Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستان"ستھرا پنجاب" فیس پر قانونی سوالات، تشہیری دعووں اور زمینی حقائق کے...

ٹرینڈنگ

“ستھرا پنجاب” فیس پر قانونی سوالات، تشہیری دعووں اور زمینی حقائق کے درمیان بڑھتی خلیجرپورٹ آفاق فاروقی

لاہور — پنجاب میں صفائی کے نظام کو جدید بنانے کے لیے شروع کیے گئے “ستھرا پنجاب” پروگرام اور اس کے تحت عائد کی جانے والی صفائی فیس پر قانونی اور انتظامی سطح پر ایک نیا تنازع سامنے آ گیا ہے۔ مختلف حلقوں کی جانب سے اسے عوام پر اضافی مالی بوجھ اور ادارہ جاتی اختیارات کی ازسرِنو تقسیم سے جوڑا جا رہا ہے۔ قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شہری پہلے ہی جائیداد ٹیکس اور پانی و نکاسی آب کے چارجز ادا کر رہے ہیں، لہٰذا صفائی کے نام پر الگ فیس وصول کرنا دہرا ٹیکس کے مترادف ہے۔ ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ اس پروگرام کے تحت کیے گئے اربوں روپے کے ٹھیکوں، اخراجات اور انتظامی فیصلوں کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے کیوں نہیں لائی جا رہیں۔ نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت مقامی حکومتوں کو صفائی اور بنیادی شہری سہولیات میں مرکزی کردار حاصل ہے، جبکہ موجودہ نظام میں ان اختیارات کو ایک مرکزی اتھارٹی کے تحت لانے سے بلدیاتی خودمختاری متاثر ہوئی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ تبدیلی صرف انتظامی اصلاح نہیں بلکہ اختیارات کی مرکزیت کی طرف واپسی بھی ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب حکومت پنجاب کی جانب سے “ستھرا پنجاب” کو ایک بڑے اصلاحاتی اور صفائی کے انقلابی منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد شہروں اور دیہات میں صفائی کے نظام کو بہتر، مربوط اور جدید بنانا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق اس پروگرام کے ذریعے کچرے کے انتظام، بازیافت اور شہری خدمات کو ایک منظم نظام کے تحت لایا جا رہا ہے۔ تاہم زمینی حقائق اور عوامی تجربے کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض شہری علاقوں میں صفائی کے نظام میں بہتری کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ کئی مقامات پر اب بھی کچرے کی بروقت منتقلی، عملے کی کمی اور انتظامی تاخیر جیسے مسائل کی شکایات موجود ہیں۔ اسی تضاد نے تشہیری مہم اور عملی صورتحال کے درمیان فرق پر سوالات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق “ستھرا پنجاب” جیسے بڑے پروگراموں میں اصل چیلنج صرف منصوبہ بندی نہیں بلکہ شفافیت، مالیاتی نگرانی اور مقامی سطح پر عملدرآمد ہوتا ہے۔ اگر فیسوں کے نفاذ اور ٹھیکوں کے نظام میں مکمل شفافیت نہ ہو تو عوامی اعتماد کمزور ہو سکتا ہے، چاہے منصوبے کے مقاصد کتنے ہی بلند کیوں نہ ہوں۔ یوں یہ معاملہ صرف ایک فیس یا ایک پروگرام تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس بحث کو جنم دیتا ہے کہ جدید شہری انتظامیہ میں ریاستی کنٹرول، نجی ٹھیکیداری نظام اور مقامی حکومتوں کے اختیارات کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے

مزید پڑھیں