Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکالم / بلاگکراچی سندھ سے فارغ

ٹرینڈنگ

کراچی سندھ سے فارغ

کراچی سندھ سے فارغ
فاروق احمد
اٹھائیسویں ترمیم بہترین قومی مفاد میں آئین کا حصہ بن جائے گی ۔ اور اس کے نتیجے میں کراچی براہ راست وفاق کے زیر انتظام آ جائے گا جیسے سنہ سینتالیس سے سنہ ساٹھ تک تھا ۔ یعنی اب سیاسی دارالحکومت اسلام آباد اور معاشی دارالحکومت کراچی ۔۔ بزبان جالب ، مسئلہ سارا اقتصادی ھے ۔۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا ریوینیو جنریٹر ھے ۔۔ اٹھارویں ترمیم سے ریوینو صوبوں کے پاس چلا گیا ھے، وفاق یعنی کمپنی بہادر کو یہ کب گوارا تھا لیکن کیانی کو لارے دے کر بابا زرداری نے منوا لیا۔ اب اٹھارویں ترمیم کو چھیڑنا ویسا ہی ھے جیسا کالا باغ کو ۔۔ متبادل حل یہی ٹھہرا کہ کراچی کو وفاق کے زیر انتظام کر دیا جائے ۔ اس طرح مرکزی ریوینیو جنریٹر کا سارا ٹیکس کلکشن وفاق کو مل جائے گا ۔۔
دوسری بات یہ کہ سندھ کے سیدوں نے کراچی کا جو حال کیا اس نے وفاق (کمپنی) کو مفت کا ایک بڑا جواز بھی فراہم کر دیا . سندھ حکومت نے کراچی سے جو نسلی امتیاز برتا (حالانکہ بقول شخصے کراچی اب مہاجر نہیں رہا) وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ نسلی نفرت انڈے بچے دیتی ہے اور اس نے دیئے ۔ سندھ میں کرپٹ سرکاری اہلکاروں نے ہر سطح پر لوٹ مار اور کرپشن اور مال غنیمت کی چھینا جھپٹی کا وہ بازار گرم کیا کہ خدا کی پناہ ۔ ایسا لگتا ھے کہ سندھ میں سرکاری افسران کراچی میں اپنی پوسٹنگ کرواتے ہی اس لیے ہیں کہ صدیوں کی محرومی مٹا سکیں اور جتنا بھر سکتے ہیں بھر کر لے جائیں ۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ “غیر اہم اور مہاجر اقلیت” بالکل ہی فرنٹ ہوگئی اور اب اس نسل پرستی کے دباؤ سے نکلنے کے لیے وفاق کو ویلکم کرتی نظر آتی ھے ۔۔۔
تیسری بات یہ کہ حالیہ ایام میں جس فیکٹر نے اس عمل میں کیٹالسٹ کا کردار ادا کیا اور کراچی کو وفاق کی عملداری میں لانے کے پروسس کو مہمیز دی وہ خطے کی تازہ ترین صورتحال میں گوادر اور کراچی کی بڑھتی ہوئی اہمیت ھے ۔ کراچی گوادر کوسٹل ہائی وے فوج کے کنٹرول میں ھے اور پاکستان کا واحد راستہ ہے جہاں انڈین را کی سرپرستی میں چلنے والی نام نہاد بلوچ انسرجنسی کا عمل دخل کم ترین یا برائے نام اثر رکھتا ھے ۔۔ چھیاسٹھ سال بعد کراچی عملی طور پر دارالحکومت کا کردار ادا کرنے واپس آ رہا ھے جہاں سے اسٹریٹجکلی وفاق براہ راست گوادر تجارت کو محفوظ اور کنٹرول کرے گا ۔۔۔
اور آخری بات یہ ھے بھیا کہ اس سب کھیل میں میرا کوئی ہاتھ نہیں ھے اور نہ میری “خدمات” کے صلے میں کراچی کا نام وفاق میرے نام پر فاروق آباد رکھ دے گا ۔ میں تو جو دیکھتا ہوں بتا دیتا ہوں ۔ لہٰذا مجھ سے نہ الجھیے نہ کمنٹس اور انباکس میں گالیاں بکنے تشریف لایئے ۔ مجھے یہ نہ بتایئے کہ کس کے باپ میں اور کس مائی کے لال میں کتنا دم ہے اور کس کی لاش سے گزر کر ایسا ہو سکے گا یا نہیں ہو سکے گا ۔ اپنی قوم پرستی ، نسل پرستی ، دھرتی سے محبت اور اجداد کا دم اپنے پاس رکھیے ۔ میری تحریریں پسند نہیں آتیں بری لگتی ہیں تو یہ آپ کا مسئلہ ھے ۔ میری بلا سے ۔۔

مزید پڑھیں