کینیڈا میں زمین کی ملکیت کی حقیقت کینیڈا کی تقریباً 89 سے 90 فیصد زمین کو کراؤن لینڈ (Crown Land) کہا جاتا ہے۔
کینیڈا میں زمین کی ملکیت کی حقیقت کینیڈا کی تقریباً 89 سے 90 فیصد زمین کو کراؤن لینڈ (Crown Land) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمین قانونی طور پر “کراؤن” یعنی ریاست کی ملکیت سمجھی جاتی ہے، جس کی نمائندگی آئینی بادشاہت کے تحت چارلس سوم (Charles III) کرتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بادشاہ ذاتی طور پر کینیڈا کی زمین کے مالک ہیں یا اسے اپنی نجی جائیداد کی طرح استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ زمین دراصل کینیڈین وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ذریعے عوامی مفاد کے لیے چلائی اور منظم کی جاتی ہے۔ کراؤن لینڈ کی تقسیم تقریباً اس طرح ہے: 41 فیصد زمین صوبائی حکومتوں کے کنٹرول میں ہے، 48 فیصد زمین شمالی علاقوں (Territories) کی کراؤن لینڈ ہے، 4 فیصد زمین وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہے (مثلاً قومی پارکس اور فوجی اڈے وغیرہ)۔ نجی ملکیت والی زمین کینیڈا کی صرف تقریباً 10 سے 11 فیصد زمین نجی افراد یا کمپنیوں کی ملکیت ہے۔ زیادہ تر کینیڈین آبادی اسی نسبتاً کم نجی زمین پر آباد ہے، خاص طور پر امریکہ کی سرحد کے قریب جنوبی علاقوں میں۔ مقامی قبائل (Indigenous) کی زمینیں سرکاری طور پر ریزرو زمینیں کینیڈا کے کل رقبے کا تقریباً 0.2 سے 0.6 فیصد حصہ بنتی ہیں، اگرچہ تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے مقامی قبائل بہت وسیع علاقوں پر اپنے روایتی حقوق کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ اہم وضاحت جب لوگ کہتے ہیں: “بادشاہ کینیڈا کی 90 فیصد زمین کے مالک ہیں” تو اس کا مطلب قانونی اور آئینی نمائندگی ہوتا ہے، ذاتی ملکیت نہیں۔ شاہی خاندان اپنی مرضی سے کینیڈا کے جنگلات، جھیلیں یا شہر فروخت نہیں کر سکتا۔ مزید معلومات کے لیے: The Canadian Encyclopedia – Crown Land Government of Canada – Crown Lands


