Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکالم / بلاگجان فدا مہم اور ایران میں اعتماد، اعداد و شمار اور ریاستی...

ٹرینڈنگ

جان فدا مہم اور ایران میں اعتماد، اعداد و شمار اور ریاستی بیانیے کی نئی کشمکش

جان فدا مہم اور ایران میں اعتماد، اعداد و شمار اور ریاستی بیانیے کی نئی کشمکش
صفیہ آفاق
ایران میں حالیہ دنوں شروع ہونے والی جان فدا مہم کو سرکاری طور پر قومی یکجہتی، بیرونی خطرات کے مقابلے اور عوامی استقامت کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے مگر اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ کیا یہ واقعی معاشرے کی حقیقی اجتماعی کیفیت کی عکاسی ہے یا محض ریاستی بیانیے کو مضبوط کرنے کی ایک نئی کوشش ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق اس مہم میں تین کروڑ دس لاکھ افراد کی شمولیت ایک غیر معمولی قومی ہم آہنگی کی دلیل ہے لیکن ناقدین اس دعوے کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اسے ایک ایسی علامتی فضا قرار دیتے ہیں جس کا مقصد اصل سماجی حقیقت کو عددی صورت میں بدل کر پیش کرنا ہے
ایران کی آبادی اگر نو کروڑ کے قریب سمجھی جائے تو اس دعوے کے مطابق ملک کا ایک بڑا حصہ اس مہم سے کسی نہ کسی شکل میں وابستہ ہو جاتا ہے مگر یہی نکتہ اس بحث کا مرکز بھی بن جاتا ہے کیونکہ سوال صرف تعداد کا نہیں بلکہ اس اعتماد کا ہے جس کے بغیر کوئی بھی عدد اپنی معنویت کھو دیتا ہے،ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے اعداد و شمار اکثر آزاد تحقیق یا شفاف سماجی سروے کے بجائے ریاستی اداروں کی تشریح پر مبنی ہوتے ہیں اور اسی لیے یہ حقیقت کم اور سیاسی تاثر زیادہ بن جاتے ہیں
اس پورے منظر نامے میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایران اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں معاشی دباؤ، اندرونی بے چینی، احتجاجی لہروں اور بیرونی کشیدگی نے ریاست اور معاشرے کے درمیان اعتماد کی فضا کو کمزور کر دیا ہے،ایسے ماحول میں جان فدا جیسی مہمیں صرف سماجی سرگرمی نہیں رہتیں بلکہ ایک سیاسی ضرورت بن جاتی ہیں جس کا مقصد یہ دکھانا ہوتا ہے کہ ریاست اکیلی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک بڑی اجتماعی قوت موجود ہے
اسی پس منظر میں یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ کیا یہ مہم ایران میں ایک نئی انقلابی تنظیمی ساخت کی بنیاد رکھ رہی ہے جو ماضی کی پاسداران اور بسیج جیسی روایات کو نئے انداز میں دہرانا چاہتی ہے یا یہ صرف پرانے انقلابی بیانیے کو نئے حالات میں دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش ہے،فرق یہ ہے کہ ماضی کا انقلابی ایران جنگ اور نظریاتی جوش کے زیر اثر تھا جبکہ آج کا ایران معاشی دباؤ، سماجی تقسیم اور نوجوان نسل کی بے اطمینانی کے ایک مختلف مگر گہرے تجربے سے گزر رہا ہے
اسی لیے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ ریاست ایک طرف قومی یکجہتی کا پیغام دے رہی ہے اور دوسری طرف معاشرے کے اندر موجود مختلف طبقات اس پیغام کو ایک جیسا قبول نہیں کر رہے،حکومت کے حامی اس مہم کو قومی استقامت اور اتحاد کی علامت قرار دیتے ہیں جبکہ مخالفین کے نزدیک یہ ایک ایسی کوشش ہے جو اصل سماجی حقیقت کو بیانیے کی طاقت سے تبدیل کرنا چاہتی ہے
اصل سوال بہرحال تعداد نہیں رہتا بلکہ اعتماد بن جاتا ہے کیونکہ اگر معاشرے اور ریاست کے درمیان اعتماد موجود ہو تو بڑے اعداد بھی قدرتی معلوم ہوتے ہیں لیکن اگر یہ اعتماد کمزور ہو تو پھر ہر بڑا دعویٰ سوالات کو جنم دیتا ہے ،اسی تناظر میں جان فدا مہم ایران کے اندر صرف ایک تنظیمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی اور سماجی سوال کی علامت بن جاتی ہے کہ ریاست اور معاشرہ ایک دوسرے کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں اور کیا وہ واقعی ایک ہی سمت میں کھڑے ہیں یا صرف ایک ہی تصویر کے دو مختلف زاویے بن چکے ہیں

مزید پڑھیں