Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںمصنوعی ذہانت کی تیز رفتار پیش رفت پر خدشات، انسان کے کردار...

ٹرینڈنگ

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار پیش رفت پر خدشات، انسان کے کردار کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار پیش رفت پر خدشات، انسان کے کردار کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے

سان فرانسسکو: مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ کمپنی کے ایک اعلیٰ بیان نے ٹیکنالوجی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت کے نظام اس تیزی سے ترقی کر رہے ہیں کہ مستقبل میں بعض مراحل پر انسانی شمولیت کم یا غیر مؤثر ہو سکتی ہے۔

کمپنی کے مطابق اس کے جدید نظام اب صرف کوڈ لکھنے یا انسانی مدد تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ خود نئے مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی تیاری میں بھی معاون کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس پیش رفت کو ایک بڑی تکنیکی چھلانگ قرار دیا جا رہا ہے جو مستقبل میں ترقی کی رفتار کو غیر معمولی حد تک بڑھا سکتی ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ رفتار اسی طرح برقرار رہی تو مصنوعی ذہانت کی خودکار ترقی کا عمل تیز ہو سکتا ہے، جس سے انسانی نگرانی، احتیاطی اقدامات اور حفاظتی نظام کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔

ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت واقعی اس مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں وہ خود اپنی بہتری کا عمل تیز کر سکتی ہے، اور اگر ایسا ہوا تو انسانی کردار کس حد تک محدود ہو جائے گا۔

ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف یہ پیش رفت سافٹ ویئر، طب، تحقیق اور صنعت میں غیر معمولی ترقی کا باعث بن سکتی ہے، لیکن دوسری طرف اس سے اخلاقی، معاشی اور سماجی چیلنجز بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

کچھ ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ عالمی سطح پر ریگولیشن اور نگرانی کے نظام کو بھی اسی رفتار سے مضبوط کرنا ضروری ہے، تاکہ اس ٹیکنالوجی کے فوائد حاصل کرتے ہوئے ممکنہ خطرات کو کنٹرول کیا جا سکے

مزید پڑھیں