تعلیمی پالیسی پر شدید سیاسی طوفان، زبانوں کے فارمولے میں مبینہ تبدیلی پر حکومت ہند کو کڑی تنقید، استعفے کا مطالبہ
تعلیمی پالیسی پر شدید سیاسی طوفان، زبانوں کے فارمولے میں مبینہ تبدیلی پر حکومت ہند کو کڑی تنقید، استعفے کا مطالبہ
نئی دہلی: بھارت میں تعلیمی پالیسی کے ایک اہم معاملے پر سیاسی کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں کانگریس نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے تین زبانوں کے تعلیمی فارمولے سے متعلق اپنے سابقہ مؤقف میں تبدیلی کر کے یو ٹرن لیا ہے، جس سے ملک میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
کانگریس کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے حکومت کا حالیہ رویہ غیر مستقل اور متنازع ہے، جس سے تعلیمی نظام میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق یہ معاملہ صرف تعلیمی پالیسی تک محدود نہیں بلکہ وفاقی ڈھانچے اور ریاستوں کے اختیارات سے بھی جڑا ہوا ہے۔
پارٹی کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان جاری کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے زبانوں کے فارمولے کے حوالے سے اپنا موقف تبدیل کر کے تعلیمی پالیسی میں ابہام پیدا کیا ہے، جس کے اثرات پورے ملک کے طلبہ اور ریاستی نظام تعلیم پر پڑ سکتے ہیں۔
تین زبانوں کے فارمولے کے تحت بھارت میں تعلیمی نظام میں علاقائی زبان، قومی زبان اور ایک اضافی زبان پڑھانے کی پالیسی پر طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔ بعض ریاستیں اس پالیسی کو اپنی علاقائی زبانوں کے لیے خطرہ قرار دیتی ہیں، جبکہ مرکزی حکومت اسے قومی یکجہتی اور تعلیمی ہم آہنگی کے لیے ضروری سمجھتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاملے نے ایک بار پھر مرکز اور ریاستوں کے درمیان اختیارات کی کشمکش کو نمایاں کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زبان کا مسئلہ بھارت میں ہمیشہ سے حساس رہا ہے اور کسی بھی پالیسی تبدیلی پر فوری سیاسی ردعمل سامنے آتا ہے۔
حکومتی مؤقف کی جانب سے تاحال اس تنقید کا براہِ راست تفصیلی جواب سامنے نہیں آیا، تاہم حکمران حلقے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ تعلیمی پالیسی کا مقصد طلبہ کو زیادہ مواقع فراہم کرنا اور قومی سطح پر تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تنازع آئندہ دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور تعلیمی پالیسی ایک بار پھر ملک کی بڑی سیاسی بحث کا مرکز بن سکتی ہے


