جمہوریت اور اسکے تضادات اور بڑھتا بوجھآفاق فاروقی
جمہوریت اور اسکے تضادات اور بڑھتا بوجھ
آفاق فاروقی
جمہوریت میں بنیادی خامیوں پر پہلا سوال ڈھائی ہزار سال پہلے قدیم یونان کے شہر ایتھنز میں اس وقت اٹھایا گیا جب فلسفے کے بانی مفکر اور افلاطون کے استاد سقراط نے پوچھا کہ کیا ہر انسان کی رائے برابر ہو سکتی ہے، چاہے وہ علم رکھتا ہو یا نہیں؟ انہوں نے اہل علم و شعور سے جاننا چاہا کہ کیا ایک ڈوبتی کشتی کو ایک سمندر کے اسرار و رموز سمجھنے والا ماہر ملاح بچا سکتا ہے یا اس کشتی میں بیٹھا مسافروں کا وہ ہجوم جو کشتی کے معاملات تو کیا تیراکی سے بھی ناواقف ہو۔ یا کیا ہم ایک دل کے مریض کے علاج کے لیے کسی طبی علم سے نا آشنا ہجوم سے رابطہ کر سکتے ہیں؟ یہ وہ دور تھا جب ارسطو اور افلاطون کے فکری سلسلے کی بنیاد رکھی جا رہی تھی، اور یہی وہ فکری روایت ہے جس نے بعد میں پوری مغربی سیاسی سوچ کو تشکیل دیا۔ سقراط خود کوئی کتاب نہیں لکھ کر گئے، لیکن ان کے خیالات اُن کے شاگرد افلاطون نے محفوظ کیے، بالکل اسی طرح جیسے فقہ حنفیہ کے بانی اور اماموں کے امام ابو حنیفہ کی متعین کردہ شریعت انہوں نے خود نہیں لکھی بلکہ ان کے شاگرد ابو یوسف نے تحریر کی۔ سقراط جنہیں ایتھنز کی حکومت کے تابع عدالت نے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے جرم میں زہر پلا کر مارنے کی سزا دی، جس پر عمل کرتے ہوئے سقراط نے پورے وقار کے ساتھ یہ کہتے ہوئے زہر پی لیا کہ اگر آج میں نے عدالت کے غلط اور جھوٹے فیصلے کو قبول نہ کیا تو کل اس کے سچے اور انصاف پر مبنی فیصلے بھی تسلیم نہیں کیے جائیں گے، اور اگر عدالتی نظام کمزور ہو جائے تو ریاست کو کوئی بھی نہیں بچا سکتا۔ فلسفے کے امام سقراط نے، جس نے قدیم پودے ہیملاک سے کشید کیے گئے زہر کے پیالے کو ایک سانس میں یوں پی لیا جیسے پیاسا شرابی بے تحاشا طلب پر جام لنڈھاتا ہے، یہ بھی کہا تھا کہ جمہوریت ایک عظیم نظامِ حکومت تب ہی بن سکتی ہے جب اس کی بنیادی خامی دور کر لی جائے۔ افلاطون کی مشہور کتاب “ریاست” (The Republic) میں وہ اپنے استاد کے خیالات کو آگے بڑھاتے ہوئے جمہوریت پر ایک گہری تنقید پیش کرتے ہیں۔ افلاطون کے مطابق جمہوریت میں جب ہر رائے کو برابر حیثیت دی جاتی ہے تو معاشرہ آہستہ آہستہ علم کے بجائے جذبات، نعروں اور مقبولیت کے پیچھے چلنے لگتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ صورتحال آخرکار اس بات کو جنم دیتی ہے کہ وہ لوگ اقتدار میں آ جاتے ہیں جو سب سے زیادہ متاثر کن انداز میں بول سکتے ہیں، نہ کہ وہ جو سب سے زیادہ سمجھ رکھتے ہیں۔ افلاطون کا حل یہ تھا کہ ریاست کی قیادت ان لوگوں کے ہاتھ میں ہونی چاہیے جو علم، حکمت اور اخلاقی بصیرت رکھتے ہوں۔ انہوں نے ایک ایسے نظام کا تصور پیش کیا جس میں حکمران “فلسفی حکمران” ہوں، یعنی وہ لوگ جو حقیقت اور انصاف کو گہرائی سے سمجھتے ہوں۔ اس کے بعد ان کے شاگرد ارسطو آتے ہیں جو اس بحث کو زیادہ عملی شکل دیتے ہیں۔ وہ جمہوریت کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے لیکن اس پر شدید شرطیں لگاتے ہیں۔ ان کے مطابق جمہوریت صرف اس وقت اچھی ہو سکتی ہے جب وہ قانون کے تابع ہو، ورنہ یہ محض اکثریت کی خواہشات کا کھیل بن جاتی ہے۔ ارسطو خاص طور پر ان سیاست دانوں سے خبردار کرتے ہیں جو عوام کو خوش کرنے کے لیے سچائی کو نرم یا بدل دیتے ہیں۔ ارسطو کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ سیاست ایک مہارت ہے، اور مہارت صرف علم اور تجربے سے آتی ہے۔ لیکن جمہوریت میں ہر رائے برابر ہونے کی وجہ سے یہ فرق مٹ جاتا ہے، اور یوں فیصلہ سازی اکثر جذبات اور مقبولیت کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں جدید جمہوریت کا مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ آج کے دور میں سیاست اکثر ایک اسٹیج کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ سیاست دان ایک کردار ادا کرتے ہیں، عوام کے جذبات کو مخاطب کرتے ہیں، وعدے کرتے ہیں، اور اپنی شخصیت کے ذریعے اعتماد حاصل کرتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے اکثر ایک بڑا نظام ہوتا ہے—مشیر، میڈیا، سیاسی حکمت عملی ساز اور طاقتور مفادات—جو اصل بیانیہ تیار کرتے ہیں۔ سیاست دان اس بیانیے کو عوام کے سامنے پیش کرتا ہے، اور عوام اسے براہِ راست حقیقت سمجھ لیتے ہیں۔ اسی لیے بعض اوقات یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ عوامی نمائندے اصل میں مکمل طور پر آزاد فیصلے نہیں کرتے بلکہ ایک بڑے نظام کے اندر کام کرتے ہیں۔ ان کی مقبولیت ان کی قابلیت سے زیادہ ان کی پیشکش، ان کی زبان اور ان کے بیانیے پر منحصر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات بہت مقبول رہنما ریاستی معاملات کی پیچیدگیوں کو سمجھنے میں کمزور ثابت ہوتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں یہ رجحان واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ بھارت میں نریندر مودی کی قیادت کو ان کے حامی ایک مضبوط قیادت کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ ناقدین کے مطابق اس میں اکثریتی جذبات اور شناختی سیاست کا عنصر سماجی تقسیم کو بڑھا سکتا ہے۔ امریکہ میں مختلف ادوار میں ایسے رہنما سامنے آئے جن کی مقبولیت بہت زیادہ تھی مگر ان کے دور میں معاشرہ شدید تقسیم کا شکار ہوا۔ برازیل، اٹلی اور روس جیسے ممالک میں بھی ایسے رہنما نظر آتے ہیں جن کی شخصیت اور مقبولیت بہت مضبوط ہے مگر ان کے فیصلوں اور ریاستی حکمرانی کے طریقوں پر مسلسل بحث جاری رہتی ہے۔ پاکستان جیسے ملکوں میں تو تقریباً تمام سیاست دان اور جمہوری حکمران اپنے ہی ملک کی اس فوج کے اثر و رسوخ کے تحت ہوتے ہیں جو آئین کے مطابق ان کے تابع تصور کی جاتی ہے، اور جو سیاست دان فوج کی بات ماننے سے انکار کر دیں تو وہ سیاسی طور پر کمزور کر دیے جاتے ہیں۔ یہ بحث بار بار سامنے آتی ہے کہ سیاسی مقبولیت اکثر ریاستی اداروں، معیشت اور طویل مدتی پالیسیوں کی پیچیدگیوں سے ٹکرا جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر بنیادی مسائل برقرار رہتے ہیں۔ اس پورے منظرنامے میں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا جمہوریت واقعی علم اور مہارت کو وہ مقام دے پا رہی ہے جو ریاستی فیصلوں کے لیے ضروری ہے؟ یا پھر یہ نظام زیادہ تر مقبولیت اور جذبات کے زیرِ اثر چل رہا ہے؟ معاصر مفکر نوم چومسکی اس بات کی طرف اشارہ کرتے نظر آتے ہیں کہ جدید جمہوریتوں میں رائے عامہ اکثر میڈیا اور طاقتور اداروں کے ذریعے تشکیل دی جاتی ہے۔ دوسری طرف امرتیہ سین جیسے مفکرین جمہوریت کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مسئلہ جمہوریت نہیں بلکہ تعلیم، مساوات اور اداروں کی کمزوری ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ نظام اسی طرح چلتا رہے گا جہاں مقبولیت علم پر غالب آتی رہے گی، یا پھر انسان ایک ایسا توازن پیدا کر سکے گا جہاں ووٹ کے ساتھ ساتھ علم اور مہارت کو بھی فیصلہ سازی میں حقیقی جگہ ملے؟ اگر یہ توازن پیدا نہ ہوا تو تاریخ شاید خود کو دہراتی رہے گی—نئے رہنما، نئے نعروں کے ساتھ مگر پرانے مسائل کے ساتھ۔ لیکن اگر یہ توازن قائم ہو گیا تو جمہوریت اپنی اصل روح کے زیادہ قریب آ سکتی ہے، جہاں ووٹ صرف تعداد نہیں بلکہ شعور اور ذمہ داری کا اظہار ہو۔


