Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکالم / بلاگسچل سرمست: وہ سچ جسے صدیوں نے عقیدت تو دی مگر اجتماعی...

ٹرینڈنگ

سچل سرمست: وہ سچ جسے صدیوں نے عقیدت تو دی مگر اجتماعی شعور نے خاموشی کے اندھیروں میں کہیں کھو دی

سچل سرمست: وہ سچ جسے صدیوں نے عقیدت تو دی مگر اجتماعی شعور نے خاموشی کے اندھیروں میں کہیں کھو دی
آفاق فاروقی
سچل سرمست: وہ سچ جو صدیوں سے گونج رہا ہے مگر اجتماعی یادداشت کی دیواروں پر خاموشی کی دھول نے اسے اداسی کے ساتھ ڈھانپ رکھا ہے، اور جہاں پنجاب کے بھلے شاہ و وارث شاہ کی صدا گونجتی رہی وہاں سندھ، بلوچستان اور سرحد کے صوفیوں کی آوازیں تاریخ کے حاشیے میں دھندلا دی گئیں، حالانکہ وہ بھی اسی عشق، امن اور انسان دوستی کے چراغ تھے جو اندھیروں کو معنی دیتے ہیں
سچل سرمست کی فکر اس روایت کا تسلسل ہے جو انسان کو مذہب، نسل اور شناخت سے اوپر اٹھا کر ایک ایسی سچائی کی طرف لے جاتی ہے جہاں صرف “انسان” باقی رہ جاتا ہے۔ ان کا سب سے مشہور فکری دائرہ یہ تھا کہ حقیقت ایک ہے، مگر اسے دیکھنے کے زاویے ہزار ہیں،وہ کہتے ہیں کہ اختلاف انسان کا ہے، مگر حقیقت کی اصل ایک ہی ہے،اسی لیے ان کے کلام میں ایک طرف شدید روحانی سرشاری ہے اور دوسری طرف ایک ایسی بے باکی بھی جو اپنے وقت کے رسمی مذہبی بیانیے سے ٹکرا جاتی ہے
ان کی ایک مشہور فکری سطر کا مفہوم یہ ہے
“میں نے ہر صورت میں حق کو دیکھا، کبھی مسجد میں، کبھی مندر میں، کبھی دل کے اندر”
ترجمہ: حقیقت کسی ایک عبادت گاہ یا شکل تک محدود نہیں، وہ ہر جگہ موجود ہے جہاں سچائی اور محبت ہو
ایک اور معروف خیال ان کے کلام میں یوں آتا ہے
“جو دل میں سچ رکھے وہی خدا کے قریب ہے”
ترجمہ: خدا کی قربت رسموں سے نہیں بلکہ اندرونی سچائی سے ملتی ہے
یہ وہی فکری دھارا ہے جس کے قریب مولانا جلال الدین رومی بھی جاتے ہیں جب وہ کہتے ہیں کہ عشق ہی اصل مذہب ہے، اور اسی طرح باروخ اسپینوزا فطرت اور خدا کو ایک حقیقت کے دو نام قرار دیتا ہے،مگر سچل کا انداز زیادہ مقامی، زیادہ زمینی اور زیادہ شاعرانہ ہے،وہ فلسفے کو اصطلاحوں میں نہیں بلکہ تجربے میں بیان کرتے ہیں
جنوبی ایشیا میں اگر دیکھا جائے تو بھلے شاہ، وارث شاہ اور دوسرے پنجابی صوفیاء کو ایک مضبوط ادبی اور ثقافتی شناخت ملی، ان کے کلام کو نصاب میں جگہ ملی، ان پر تحقیق ہوئی اور انہیں “ثقافتی علامت” بنایا گیا،مگر سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے صوفی مفکرین،جن میں سچل سرمست، شاہ عبداللطیف بھٹائی اور دیگر کئی نام شامل ہیں،اکثر قومی بیانیے کے مرکزی دھارے سے باہر رہے،یہ ایک خاموش عدم توازن ہے جس میں کچھ آوازیں بلند ہو گئیں اور کچھ فکری لہریں حاشیے میں چلی گئیں، حالانکہ ان سب کا پیغام ایک ہی تھا: محبت، برداشت اور انسان دوستی
شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری ہو یا سچل کی بے باک وحدت پسندی، یا پھر سرحد کے قبائلی خطوں میں صوفی روایت،یہ سب ایک ہی فکری سلسلے کی مختلف لہریں ہیں،لیکن جدید ریاستی بیانیہ، تعلیمی ترجیحات اور میڈیا کی مرکزیت نے اس تنوع کو وہ جگہ نہیں دی جو ایک قومی شعور میں اسے ملنی چاہیے تھی
پاکستان کے بعد کے ثقافتی منظرنامے میں صوفیاء کو اکثر “محفلِ موسیقی” یا “مزار کلچر” تک محدود کر دیا گیا، جبکہ ان کا اصل کردار ایک فکری انقلاب کا تھا۔ میڈیا نے انہیں ایک علامت کے طور پر تو لیا مگر ایک فلسفے کے طور پر کم پیش کیا،یہی وجہ ہے کہ سچل جیسے مفکر آج بھی عوامی سطح پر عقیدت کی حد تک تو موجود ہیں، مگر فکری مکالمے کا حصہ کم ہیں
ان کی زندگی سادہ تھی،درازہ شریف میں گوشہ نشینی، ذکر، اور شاعری،وہ کسی بیرونی سرزمین سے نہیں آئے تھے بلکہ اسی مٹی کی پیداوار تھے جس نے انہیں ایک آفاقی آواز بنا دیا،ان کے لیے اصل مسئلہ مذہب نہیں تھا، بلکہ انسان کی وہ تنگ نظری تھی جو محبت کو تقسیم میں بدل دیتی ہے
ان کی فکر آج بھی یہ سوال چھوڑتی ہے کہ اگر سچل، بھٹائی، بلھے شاہ اور وارث شاہ سب ایک ہی سچ کے مختلف لہجے تھے تو پھر کچھ لہجوں کو یاد رکھا گیا اور کچھ کو خاموشی کے پردے میں کیوں ڈال دیا گیا؟ اور کیا یہ ممکن نہیں کہ اب اس خاموشی کو توڑ کر ان سب صوفی آوازوں کو ایک برابر فکری مقام دیا جائے، تاکہ معاشرہ دوبارہ اس توازن کو پا سکے جو محبت اور برداشت سے جنم لیتا ہے

مزید پڑھیں