دیوار بن کر کھڑا ہوا ہے۔
امریکی جیل ابو غریب میں قیدیوں پر ہونے والے تشدد کی تصاویر اگر دنیا تک پہنچیں تو وہ اسی مغربی صحافت کے ذریعے پہنچیں۔ گوانتانامو بے کے حراستی مرکز میں ہونے والی زیادتیوں، خفیہ حراستوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر بھی سوالات انہی صحافیوں نے اٹھائے جن پر اپنی ہی ریاستوں کی جانب سے دباؤ تھا۔ عراق جنگ سے پہلے “تباہ کن ہتھیاروں” کے دعوے کو بعد میں جس طرح بے نقاب کیا گیا، اس میں بھی صحافت کے مختلف حلقوں نے اہم کردار ادا کیا۔
امریکی تاریخ میں واٹر گیٹ اسکینڈل صرف ایک سیاسی بحران نہیں تھا بلکہ صحافت کی طاقت کی علامت بھی تھا۔ دو صحافیوں نے ایک طاقتور صدر کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ اسی طرح صدارتی امیدوار گیری ہارٹ کا سیاسی زوال بھی تحقیقاتی صحافت کے ہاتھوں ہوا۔ یہ واقعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ حقیقی صحافت صرف تقریبات کی تصاویر چھاپنے یا بیانات نقل کرنے کا نام نہیں؛ صحافت وہ ذریعہ ہے جب ایک رپورٹر طاقتور کے سامنے کھڑا ہو کر کہتا ہے: “ثبوت کہاں ہے؟”
یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ دور کا بیشتر عالمی میڈیا بڑی کارپوریشنوں کے زیر اثر ہے۔ سرمایہ، اشتہارات اور سیاسی مفادات نے بہت سی جگہوں پر صحافت کو محدود کیا ہے، مگر اس کے باوجود مغربی دنیا کے میڈیا میں ایک بنیادی روایت اب بھی زندہ ہے، سوال کرنے کی روایت۔ ایران، عراق، افغانستان اور امریکہ کے درمیان کشیدگیوں کے دوران، جنگی اخراجات سے لے کر عسکری ناکامیوں تک، اپنے ہی حکمرانوں سے سب سے سخت سوال اکثر انہی ممالک کے صحافیوں نے کیے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں میڈیا پر تنقید تو ہوتی ہے مگر خوف مکمل خاموشی میں تبدیل نہیں ہو سکا۔
پاکستان اور ہندوستان جیسے ممالک میں کام کرنے والے صحافیوں کی مجبوریوں کو کسی حد تک سمجھا جا سکتا ہے۔ وہاں صحافی اغوا ہوتے ہیں، قتل کیے جاتے ہیں، ملازمتوں سے نکال دیے جاتے ہیں، تشدد کا نشانہ بنتے ہیں، ان کے خاندانوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ روزانہ ایسے واقعات سامنے آتے ہیں۔ جب ایک معاشرہ اس حد تک بے حس ہو جائے کہ وہ کسی صحافی کے اغوا پر سڑک پر نکلنے، احتجاج کرنے یا کم از کم مذمت کرنے کے لیے بھی تیار نہ ہو تو پھر خوف ایک حقیقی حقیقت بن جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی صحافی دباؤ کا شکار ہو جائے تو اس کی کمزوری کم از کم سمجھ میں آتی ہے۔ ہندوستان کا میڈیا جو کبھی نسبتاً آزاد سمجھا جاتا تھا، وقت کے ساتھ “گودی میڈیا” کہلانے لگا، ایک ایسا میڈیا جو اقتدار کے سامنے سوال کرنے کے بجائے اس کے گیت گانے لگا۔
مگر سوال وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں خوف ختم ہو جاتا ہے۔
امریکہ اور یورپ جیسے معاشروں میں، جہاں آئین، عدالتیں، آزادیِ اظہار اور ادارہ جاتی تحفظ موجود ہیں، وہاں رہ کر آخر وہ کون سی مجبوری ہے کہ لوگ چند سو ڈالروں کے لیے اپنی صحافتی شناخت بیچ دیتے ہیں؟ کون سا ایسا جبر ہے جو انہیں خبر کے بجائے خوشامد پر مجبور کرتا ہے؟ اگر سو یا دو سو ڈالر ہی مقصد ہیں تو اتنی آمدنی تو ایک عام مزدور، ایک گیس اسٹیشن کا ملازم یا ایک ڈرائیور بھی عزت سے حاصل کر لیتا ہے۔ پھر آخر یہ کون سی نفسیاتی بھوک ہے؟ کون سا اندرونی خلا ہے؟ کون سی “دکھائی دینے” کی خواہش ہے کہ لوگ صحافی کہلانے کے شوق میں ہر اصول قربان کر دیتے ہیں؟
المیہ صرف یہ نہیں کہ صحافت کمزور ہو رہی ہے، المیہ یہ ہے کہ صحافت کا نام استعمال کر کے ایک اجتماعی دھوکہ تخلیق کیا جا رہا ہے۔
امریکہ میں آباد پاکستانی کمیونٹی کے ذرائع ابلاغ کو اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو ایک عجیب خاموشی نظر آتی ہے۔ درجنوں تنظیمیں، بے شمار انجمنیں، سینکڑوں نمائشی پلیٹ فارم، پچاسی سے زائد تجارتی انجمنیں، مگر ان کے سماجی اثرات، اندرونی سیاست، کمیونٹی میں پیدا ہونے والی بے چینی، تقسیم اور انتشار پر سوال کرنے والا میڈیا تقریباً ناپید ہے۔ بیشتر پلیٹ فارم خبر تخلیق نہیں کرتے، صرف تصاویر شائع کرتے ہیں۔ منتظم نے جو کہہ دیا، وہی “رپورٹنگ” بن جاتی ہے۔
یہ تلخ بات پوری دیانت کے ساتھ لکھی جانی چاہیے کہ اس شعبے میں موجود افراد کی ایک بڑی تعداد صحافت کے بنیادی اصولوں، خبر کی ساخت، تحقیقاتی طریقۂ کار، یا ادارتی ذمہ داری سے بھی پوری طرح واقف نہیں۔ ان کے پاس نہ مطالعے کی روایت ہے، نہ فکری تربیت، نہ میدانِ صحافت کی تاریخ۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ پچھلے بیس برس میں کون سی ایسی خبر انہوں نے سامنے لائی جس سے کمیونٹی کو نئی حقیقت معلوم ہوئی، کوئی طاقتور احتساب کے دائرے میں آیا، یا کسی مظلوم کی آواز سنی گئی، تو اکثر خاموشی چھا جاتی ہے۔
یہاں صحافت ایک پیشہ کم اور ایک سماجی لباس زیادہ بن چکی ہے۔ تصویر کھنچوا لینا، اسٹیج پر بیٹھ جانا، کسی تنظیم کے سربراہ کے ساتھ قربت پیدا کر لینا، اور پھر خود کو “میڈیا” کہنا، گویا یہی صحافت کا مکمل تصور رہ گیا ہے۔ حالانکہ خبر صرف وہ نہیں جو آپ کو بتائی جائے؛ خبر وہ ہوتی ہے جو کوئی طاقتور آپ سے چھپانا چاہتا ہو۔
جرمن نژاد ماہرِ نفسیات ایرک فروم نے لکھا تھا کہ جب معاشرہ مسلسل مصنوعی تسلیوں پر زندہ رہے تو وہ سچ سننے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ اسی طرح ماہرِ نفسیات وکٹر فرانکل کے مطابق انسان صرف روٹی سے نہیں، معنی سے زندہ رہتا ہے، اور صحافت اگر معنی پیدا کرنے کے بجائے صرف تعلقات عامہ کا آلہ بن جائے تو پھر معاشرے آہستہ آہستہ اندر سے کھوکھلے ہونے لگتے ہیں۔
تاریخ دان آرنلڈ ٹوائن بی نے تہذیبوں کے عروج و زوال کا مطالعہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ قومیں صرف بیرونی حملوں سے تباہ نہیں ہوتیں؛ وہ اس وقت زوال پذیر ہوتی ہیں جب ان کے اندر تنقیدی شعور مر جائے۔ جب سوال پوچھنا بدتمیزی سمجھا جائے، جب احتساب کو دشمنی کہا جائے، جب ہر تصویر خبر اور ہر تقریب کامیابی قرار پانے لگے، تو معاشرہ حقیقت سے کٹنا شروع ہو جاتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف صحافت کا نہیں، اجتماعی شعور کا ہے۔ کیونکہ جہاں خبر مر جاتی ہے وہاں افواہ زندہ ہو جاتی ہے، جہاں تحقیق ختم ہو جاتی ہے وہاں شخصیت پرستی جنم لیتی ہے، اور جہاں میڈیا طاقت کے سامنے خاموش ہو جائے، وہاں سماج آہستہ آہستہ اپنی فکری بینائی کھو دیتا ہے۔
صحافت کا اصل حسن طاقتور کے ساتھ کھڑے ہونے میں نہیں، طاقتور سے سوال کرنے میں ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو تاریخ میں صحافی اور درباری کے درمیان لکیر کھینچتا ہے۔

مزید پڑھیں