Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکالم / بلاگسیاسی سچ، انسانی حقوق اور جھوٹ کا طوفان: پاکستان کی سیاست کہاں...

ٹرینڈنگ

سیاسی سچ، انسانی حقوق اور جھوٹ کا طوفان: پاکستان کی سیاست کہاں کھڑی ہے؟

سیاسی سچ، انسانی حقوق اور جھوٹ کا طوفان: پاکستان کی سیاست کہاں کھڑی ہے؟
عامر فاروقی
پاکستانی سیاست اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں انسانی حقوق، سیاسی بیانیہ، اور حقیقت،تینوں ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ ایک طرف سابق وزیرِاعظم عمران خان کے حوالے سے یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ کیا انہیں انسانی حقوق کے معیار کے مطابق مکمل قانونی اور خاندانی رسائی حاصل ہے یا نہیں، رپورٹس اور دعوؤں کے مطابق انہیں تنہائی میں رکھا گیا ہے اور اہلِ خانہ، وکلا یا قریبی افراد سے ملاقاتوں میں سخت پابندیاں ہیں،یہ وہ پہلو ہے جسے انسانی حقوق کے تناظر میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا
انسانی حقوق کا بنیادی اصول یہ ہے کہ چاہے کوئی بھی سیاسی رہنما ہو، ریاستی اختیار ہو یا عدالتی عمل—آزادیِ ملاقات، منصفانہ ٹرائل اور شفاف قانونی رسائی کسی بھی قیدی کا حق ہے،اگر یہ حقوق محدود ہوں تو سوال صرف سیاست کا نہیں رہتا، یہ ریاستی اخلاقیات کا سوال بن جاتا ہے
لیکن دوسری طرف پاکستان کی سیاست کا ایک اور تلخ سچ بھی موجود ہے: بیانیہ اکثر اصولوں سے زیادہ جذبات اور وفاداری کے گرد گھومنے لگتا ہے،سیاستدان اگر کسی طاقت یا اسٹیبلشمنٹ کے سہارے آئیں تو اسے “قابلِ قبول حکمتِ عملی” کہا جاتا ہے، لیکن اگر مخالفین یہی کریں تو وہ “غداری” یا “سودے بازی” قرار دے دیے جاتے ہیں۔ یہ دہرا معیار جمہوری اخلاقیات کو کمزور کرتا ہے
یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر امیدواروں کی تقسیم، دولت مند طبقے کی شمولیت، اور طاقتور حلقوں سے قربت جیسے مسائل صرف ایک جماعت تک محدود نہیں،یہ پورے نظام کا مسئلہ ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ الزام ہمیشہ “دوسرے” پر جاتا ہے اور خود احتسابی تقریباً ختم ہو جاتی ہے، یہاں دکھ کا پہلو یہ ہے پاکستان میں اس وقت جو جماعت انصاف قانون ، جمہوریت آئین اور انسانی حقوق کی سربلندی کے لیے جددجہد کے دعوے کررہی ہے اس کے کارکن معاشرے میں جھوٹ دروغ گوئ اور بے جا لفاظی کا جیسے سمندر کھودنے پر لگے ہوئے ہیں ، عقیدت جوش کے ہاتھوں مجبور ہوکر ایسے ایسے بیانیے گڑھتے پھیلاتے ہیں کہ انسانی عقل ورطۂ حیرت میں پڑ جاتی ہے
حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پر مختلف دعوے، جعلی حوالہ جات اور سیاق و سباق سے ہٹائے گئے بیانات نے عوامی رائے کو شدید متاثر کیا ہے،مثال کے طور پر بعض مواقع پر معروف شخصیات جیسے کے بھارتی اداکار امیتابھ بچن کے فرضی یا مسخ شدہ انٹرویوز کو سیاسی حمایت کے طور پر پیش کیا گیا، حالانکہ اصل مواد میں ایسا کوئی ذکر موجود نہیں تھا،اب یہ رجحان صرف ایک جماعت نہیں بلکہ پورے سیاسی ماحول میں بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے
یہاں اصل سوال سیاست سے آگے چلا جاتا ہے: جب عوام سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا چھوڑ دیں، جب ہر بیانیہ عقیدے کی شکل اختیار کر لے، اور جب تنقید کو دشمنی سمجھا جانے لگے،تو جمہوریت صرف نعرہ رہ جاتی ہے، عمل نہیں رہتی
سیاسی فلسفہ ہمیں یہی بتاتا ہے کہ معاشرے اس وقت زوال کی طرف جاتے ہیں جب “سچ” دلیل سے نہیں بلکہ ہجوم کی آواز سے طے ہونے لگے،سقراط سے لے کر جدید سماجیات تک ایک اصول بار بار سامنے آتا ہے: غلط کو سچ بنانے کا سب سے بڑا ہتھیار جذباتی وفاداری ہے
اگر سیاسی کارکن تعلیم، تنقیدی سوچ اور اخلاقی خود احتسابی سے دور ہو جائے تو وہ رہنما نہیں بلکہ صرف ایک “نعرہ بردار ہجوم” بن جاتا ہے۔ اور ایسا ہجوم تاریخ میں کئی بار معاشروں کو تقسیم، انتشار اور عدم برداشت کی طرف لے گیا ہے، ماضی قریب میں اس کی بڑی تلخ مثال نازی جرمنوں کی ہے
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں سیاست کو دوبارہ اصولوں کی طرف لایا جائے،جہاں انسانی حقوق سب کے لیے برابر ہوں، جہاں احتساب انتخابی نہ ہو بلکہ اصولی ہو، اور جہاں سچ کو صرف اس لیے نہ دبایا جائے کہ وہ کسی کے بیانیے کے خلاف جاتا ہے
کیونکہ آخر میں ریاستیں طاقت سے نہیں، سچ، انصاف اور اخلاقی توازن سے قائم رہتی ہیں

مزید پڑھیں