“ایک صدی بعد خلا کی نئی جستجو: مائع ایندھن راکٹ کی پہلی پرواز سے شروع ہونے والا سفر اب نظامِ شمسی تک رسائی کے نئے دروازے کھول رہا ہے”
“ایک صدی بعد خلا کی نئی جستجو: مائع ایندھن راکٹ کی پہلی پرواز سے شروع ہونے والا سفر اب نظامِ شمسی تک رسائی کے نئے دروازے کھول رہا ہے”
ایک صدی قبل خلا کی تاریخ اُس وقت بدل گئی جب امریکی سائنسدان رابرٹ ہچنگز گوڈارڈ نے دنیا کا پہلا مائع ایندھن سے چلنے والا راکٹ کامیابی سے لانچ کیا۔
16 مارچ 1926 کو یہ راکٹ صرف 12.5 میٹر بلند ہوا، تقریباً 97 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچا اور پھر ایک کھیت میں جا گرا، لیکن یہی مختصر پرواز جدید خلائی ٹیکنالوجی کی بنیاد بن گئی۔
اس وقت کے عوام اور میڈیا نے انہیں مذاق کا نشانہ بنایا اور “چاند کا آدمی” جیسے ناموں سے پکارا، مگر ان کی تحقیق نے بعد میں راکٹ سائنس کی پوری سمت بدل دی۔
اب ایک صدی بعد، سائنس دان اور انجینئرز زیادہ جدید اور طاقتور انجن سسٹمز پر کام کر رہے ہیں جو انسانیت کو پہلے سے کہیں زیادہ دور خلا میں لے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ نئی ٹیکنالوجیز مستقبل میں نظامِ شمسی کے سیاروں تک رسائی کو آسان بنا سکتی ہیں اور انسانی خلائی سفر کے دائرے کو غیر معمولی طور پر وسیع کر سکتی ہیں۔


