خاموش خدا کا فلسفی: یورپ کا بلُھے شاہ اسپینوزا
خاموش خدا کا فلسفی: یورپ کا بلُھے شاہ اسپینوزا
آفاق فاروقی
اسپینوزا سترہویں صدی کے یورپ میں Baruch Spinoza ایک ایسے چراغ کی مانند تھے جو اندھیرے کے بیچ جل تو رہا تھا مگر اس کے گرد روشنی کے بجائے خوف کھڑا تھا،وہ زمانہ جب مذہب طاقت تھا، طاقت قانون تھی، اور سوال کرنا گویا اپنے وجود کو آگ کے حوالے کرنا تھا،ایسے میں اسپینوزاا کا ظاہر ہونا کسی عام فکری واقعے کی طرح نہیں بلکہ ایک خاموش بغاوت کی طرح تھا، ایسی بغاوت جو چیختی نہیں بلکہ سوچ بدل دیتی ہے
ان کی زندگی شروع ہی سے ایک کشمکش تھی، ایک طرف روایت تھی جو انہیں بند رکھنا چاہتی تھی، دوسری طرف وہ ذہن تھا جو ہر بندش کے اندر سے سوال پیدا کرتا تھا،انہیں جلد ہی اپنے مذہبی حلقے سے خارج کر دیا گیا، گویا وہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک خطرہ ہوں، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ جس سماج نے انہیں رد کیا، اسی سماج کے فکری ڈھانچے کو انہوں نے آنے والی صدیوں میں سب سے زیادہ متاثر کیا، کہ جیسے پنجاب میں بلھے شاہ نے انسان کو اندر جھانکنے کا راستہ دکھایا، ویسے ہی اسپینوزا نے یورپ میں انسان کو کائنات کے اندر خدا کو سمجھنے کی جرات دی، مگر اصل کہانی اسپینوزا کی اپنی زندگی اور ان کے فکری جہان کی ہے، جو اپنے اندر ایک مکمل انقلاب رکھتا ہے
تاریخ کبھی سیدھی لکیر نہیں ہوتی،یہ وقت کے مختلف ساحلوں پر بکھری ہوئی وہ آواز ہے جو کبھی پنجاب کی خاک میں صوفیوں کی صدا بن کر ابھرتی ہے اور کبھی یورپ کے علمی ہالوں میں فلسفے کی صورت گونجتی ہے،حیرت کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات دو انسان، جو صدیوں اور ہزاروں میل کے فاصلے پر ہوں، ایک ہی سوال کے گرد گھوم رہے ہوتے ہیں،
ایک طرف بلُھلے شاہ جو پنجاب کے قصور کے قریب ایک ایسے دور میں پیدا ہوئے جب مذہبی رسم و رواج اور سماجی طبقاتی بندھن انسان کے گرد ایک سخت دیوار کی طرح کھڑے تھے۔
دوسری طرف Baruch Spinoza جو سترہویں صدی کے نیدرلینڈز میں اس وقت جئے جب یورپ مذہبی اداروں، کلیسائی دباؤ اور فکری پابندیوں کی گرفت میں تھا
اسپینوزا کے زمانے میں فلسفہ صرف علمی مشق نہیں تھا، یہ ایک خطرناک عمل تھا، ان کے ہم عصر مفکرین میں سے کچھ نے انہیں شدت سے تنقید کا نشانہ بنایا، کچھ نے خاموشی اختیار کی، اور کچھ نے ان کے خیالات کو چھپ کر سمجھنے کی کوشش کی۔ لیکن وقت نے ایک عجیب فیصلہ کیا،جو شخص اپنے زمانے میں مسترد ہوا، وہی آنے والے زمانوں میں بنیاد بن گیا۔
لیبنز جیسے مفکر نے ان کے خیالات کو براہ راست قبول تو نہیں کیا مگر ان سے متاثر ہوئے بغیر بھی نہ رہ سکے،ان کے نظامِ فکر میں اسپینوزا کا اثر ایک چھپی ہوئی بازگشت کی طرح موجود رہا،فلسفے کی تاریخ میں یہ بات اکثر کہی جاتی ہے کہ اختلاف کبھی کبھی براہ راست قبولیت سے زیادہ گہرا اثر چھوڑتا ہے
بعد کے زمانے میں جب ہیگل آیا تو اس نے اسپینوزا کو فلسفے کی وہ بنیاد قرار دیا جسے نظر انداز کر کے کوئی بھی سنجیدہ فکری عمارت کھڑی نہیں کی جا سکتی، اس کے نزدیک اسپینوزا وہ پہلا قدم تھا جہاں فلسفہ جذبات یا روایت سے نکل کر خالص وجود کی طرف جاتا ہے، ہیگل کے الفاظ میں ان کا اثر ایسا تھا کہ جو شخص فلسفہ شروع کرتا ہے، وہ کہیں نہ کہیں اسپینوزا کے دروازے سے ضرور گزرتا ہے
انیسویں صدی میں نطشے نے بھی اسپینوزا کو غیر معمولی احترام کی نظر سے دیکھا،نطشے جو ہر فلسفی سے اختلاف کرتا تھا، مگر اسپینوزا کے بارے میں اس کا لہجہ بدل جاتا ہے، وہ انہیں اپنے پیش روؤں میں سب سے زیادہ قریبی محسوس کرتا تھا، گویا ایک ایسا شخص جو خدا کو رد نہیں کرتا بلکہ خدا کے تصور کو اس طرح بدل دیتا ہے کہ پرانی تعریف خود بخود بے معنی ہو جاتی ہے
بیسویں صدی میں آئن سٹائن نے بھی جب خدا کے بارے میں بات کی تو اس کی زبان میں اسپینوزا کی جھلک واضح تھی، وہ خدا کو شخصی حکم دینے والی ہستی کے بجائے کائنات کی ہم آہنگی اور قانون میں دیکھتا تھا،یہ تصور براہ راست اسی فکری دھارے سے جڑا ہوا تھا جس کی بنیاد اسپینوزا نے رکھی تھی،آئن سٹائن کے نزدیک یہ دنیا کسی خوف کے نظام پر نہیں بلکہ ایک گہری عقلی ترتیب پر قائم ہے، اور یہ خیال اسپینوزا کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا
اسپینوزا کا سب سے بڑا انقلابی پہلو یہ تھا کہ انہوں نے خدا کو آسمان سے اتار کر کائنات میں ہر ہر سُو پھیلا دیا،ان کے نزدیک خدا کوئی الگ ذات نہیں بلکہ خود وجود کی وہی حقیقت ہے جو ہر چیز میں جاری ہے،یہ تصور اس زمانے میں اتنا خطرناک تھا جیسے امام غزالی کا دور لوٹ آیا ہو کہ جب فلسفہ یا اس سے جڑی ہر بات روایت حرام تھی ، اسپینوزا کو بھی صرف فلسفہ نہیں بلکہ عقیدے کے لیے بھی خطرہ سمجھا گیا
ان کی زندگی کا ایک اور پہلو جو انہیں مزید انسانی اور دردناک بناتا ہے وہ ان کی تنہائی ہے،وہ ایک سادہ زندگی گزارتے رہے، معمولی آمدنی کے لیے عدسے تراشتے رہے، مگر ان کے ذہن میں کائنات کے سب سے بڑے سوال چلتے رہے،وہ دنیا کے ہجوم میں موجود نہیں تھے مگر فکر کی دنیا میں سب سے زیادہ موجود تھے
ان کے خیالات میں ایک عجیب سی اداسی بھی ہے اور ایک خاموش رومانس بھی،اداسی اس بات کی کہ انسان اپنے خوف میں قید ہے، اور رومانس اس بات کا کہ یہی انسان ایک دن اس خوف سے آزاد ہو سکتا ہے،ان کے لیے آزادی کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک اندرونی کیفیت تھی، جہاں انسان حقیقت کو بغیر ڈر کے دیکھ سکے
ان کے زمانے کے لوگ انہیں سمجھ نہ سکے، مگر وقت نے ان کے ساتھ انصاف کیا،ان کی موت کے بعد ان کے خیالات آہستہ آہستہ یورپ کے فلسفیانہ نظام میں جذب ہوتے گئے،کبھی براہ راست، کبھی رد کی صورت میں، مگر اثر ہمیشہ موجود رہا
اگر اسپینوزا کو ایک جملے میں سمیٹنا ہو تو شاید کہا جا سکتا ہے کہ وہ ،وہ شخص تھے جنہوں نے خدا کو انسان کے باہر نہیں بلکہ کائنات کے اندر تلاش کیا، اور انسان کو یہ سکھایا کہ حقیقت کو سمجھنے کے لیے خوف کو نہیں بلکہ شعور کو اپنانا پڑتا ہے
اور شاید یہی وجہ ہے کہ صدیوں بعد بھی ان کی فکر ایک خاموش سوال کی طرح زندہ ہے
کیا ہم حقیقت کو دیکھ رہے ہیں، یا صرف اپنے خوف کو حقیقت سمجھ بیٹھے ہیں؟


