Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہعالمی نظام کے بعد کا دور، مستقل عالمی ڈھانچے کے تصور پر...

ٹرینڈنگ

عالمی نظام کے بعد کا دور، مستقل عالمی ڈھانچے کے تصور پر سوالات اور طاقت کے مسلسل بدلتے توازن کا آغاز

عالمی نظام کے بعد کا دور، مستقل عالمی ڈھانچے کے تصور پر سوالات اور طاقت کے مسلسل بدلتے توازن کا آغاز

واشنگٹن: عالمی سیاست اور بین الاقوامی نظام کے مستقبل پر ایک نئی فکری بحث نے زور پکڑ لیا ہے، جس میں ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا دنیا اب کسی ایک مستقل عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے یا پھر طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کے درمیان ایک مسلسل عبوری دور میں داخل ہو چکی ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہر برونو ماکایس کے مطابق ماضی میں عالمی طاقتیں ایک واضح عالمی نظام قائم کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں، لیکن موجودہ دور میں ایسا کوئی حتمی ڈھانچہ قائم ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق دنیا اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں “عالمی نظام” نہیں بلکہ مسلسل “نیا نظام سازی کا عمل” جاری رہتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی طاقتوں کے زوال اور ابھار کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کوئی بھی سلطنت دائمی نہیں ہوتی، اور موجودہ عالمی صورتحال میں امریکہ، چین اور دیگر طاقتیں اسی حقیقت کا سامنا کر رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سیاست میں اب استحکام کے بجائے مسلسل تبدیلی ایک مستقل حقیقت بنتی جا رہی ہے، جہاں تجارتی، تکنیکی اور عسکری محاذوں پر طاقت کا توازن بار بار بدل رہا ہے۔ اس صورتحال نے روایتی عالمی اداروں اور معاہدوں کی مؤثریت پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ آج کا دور کسی ایک عالمی قیادت یا ایک نظام کی برتری کا نہیں بلکہ مختلف خطوں اور طاقتوں کے درمیان مسلسل مقابلے اور دوبارہ ترتیب کا دور ہے، جس میں کوئی بھی نتیجہ حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔

اس فکری بحث نے بین الاقوامی پالیسی سازوں کو اس سوال پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا مستقبل میں دنیا کسی نئے عالمی نظام کی طرف بڑھے گی یا پھر طاقت کی یہ گردش ہمیشہ جاری رہے گی

مزید پڑھیں