امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا پر ممکنہ ٹیرف اور تجارتی دباؤ کی دھمکیوں کے بعد کینیڈا بھر میں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا پر ممکنہ ٹیرف اور تجارتی دباؤ کی دھمکیوں کے بعد کینیڈا بھر میں “بائے لوکل” یعنی مقامی مصنوعات خریدنے کی تحریک نے زور پکڑ لیا، مگر اب ایک نیا مسئلہ سامنے آ گیا ہے۔ کینیڈین صارفین اور کاروباری حلقے اس بات پر پریشان ہیں کہ مارکیٹ میں کئی مصنوعات کی اصل شناخت واضح نہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے کہ کون سی چیز واقعی “کینیڈین” ہے اور کون سی نہیں۔ رپورٹ کے مطابق جب سے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی بڑھی ہے، بہت سے کینیڈین شہری امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے مقامی مصنوعات خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سپر مارکیٹس، گروسری اسٹورز اور آن لائن پلیٹ فارمز پر “میڈ اِن کینیڈا” اور “پروڈکٹ آف کینیڈا” کے لیبلز کی مانگ بڑھ گئی ہے۔ تاہم اب صارفین شکایت کر رہے ہیں کہ کئی اشیاء پر لگے لیبلز مبہم ہیں اور بعض اوقات مصنوعات جزوی طور پر امریکہ یا دوسرے ممالک میں تیار ہو کر صرف پیکنگ کینیڈا میں کی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ “پروڈکٹ آف کینیڈا” اور “میڈ اِن کینیڈا” میں قانونی فرق موجود ہے۔ اگر کسی چیز کے زیادہ تر اجزاء اور پیداوار کینیڈا میں ہو تو اسے “پروڈکٹ آف کینیڈا” کہا جاتا ہے، جبکہ بعض مصنوعات صرف آخری مرحلے میں کینیڈا میں پیک یا اسمبل ہونے کے باوجود “میڈ اِن کینیڈا” کہلا سکتی ہیں۔ یہی فرق اب صارفین میں الجھن پیدا کر رہا ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں اور ٹیرف کی دھمکیوں نے کینیڈین معیشت میں ایک نئی قوم پرستانہ خریداری مہم کو جنم دیا ہے۔ کئی صوبوں میں امریکی مصنوعات کے خلاف جذبات میں اضافہ دیکھا گیا، حتیٰ کہ بعض لوگوں نے امریکی اسٹریمنگ سروسز، شراب اور دیگر مصنوعات کا بھی بائیکاٹ شروع کر دیا۔ کینیڈین کاروباری اداروں نے اس صورتحال کو ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا ہے۔ مقامی کمپنیوں نے “سپورٹ کینیڈین بزنسز” اور “بائے کینیڈین اِن سٹیڈ” جیسی مہمات شروع کیں تاکہ مقامی معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ تاہم تاجروں کا کہنا ہے کہ کینیڈا کی معیشت ابھی بھی امریکی سپلائی چین سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہے، اس لیے مکمل طور پر امریکی مصنوعات سے الگ ہونا آسان نہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کئی صارفین اب اشیاء خریدتے وقت لیبلز کو پہلے سے زیادہ غور سے دیکھ رہے ہیں۔ کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی کو بھی ملک بھر سے لیبلنگ سے متعلق شکایات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، کیونکہ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ واقعی کینیڈین مصنوعات خرید رہے ہیں یا نہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تنازع مزید بڑھتا ہے تو اس کا اثر خوراک، گاڑیوں، اسٹیل، لکڑی اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ اس سے مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پورے معاملے نے کینیڈا میں ایک نئی معاشی سوچ کو جنم دیا ہے، جہاں لوگ اب زیادہ سے زیادہ مقامی صنعتوں اور کاروباروں کو سپورٹ کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ آیا کینیڈا واقعی اپنی معیشت کو امریکی انحصار سے آزاد کر سکتا ہے یا نہیں۔


