بلوچستان بحران: نعروں، طاقت اور اعتماد کے ٹوٹتے رشتوں کی کہانی
بلوچستان صرف ایک صوبہ نہیں، پاکستان کے وجود کا وہ زخم ہے جس پر دہائیوں سے مرہم کے بجائے پٹیاں باندھی جا رہی ہیں۔ ہر دھماکے کے بعد، ہر حملے کے بعد، ہر خون آلود واقعے کے بعد وہی بیانات، وہی مذمتی قراردادیں، وہی اسمبلیوں میں گونجتے نعرے، اور پھر خاموشی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اس آگ کو صرف نعروں سے بجھایا جا سکتا ہے؟ کوئٹہ میں دھماکہ ہوتا ہے، مسافر مرتے ہیں، عورتیں اور بچے خون میں نہا جاتے ہیں، پھر سیاسی قیادت سامنے آتی ہے اور “دہشت گردوں کو عبرتناک انجام” تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ یقیناً بے گناہ شہریوں پر حملہ انسانیت کے خلاف جرم ہے، اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ریاست اور سیاسی اشرافیہ صرف نتیجے پر بات کرتی ہے، اس آگ کی جڑ پر نہیں جس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ آج دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ بلوچستان کے پہاڑوں میں کیا ہو رہا ہے، یہ اب صرف بلوچستان تک محدود نہیں رہتا۔ چند گھنٹے پہلے کی ایک ویڈیو پوری دنیا میں گردش کرنے لگتی ہے جس میں بلوچ لڑکیاں اسلحہ چلانے اور جنگی تربیت حاصل کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ایک نوجوان لڑکی کیمرے کے سامنے کھڑے ہو کر اعلان کرتی ہے کہ “یہ جنگ ہے، اور ہم اپنے مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔ ہم اپنی زبان، اپنی ثقافت، اپنی زمین اور اپنی شناخت کے لیے جان دینے کو تیار ہیں۔” یہ جملے محض نعرے نہیں، ایک خوفناک سماجی تبدیلی کا اعلان ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی خطے میں عورتیں مسلح تحریکوں کا حصہ بننے لگیں، جب مائیں اپنے بیٹوں کو جنگ کے لیے تیار کرنے لگیں، جب نوجوان لڑکیاں خود کو قربانی کے لیے پیش کرنے لگیں، تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف “قانون و امان” کا نہیں رہا، وہ ایک گہری سیاسی، نفسیاتی اور قومی خلیج میں بدل چکا ہے۔ دنیا کی کئی تحریکوں میں خواتین سامنے آئیں۔ فلسطین سے سری لنکا تک، کرد تحریکوں سے لاطینی امریکہ تک، عورتوں کی شمولیت ہمیشہ اس بات کی علامت سمجھی گئی کہ تنازعہ معاشرے کی رگوں میں اتر چکا ہے۔ بلوچستان میں بھی اگر یہی منظر ابھر رہا ہے تو اسے صرف “بیرونی سازش” کہہ کر نظرانداز کرنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ کھڑا ہے کہ اگر واقعی سب کچھ قابو میں ہے تو پھر پورے پورے علاقے عملاً نو گو ایریاز کیوں بنتے جا رہے ہیں؟ ٹرینیں خوف کے سائے میں کیوں چلتی ہیں؟ سڑکیں غیر محفوظ کیوں ہیں؟ انٹرنیٹ بند کرنا کیوں معمول بن چکا ہے؟ لوگ اپنے ہی صوبے میں اجنبی کیوں محسوس کرتے ہیں؟ اور سب سے اہم، اگر یہ محض چند “شرپسندوں” کا مسئلہ ہے تو پھر پچیس برس بعد بھی آگ ٹھنڈی کیوں نہیں ہو سکی؟ اصل المیہ شاید یہی ہے کہ یہاں ہر مسئلے کا حل طاقت کو سمجھ لیا گیا ہے۔ بات کرنے کے بجائے دباؤ، مکالمے کے بجائے آپریشن، سیاسی اعتماد کے بجائے خوف۔ حالانکہ قومیں بندوق سے نہیں، اعتماد سے جڑی رہتی ہیں۔ ریاستیں صرف سرحدوں سے نہیں، دلوں سے قائم رہتی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ کا المیہ یہ بھی ہے کہ وہ دنیا بھر کے تنازعات پر ثالثی کی بات کرتی ہے، عالمی سفارتکاری میں کردار ڈھونڈتی ہے، مگر اپنے ہی ملک کے سب سے بڑے داخلی بحران پر سنجیدہ قومی مکالمہ کرنے سے گھبراتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث بننے کی خواہش رکھنے والے حکمران اگر اپنے ہی ناراض شہریوں سے بات کرنے پر آمادہ نہیں، تو یہ تضاد دنیا بھی دیکھتی ہے اور ملک کے نوجوان بھی۔ یہ حقیقت بھی تلخ ہے کہ بلوچستان میں برسوں سے ایسی حکومتیں بنتی رہی ہیں جنہیں عوام سے زیادہ طاقت کے مراکز کی نمائندہ سمجھا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی آخری ڈور بھی کمزور ہوتی گئی۔ اسمبلیوں میں بیٹھے لوگ بیانات تو دیتے ہیں مگر زمین پر لوگوں کو یہ احساس نہیں دے پاتے کہ واقعی کوئی ان کی آواز سن رہا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ریاست اپنی رٹ قائم کرنا چاہتی ہے۔ ہر ریاست چاہتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ رٹ صرف خوف سے قائم نہیں رہتی۔ اگر دلوں میں نفرت بڑھتی جائے، اگر نوجوان یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کی شناخت، وسائل، زبان اور مستقبل خطرے میں ہیں، تو پھر بندوق وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، پائیدار امن نہیں۔ بلوچستان کا مسئلہ محض سکیورٹی کا مسئلہ نہیں، یہ اعتماد، شناخت، اختیار، وسائل اور سیاسی شراکت کا مسئلہ ہے۔ اسے صرف فوجی یا خفیہ فائلوں میں بند کر کے حل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے کھلے دل، کھلے ذہن اور کھلے مکالمے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ تاریخ یہی کہتی ہے کہ قومیں اس وقت آگے بڑھتی ہیں جب وہ اپنے اختلافات کو سننا سیکھتی ہیں، نہ کہ صرف خاموش کرانا


