Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںٹرمپ کی مسلم ممالک رہنماؤں سے گفتگو، ابراہیمی معاہدے اور ایران معاملے...

ٹرینڈنگ

ٹرمپ کی مسلم ممالک رہنماؤں سے گفتگو، ابراہیمی معاہدے اور ایران معاملے پر نئی سفارتی بحث

واشنگٹن میں ہونے والی ایک مبینہ آن لائن رابطہ کانفرنس کے حوالے سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم ممالک کے متعدد رہنماؤں سے گفتگو کی، جن میں سعودی عرب، قطر، پاکستان، متحدہ عرب امارات، اردن اور ترکی سمیت کئی ممالک کے سربراہان یا اعلیٰ نمائندے شامل تھے۔ رپورٹس کے مطابق اس گفتگو میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس دوران صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آنے کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے تمام ممالک کو ابراہیمی معاہدوں کے فریم ورک کی طرف بڑھنا چاہیے، جس کے تحت اسرائیل کو تسلیم کرنے اور باہمی تعلقات کو معمول پر لانے کی تجویز دی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس موقع پر گفتگو میں کچھ دیر کے لیے خاموشی کی کیفیت بھی رہی، تاہم یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بیشتر ممالک پہلے ہی اس سفارتی عمل کا حصہ ہیں، جبکہ پاکستان، قطر اور چند دیگر ممالک کی صورتحال مختلف ہے۔ اسی مبینہ گفتگو میں یہ تاثر بھی دیا گیا کہ بعض ممالک کی داخلی اور علاقائی مجبوریوں کو بھی سمجھا جا رہا ہے، اور پاکستان کے حوالے سے خصوصی طور پر یہ نرمی کا عندیہ دیا گیا کہ اس کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس معاملے پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ حلقے اسے سفارتی دباؤ قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ اس طرح کی خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور اصل صورتحال کو مکمل سیاق و سباق کے بغیر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف اپنے آئینی اور اصولی مؤقف سے جڑا ہوا ہے، اور فوری طور پر اس میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں۔ سفارتی ماہرین کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑے امن فریم ورک کی طرف پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے اثرات خطے کے دیگر ممالک، بشمول پاکستان، پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم یہ تمام معاملات اس وقت مفروضوں اور غیر تصدیق شدہ اطلاعات کے دائرے میں ہیں

مزید پڑھیں