Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکینیڈاکینیڈا میں ایک اور علیحدگی تحریک پھوٹ پڑی، پھر ریفرنڈم کی تیاریاں

ٹرینڈنگ

کینیڈا میں ایک اور علیحدگی تحریک پھوٹ پڑی، پھر ریفرنڈم کی تیاریاں

کینیڈا میں ایک اور علیحدگی تحریک پھوٹ پڑی، پھر ریفرنڈم کی تیاریاں

رپورٹ: عامر آرائیں

کینیڈا کی تاریخ میں پہلی بار صوبہ البرٹا ایک ایسے ریفرنڈم کی طرف بڑھ رہا ہے جس نے پورے ملک میں سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ صوبے کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے اعلان کیا ہے کہ اکتوبر 2026 میں البرٹا کے عوام سے ایک اہم سوال پوچھا جائے گا کہ آیا صوبہ کینیڈا کا حصہ رہے یا مستقبل میں علیحدگی کے لیے باضابطہ آئینی عمل شروع کیا جائے۔
ریفرنڈم میں عوام سے تقریباً یہ سوال پوچھا جائے گا:
“کیا البرٹا کینیڈا کا صوبہ برقرار رہے یا حکومتِ البرٹا آئینِ کینیڈا کے تحت علیحدگی پر ایک بائنڈنگ ریفرنڈم کے قانونی عمل کا آغاز کرے؟”
یہ براہِ راست آزادی کا ووٹ نہیں ہوگا بلکہ “آزادی کے لیے مستقبل کے ریفرنڈم” کے آغاز پر ووٹ ہوگا، اسی وجہ سے اس سوال پر شدید بحث ہو رہی ہے اور بہت سے لوگ اسے پیچیدہ اور مبہم قرار دے رہے ہیں۔
البرٹا میں علیحدگی پسند جذبات کوئی نئی بات نہیں، مگر حالیہ برسوں میں یہ تحریک زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ البرٹا کی معیشت زیادہ تر تیل اور گیس پر منحصر ہے، جبکہ بہت سے البرٹنز سمجھتے ہیں کہ وفاقی حکومت، خاص طور پر سابق لبرل حکومتوں کی ماحولیاتی پالیسیوں نے صوبے کے انرجی سیکٹر کو نقصان پہنچایا۔
البرٹا کے لوگوں کا مؤقف ہے کہ وہ کینیڈا کی معیشت کو بہت زیادہ ٹیکس اور وسائل فراہم کرتے ہیں لیکن بدلے میں وفاقی حکومت صوبے کے مفادات کا خیال نہیں رکھتی۔ پائپ لائن منصوبوں اور آئل انڈسٹری پر پابندیوں سے بھی صوبے کی معیشت متاثر ہوئی۔
وفاقی حکومت سے ناراضی کی ایک اور وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ بہت سے قدامت پسند ووٹرز سمجھتے ہیں کہ اوٹاوا میں فیصلے مشرقی کینیڈا کے فائدے کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ البرٹا کی سیاسی آواز کمزور ہے اور وفاقی پالیسیاں مغربی صوبوں پر زبردستی مسلط کی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ “ویگزٹ” یعنی “ویسٹرن ایگزٹ” جیسی تحریکیں سامنے آئیں۔
حکومتِ البرٹا نے حالیہ برسوں میں ایسے قوانین بھی منظور کیے جن سے ریفرنڈم کرانا آسان ہو گیا۔ بل 54 کے ذریعے دستخطوں کی حد کم کی گئی، عوامی پٹیشن کے عمل کو آسان بنایا گیا اور ریفرنڈم کے لیے زیادہ وقت دیا گیا، جس کے بعد علیحدگی پسند گروپوں نے لاکھوں دستخط جمع کیے۔
علیحدگی پسند تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے تقریباً 300,000 سے زیادہ دستخط جمع کیے ہیں، تاہم سرویز کے مطابق اب بھی اکثریت مکمل علیحدگی کے حق میں نہیں۔ اندازاً 30 سے 40 فیصد افراد کسی نہ کسی شکل میں علیحدگی یا زیادہ خودمختاری چاہتے ہیں۔
کینیڈا کے کئی مقامی قبائل یا فرسٹ نیشنز گروپس اس ریفرنڈم کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے تاریخی معاہدے براہِ راست کینیڈا کے کراؤن کے ساتھ ہیں، اور اگر البرٹا الگ ہوا تو ان کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے عدالت میں مقدمات بھی دائر ہوئے اور ایک جج نے پہلے علیحدگی کی پٹیشن روک دی تھی۔
ڈینیئل اسمتھ خود کہتی ہیں کہ وہ کینیڈا میں رہنے کی حامی ہیں، لیکن ان کے مطابق عوام کو فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ دوسری طرف کچھ علیحدگی پسند ان سے ناراض ہیں کیونکہ وہ فوری آزادی کا ووٹ نہیں کروا رہیں، جبکہ مخالفین کہتے ہیں کہ وہ خطرناک سیاست کھیل رہی ہیں۔
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ البرٹا کینیڈا کے لیے انتہائی اہم ہے اور ملک کو متحد رکھنے کی کوشش جاری رہے گی۔ وفاقی حکومت اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے کیونکہ اس سے ملکی اتحاد، عالمی سرمایہ کاری اور معاشی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر البرٹا الگ ہوا تو یہ عمل انتہائی پیچیدہ ہوگا۔ اہم سوالات میں کرنسی، فوج، پاسپورٹ، آئل ریونیو کی تقسیم، امریکا اور کینیڈا کے ساتھ تجارت، اور مقامی قبائل کے معاہدوں کا مستقبل شامل ہیں۔ کینیڈین آئین کے مطابق کسی صوبے کی علیحدگی آسان نہیں اور اس کے لیے وفاقی مذاکرات، آئینی تبدیلیاں اور ممکنہ طور پر قومی سطح کے فیصلے درکار ہوں گے۔
پورے کینیڈا میں اس موضوع پر شدید بحث جاری ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ البرٹا کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور صوبے کو زیادہ خودمختاری ملنی چاہیے، جبکہ دوسرے کہتے ہیں کہ یہ صرف سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے جس سے معیشت اور سرمایہ کاری کو نقصان ہوگا اور ملک میں تقسیم بڑھے گی۔
سوشل میڈیا اور Reddit پر بھی لوگ اس سوال کو “Confusing Referendum” قرار دے رہے ہیں۔
اہم تاریخ:
متوقع ریفرنڈم: 19 اکتوبر 2026
مقام: البرٹا
نوعیت: نان بائنڈنگ ریفرنڈم
مقصد: مستقبل کے علیحدگی ریفرنڈم کے عمل پر عوامی رائے لینا
البرٹا کا یہ ریفرنڈم صرف ایک صوبائی سیاسی معاملہ نہیں بلکہ پورے کینیڈا کے مستقبل، قومی اتحاد، معیشت اور آئینی نظام کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔ اگرچہ ابھی مکمل علیحدگی کے امکانات کم سمجھے جا رہے ہیں، مگر یہ واضح ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے، مغربی کینیڈا میں بے چینی موجود ہے، اور آنے والے مہینے کینیڈین سیاست کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے اس سے قبل کیوبک میں علیحدگی کی تحریک کے نتیجے میں دو بار ریفرنڈم ہو چکا ہے جہاں فرانسیسی بولنے والے شہریوں کی اکثریت ہے اور جن کی ایک بڑی تعداد کینیڈا سے علیحدگی اختیار کر کے نئے ملک کے قیام کی کوشش کر رہی تھی، تاہم انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

مزید پڑھیں