میں ایک اکیلا کیا کرسکتا ہوں ؟
میں ایک اکیلا کیا کرسکتا ہوں ؟
آفاق فاروقی
فرانسیسی مفکر Michel Foucault جن کا عالمگیر تصور/Knowledge / Power ہے ، سے ایک جہاں واقف ہے جو کہا کرتے تھے طاقت صرف حکومت میں ہی نہیں ہوتی ریاست کے ہر ادارے میں طاقت ہوتی ہے یہاں تک کہ میڈیا اسکول ہاسپٹل اور مذہبی اداروں کے ساتھ جیل جیسے اداروں میں بھی طاقت ہوتی ہے ، فوکو نے کبھی یہ بھی لکھا تھا
“سب سے کامیاب طاقت وہ ہوتی ہے جسے لوگ طاقت سمجھنا چھوڑ دیں”
یہ ایک جملہ نہیں، پوری تہذیب کا پوسٹ مارٹم ہے
کیونکہ جب انسان ظلم کو ظلم کہنا چھوڑ دے، جھوٹ کو تماشا سمجھ کر برداشت کرنے لگے، اور دھوکے کے ساتھ جینا سیکھ لے، تو پھر معاشرے ٹوٹتے نہیں، اندر سے گلنا شروع ہو جاتے ہیں،اور سب سے خطرناک بات یہ ہوتی ہے کہ انہیں اپنی سڑاند محسوس بھی نہیں ہوتی
یہ عجیب منظر ہے
اسٹیج پر کھڑا شخص جھوٹ بول رہا ہے
نیچے بیٹھا ہر شخص جانتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے
لوگ ایک دوسرے کے کان میں کہہ رہے ہوتے ہیں
“دیکھو کیسا فراڈ ہے…”
“سب ڈرامہ ہے…”
“ملک ،معاشرہ تباہ کر دیا…”
“یہ سب بکواس ہے…”
مگر پھر بھی تالیاں بج رہی ہوتی ہیں
لوگ قورمہ بریانی نان کلُچے سونُت رہے ہوتے ہیں
تصویریں بن رہی ہوتی ہیں۔
چہرے مسکرا رہے ہوتے ہیں
پھر یہی لوگ رات کو گھروں میں بیٹھ کر اسی نظام کو گالیاں دیتے ہیں
یہ منافقت سے بھی زیادہ خطرناک کیفیت ہے
یہ شکست خوردہ روحوں کا معاشرہ ہوتا ہے۔
جرمن ماہرِ نفسیات Erich Fromm نے کبھی کہا تھا
“اکثر انسان آزادی سے نہیں، آزادی کی ذمہ داری سے ڈرتا ہے۔”
انسان سچ اس لیے نہیں چھوڑتا کہ اسے جھوٹ پسند ہوتا ہے، بلکہ اس لیے چھوڑتا ہے کہ سچ کی قیمت ہوتی ہے،سچ تنہائی دیتا ہے، تعلقات توڑتا ہے، مفادات ختم کرتا ہے، دروازے بند کرتا ہے،انسان ظلم سے کم، اکیلا رہ جانے سے زیادہ ڈرتا ہے
یہیں سے غلامی شروع ہوتی ہے
غلامی ہمیشہ زنجیر سے نہیں آتی
کبھی یہ دعوتوں کی پلیٹوں میں آتی ہے
مطلب اس سارے معاملے میں بریانی
قورمے تکے کباب کا بڑا اہم کردار ہے
تو پھرکبھی نوکری کی شکل میں تو
کبھی تعلقات کی صورت میں
کبھی خوف کے ذریعے تو
کبھی اس خاموش جملے کے ذریعے
“چپ رہو، سب یہی کرتے ہیں۔”
جرمن فلسفی فیڈرک نطشے نے کہا تھا:
“جو لوگ زیادہ دیر تک غلامی میں رہتے ہیں، وہ آخرکار اپنی زنجیروں سے محبت کرنے لگتے ہیں”
یہ محبت اصل میں محبت نہیں ہوتی، یہ عادت ہوتی ہے
مسلسل بے بسی انسان کے اندر ایک نفسیاتی اضمحلال بوجھل پن پیدا کرتی ہے،پھر وہ سچ کو ناممکن سمجھنے لگتا ہے ،وہ تبدیلی پر ہنسنے لگتا ہے،وہ ہر سچے آدمی کو پاگل، جذباتی یا “غیر حقیقت پسند” کہنا شروع کر دیتا ہے
یہاں ایک بہت خوفناک سماجی بیماری جنم لیتی ہے
ہر شخص جانتا ہے کہ سب غلط ہے، مگر ہر شخص دوسرے کی خاموشی دیکھ کر خود بھی خاموش رہتا ہے، یہاں ہر وہ شخص باکردار میچورڈ کہلاتا ہے جو چپ ہے اور ہر بات پر ہاں میں سر ہلاتا ہے اور مسکراتا رہتا ہے
امریکی ماہر عمرانیات Floyd Henry Allport نے اس کیفیت کو اجتماعی خاموشی کی بیماری کہا تھا، جہاں لوگ اندر سے متفق ہوتے ہیں مگر باہر سے خاموش رہتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ شاید صرف وہی ایسا سوچ رہے ہیں
پھر جھوٹ اکثریت نہیں بنتا، صرف شور بن جاتا ہے۔
اور سچ اقلیت نہیں ہوتا، صرف خاموش ہو جاتا ہے
فرانسیسی مفکر جان پال سارتے نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا
“انسان آزاد ہونے کے لیے مجبور ہے، مگر اکثر لوگ اس آزادی سے بھاگتے ہیں۔”
کیونکہ آزادی کا مطلب ذمہ داری ہے
اور ذمہ داری کا مطلب خطرہ ہے
اسی لیے معاشرے ہجوم میں تبدیل ہو جاتے ہیں
ہجوم کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہاں فرد مر جاتا ہے
ہجوم سوچتا نہیں، بہتا ہے
وہ سوال نہیں کرتا، دہراتا ہے
وہ ضمیر سے نہیں، شور سے فیصلہ کرتا ہے
اسی لیے ہجوم میں بیٹھا ہوا شخص گھر جا کر کہتا ہے
“یہ سب دھوکہ ہے…”
مگر اگلے دن پھر اسی دھوکے کے جلسے میں موجود ہوتا ہے
امریکی ماہرِ نفسیات Stanley Milgram نے اپنے مشہور تجربات میں دکھایا تھا کہ عام انسان صرف اس لیے غلط کام کر جاتا ہے کیونکہ اسے حکم دینے والا طاقتور نظر آتا ہے،یعنی انسان اکثر سچ اور جھوٹ کا فیصلہ اخلاقیات سے نہیں، طاقت سے کرتا ہے
یہی وجہ ہے کہ لوگ ظالم سے کم، اس کی طاقت سے زیادہ مرعوب ہوتے ہیں
پھر مذہب کو استعمال کیا جاتا ہے۔
تقدس کو طاقت کی حفاظت پر لگا دیا جاتا ہے
سوال پوچھنے والے کو گستاخ کہا جاتا ہے
اختلاف کرنے والے کو فتنہ کہا جاتا ہے
خاموشی کو شرافت کہا جاتا ہے
اور یوں روحانی الفاظ کے ذریعے ذہنی غلامی پیدا کی جاتی ہے، کبھی کارل مارکس نے کہا تھا
“غالب نظریات ہمیشہ غالب طبقے کے نظریات ہوتے ہیں”
یعنی طاقت صرف حکومت نہیں کرتی، وہ سوچنے کا طریقہ بھی بناتی ہے
وہ یہ طے کرتی ہے کہ کون سی بات قابلِ قبول ہے، کون سی خطرناک ہے، کس پر تالیاں بجانی ہیں اور کس پر خاموش رہنا ہے
“شاید دنیا میں کوئی اور خطہ اتنی مستقل تاریخی غلامی کا شکار نہیں رہا جتنا یہ جنوبی ایشیائی خطہ رہا ہے،صدیوں سے ہر حملہ آور یہاں آیا، قبضہ کیا، حکومت کی، تہذیب مسلط کی، زبان بدلی، شناخت بدلی، اور یہ خطہ ہر بار کسی نہ کسی نئے آقا کے سامنے جھک گیا،حیرت کی بات صرف یہ نہیں کہ باہر والے اسے فتح کرتے رہے، بلکہ زیادہ خوفناک حقیقت یہ ہے کہ اس خطے نے خود بھی کبھی حقیقی آزادی کی نفسیات پیدا نہیں کی،ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہاں طاقت کا تصور ہمیشہ کسی کے غلام ہونے یا کسی کو غلام بنانے سے جڑا رہا ہو
یہاں انسان اپنے جیسے انسان کو زمین پر بٹھاتا ہے، الگ برتن دیتا ہے، نسل، ذات، خاندان اور پیشے کی بنیاد پر اس کی عزت کا فیصلہ کرتا ہے۔ یہاں محبت سے پہلے ذات پوچھی جاتی ہے، رشتے سے پہلے خاندان، اور انسان سے پہلے اس کا طبقہ دیکھا جاتا ہے،یہ صرف سماجی تقسیم نہیں، یہ روحانی بیماری ہے،ایسی بیماری جس میں انسان اپنی ذلت بھولنے کے لیے اپنے سے کمزور انسان کی تذلیل تلاش کرتا ہے
ایسے ہی کسی موقع کے لیے کبھی نطشے نے کہا تھا
“جو شخص بہت دیر تک ذلت میں زندہ رہے، وہ طاقت ملتے ہی رحم کھو دیتا ہے۔”
شاید اسی لیے اس خطے میں مظلوم کو انصاف نہیں چاہیے ہوتا، اسے صرف موقع چاہیے ہوتا ہے کہ کل وہ خود ظالم بن سکے،یہاں غلامی صرف حکمران اور محکوم کے درمیان نہیں، بلکہ گھر، خاندان، ذات، دفتر، سیاست، مذہب، معیشت، ہر جگہ بہتی ہے،ہر شخص اپنے اوپر والے کے سامنے جھکا ہوا ہے اور اپنے نیچے والے پر کھڑا ہوا ہے
یہ ایک خوفناک تہذیبی چکر ہے
جہاں انسان آزادی نہیں چاہتا،
صرف اپنے لیے چھوٹی سی بادشاہت چاہتا ہے
یہاں معیشت بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے
بھوک صرف روٹی کی نہیں ہوتی۔
بعض لوگ حیثیت کے بھوکے ہوتے ہیں
بعض تعلقات کے
بعض طاقت کے قریب رہنے کے
بعض دعوتوں، بریانی ، تصویروں، عہدوں اور شناخت کے
پھر انسان اپنی قیمت خود طے کر لیتا ہے
پہلے وہ سچ چھپاتا ہے
پھر جھوٹ برداشت کرتا ہے
پھر جھوٹ کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے
اور آخر میں جھوٹ کا محافظ بن جاتا ہے
اور یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں معاشرہ مرنا شروع ہوتا ہے
قومیں جنگوں سے کم، اجتماعی بزدلی سے زیادہ تباہ ہوتی ہیں
اطالوی فلاسفر انتویو گرامسی نے کہیں لکھا تھا
“پرانا نظام مر رہا ہوتا ہے مگر نیا پیدا نہیں ہو پاتا، اور اسی اندھیرے میں عفریت جنم لیتے ہیں”
یہ عفریت ہمیشہ انسان نہیں ہوتے
کبھی یہ خاموشی ہوتی ہے
کبھی مفاد
کبھی خوف
کبھی بے حسی
اور کبھی وہ تعلیم جو انسان کو سوچنے کے بجائے صرف تابع رہنا سکھاتی ہے
سب سے خوفناک منظر وہ نہیں جب ایک جھوٹا شخص اسٹیج پر کھڑا ہو
سب سے خوفناک منظر وہ ہے جب ہزار سچے لوگ نیچے بیٹھے ہوں اور خاموش ہوں
کیونکہ ظالم کی اصل طاقت اس کا ظلم نہیں ہوتا،
بلکہ اچھے لوگوں کی خاموشی ہوتی ہے
اور غلامی کا آغاز اسی لمحے ہوتا ہے جب انسان اپنے ضمیر سے یہ کہتا ہے
“ہاں، یہ سب غلط ہے…
مگر میں اکیلا کیا کر سکتا ہوں؟


