Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکالم / بلاگروح کی بغاوت: بلُھے شاہ پنجاب کی مٹی، سندھ کی صدا اور...

ٹرینڈنگ

روح کی بغاوت: بلُھے شاہ پنجاب کی مٹی، سندھ کی صدا اور انسان کی ابدی تلاش

روح کی بغاوت: بلُھے شاہ پنجاب کی مٹی، سندھ کی صدا اور انسان کی ابدی تلاش
آفاق فاروقی
پنجاب کی مٹی میں ایک عجیب خاصیت ہے، یہاں گندم صرف کھیتوں میں نہیں اگتی، یہاں فکر بھی اگتی ہے، بغاوت بھی، عشق بھی، اور وہ دکھ بھی جو انسان کو انسان کے قریب لے آتا ہے،اسی مٹی سے ایک آواز اٹھی تھی جو مسجد اور مندر کے درمیان نہیں، انسان کے اندر گونجتی تھی،وہ آواز بلھے شاہ کی تھی
بلھے شاہ صرف ایک صوفی شاعر نہیں تھے، وہ برصغیر کے اس تہذیبی شعور کی علامت تھے جس نے مذہب کو نفرت کے بجائے محبت سے سمجھا، اور انسان کو عقیدے سے پہلے انسان مانا
انہوں نے پنجاب، سندھ، سرائیکی وسیب اور وادیٔ سندھ کی اس ہزاروں برس پرانی تہذیب کو اپنی شاعری میں زندہ کیا، جس میں دھرتی، دریا، بانسری، دھمال، عورت، کسان، جوگی، فقیر، سب ایک ہی کائناتی وحدت کا حصہ دکھائی دیتے ہیں
بلھے شاہ کی سب سے بڑی بغاوت یہی تھی کہ انہوں نے خدا کو کتابوں سے نکال کر انسان کے دل میں تلاش کیا
وہ کہتے ہیں
“مسجد ڈھا دے، مندر ڈھا دے،
ڈھا دے جو کچھ ڈھندا
پر کسی دا دل نہ ڈھاویں
رب دلاں وچ رہندا”
یہ صرف شاعری نہیں، پورا فکری انقلاب ہے
اور ایک جگہ وہ انسان کی اصل شناخت کے تمام مصنوعی خانوں کو توڑتے ہوئے کہتے ہیں:
“بلھیا کیہ جاناں میں کون”
یہ سوال دراصل مذہب، نسل، ذات، فرقے اور سماجی شناخت کے اس پورے نظام کے خلاف بغاوت تھا جو انسان کو انسان سے جدا کرتا ہے
وادیٔ سندھ کی تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے،یہاں صدیوں سے مذاہب آتے رہے، سلطنتیں بنتی رہیں، حملہ آور گزرتے رہے، مگر اس دھرتی نے ایک چیز ہمیشہ محفوظ رکھی ، وہ تھی انسان دوستی
یہی وجہ ہے کہ یہاں کے صوفیاء نے مذہب کو طاقت کے بجائے محبت کا ذریعہ سمجھتے تھے سندھ میں سچل سرمست پنجاب میں وارث شاہ اور بلھے شاہ قصور میں سب ایک ہی قافلے کے مسافر تھے
یہ لوگ دراصل اس تہذیب کے محافظ تھے جو انسان کو مذہب سے پہلے روح سمجھتے تھے
بلھے شاہ نے کبھی مذہب کی نفی نہیں کی، بلکہ مذہب کے نام پر قائم جبر کی مخالفت کی،یہی فرق انہیں محض باغی نہیں بلکہ ایک روحانی مفکر بناتا ہے
بلھے شاہ کے زمانے میں مذہب صرف روحانی معاملہ نہیں رہا تھا، بلکہ اقتدار کا ذریعہ بن چکا تھا،علماء، جاگیردار اور سیاسی طاقتیں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی تھیں
بلھے شاہ نے اس نظام کے سامنے سوال کھڑا کیا
وہ کہتے ہیں
“علموں بس کری او یار
اک الف تیرے درکار”
یعنی انسان اگر محبت اور انسانیت نہ سیکھ سکے تو محض کتابی علم اسے سچائی تک نہیں پہنچا سکتا
انہوں نے اپنے مرشد شاہ عنایت قادری کو صرف روحانی استاد نہیں مانا بلکہ سماجی طبقاتی نظام کے خلاف ایک اعلان بنا دیا،ایک سید گھرانے کے فرد کا ایک باغبان خاندان سے تعلق رکھنے والے شخص کے سامنے جھک جانا اُس زمانے کے سماج کے لیے ناقابلِ برداشت تھا
اسی لیے انہیں مخالفت، تنقید اور سماجی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا
رقص، دھمال اور روح کی آزادی
بلھے شاہ کی زندگی کا ایک اہم واقعہ وہ ہے جب انہیں اپنے مرشد کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑا،روایتوں میں آتا ہے کہ انہوں نے عورتوں کا لباس پہن کر ناچتے ہوئے اپنے مرشد سے معافی مانگی
ظاہر پرست لوگوں نے اسے تماشا سمجھا
مگر دراصل وہ انا کے جنازے کا رقص تھا
صوفی روایت میں دھمال صرف رقص نہیں، “میں” کے خاتمے کی علامت ہے،بلھے شاہ اپنے نفس کو توڑ رہے تھے، اپنی سماجی شناخت کو جلا رہے تھے، تاکہ صرف عشق باقی رہ جائے
وہ کہتے ہیں
“رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی
سدّو مینوں دھیدو رانجھا، ہیر نہ آکھو کوئی”
یہ صرف رومانوی استعارہ نہیں، بلکہ انسان کے اپنے وجود کو کائنات میں تحلیل کر دینے کا فلسفہ ہے
بلھے شاہ کی زندگی کی طرح ان کی موت بھی تنازع، خوف اور فکری کشمکش کی علامت بن گئی
روایتوں کے مطابق جب ان کا انتقال ہوا تو بعض مذہبی حلقوں نے ان کا جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا،ان پر اعتراض یہ تھا کہ وہ رقص کرتے تھے، موسیقی سنتے تھے، دھمال ڈالتے تھے، اور مذہب کو سخت ظاہری حدود میں قید نہیں مانتے تھے
کچھ روایات میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ انہیں سماجی طور پر الگ تھلگ کیا گیا، یہاں تک کہ ان کی فکر کو “گمراہی” قرار دیا گیا،مگر وقت کا سب سے بڑا طنز یہی تھا کہ وہی شخص بعد میں پورے پنجاب کی روحانی شناخت بن گیا،
یہ واقعہ صرف ایک جنازے کا تنازع نہیں تھا
یہ دراصل اس سماج کا خوف تھا جو آزاد روحوں سے ہمیشہ ڈرتا آیا ہے
مگر تاریخ کا انصاف دیکھیے
جنہوں نے انہیں دفنانے سے ہچکچاہٹ دکھائی، آج انہی کی نسلیں ان کے مزار پر حاضری دیتی ہیں پ
آج دنیا خود کو جدید، آزاد خیال اور روشن فکر کہتی ہے، مگر انسان پہلے سے زیادہ تنہا ہے،مشینیں بڑھ گئی ہیں، مگر دل سکڑ گئے ہیں
بلھے شاہ آج بھی اس لیے زندہ ہیں کیونکہ انہوں نے انسان کے اس ابدی خلا کو پہچان لیا تھا
جرمن مفکر نطشے نے کہا تھا
“جس کے پاس جینے کی کوئی وجہ ہو، وہ تقریباً ہر دکھ برداشت کر لیتا ہے۔”
بلھے شاہ اس “وجہ” کو عشق کہتے تھے،جلال الدین رومی نے کہیں لکھا
“زخم وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی داخل ہوتی ہے۔”
بلھے شاہ کی پوری شاعری دراصل اسی زخم کی تفسیر ہے
اور کبھی ہندوستان کے عظیم دانشور رابندر ناتھ ٹیگور نے کہا تھا
“میں نے خدا کو مندروں میں تلاش کیا، مگر وہ مجھے انسان کے دل میں ملا۔”
یہی بلھے شاہ کا فلسفہ تھا
بلھے شاہ: مذہب کے خلاف نہیں، نفرت کے خلاف تھے
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بلھے شاہ مذہب دشمن نہیں تھے۔ وہ اس مذہب کے خلاف تھے جو انسان کو انسان سے جدا کرتا ہے
ان کے نزدیک اصل عبادت انسان کے اندر روشنی پیدا کرناتھی
اسی لیے وہ آج کے زمانے میں بھی اہم ہیں، کیونکہ دنیا پھر سے شناختوں، نفرتوں، فرقوں اور سیاسی جنون میں تقسیم ہو رہی ہے
بلھے شاہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تہذیب صرف عمارتوں سے نہیں بنتی، دلوں سے بنتی ہے
قصور کی گلیوں میں دفن وہ فقیر شاید مر چکا ہو، مگر اس کی آواز ابھی تک زندہ ہے
جب بھی کوئی انسان مذہب کے نام پر نفرت سے انکار کرتا ہے، وہاں بلھے شاہ موجود ہوتے ہیں
جب کوئی نوجوان اپنی شناخت کے بحران میں یہ پوچھتا ہے کہ “میں کون ہوں؟” تو بلھے شاہ اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں
اور جب اس خطے کی دھرتی، سندھ کے دریا، پنجاب کے کھیت، سرائیکی وسیب کی شامیں اور انسان کی مضمحل اداس روحیں ایک دوسرے کو پکارتی ہیں، تو کہیں دور سے ایک آواز آتی ہے:
“بُلھا شاہ اساں مرنا ناہیں
گور پیا کوئی ہور”
یہ صرف شاعری نہیں
یہ ایک تہذیب کی ابدی سانس ہے

مزید پڑھیں