Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبھارتقدیم پہاڑی سلسلے خطرے میں، ترقی کے نام پر فطرت کی قربانی؟...

ٹرینڈنگ

قدیم پہاڑی سلسلے خطرے میں، ترقی کے نام پر فطرت کی قربانی؟ بھارت میں بڑا مباحثہ شروع

قدیم پہاڑی سلسلے خطرے میں، ترقی کے نام پر فطرت کی قربانی؟ بھارت میں بڑا مباحثہ شروع

نئی دہلی: ترقی اور ماحولیات کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعے نے ایک بار پھر توجہ حاصل کر لی ہے، جہاں بھارت میں منعقد ہونے والے ایک اہم فکری اجتماع میں صدیوں پرانے قدرتی وسائل، جنگلات اور حساس جزائر کے مستقبل پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔

اجلاس میں ملک کے معروف ماہرین ماحولیات، سابق حکومتی شخصیات اور حیاتیاتی تنوع کے ماہرین شرکت کریں گے۔ مباحثے کا مرکزی موضوع یہ ہوگا کہ تیز رفتار معاشی ترقی، شہری توسیع اور بڑے تعمیراتی منصوبوں کے دباؤ کے درمیان قدرتی ورثے کو کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

خصوصی توجہ اراولی پہاڑی سلسلے پر دی جائے گی، جو دنیا کے قدیم ترین پہاڑی سلسلوں میں شمار ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پہاڑ صدیوں سے کان کنی، پتھر نکالنے اور بے ہنگم تعمیرات کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ماحولیاتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اراولی نہ صرف شمالی بھارت کے ماحولیاتی توازن کے لیے اہم ہے بلکہ یہ صحرائی علاقوں کے پھیلاؤ کو روکنے، زیرِ زمین پانی کے ذخائر کی حفاظت اور فضائی آلودگی میں کمی لانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اجلاس میں بحیرۂ بنگال میں واقع نیکوبار جزائر کا معاملہ بھی زیرِ بحث آئے گا، جہاں بڑے ترقیاتی منصوبوں کے اعلان کے بعد ماحولیات کے تحفظ اور مقامی قدرتی نظام کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وسیع تعمیراتی سرگرمیوں سے نایاب جنگلی حیات، ساحلی ماحول اور مقامی آبادی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ حامی حلقے اسے اقتصادی ترقی اور قومی مفاد کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ بحث صرف بھارت تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کو درپیش ایک بنیادی سوال کی عکاس ہے: کیا معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کو ساتھ لے کر چلنا ممکن ہے یا ترقی کی دوڑ میں قدرتی وسائل مسلسل قربان ہوتے رہیں گے؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی آبادی اور قدرتی وسائل پر بڑھتے دباؤ کے دور میں ایسے مباحثے غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیات کو مرکزی حیثیت نہ دی گئی تو آنے والی نسلوں کو پانی، ہوا اور قدرتی وسائل کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اجلاس سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے نئی تجاویز اور عملی راستوں پر غور کیا جائے گا، تاکہ معاشی پیش رفت کے ساتھ قدرتی ورثے کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے

مزید پڑھیں