Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہزہر آلود ہوا میں جنم لینے والی مشین: ایک سو بائیس دن...

ٹرینڈنگ

زہر آلود ہوا میں جنم لینے والی مشین: ایک سو بائیس دن میں بنایا گیا سپر کمپیوٹر، جس نے ترقی اور تباہی کے درمیان لکیر دھندلا دی

زہر آلود ہوا میں جنم لینے والی مشین: ایک سو بائیس دن میں بنایا گیا سپر کمپیوٹر، جس نے ترقی اور تباہی کے درمیان لکیر دھندلا دی

امریکی ریاست ٹینیسی کے ایک خاموش سے علاقے بکس ٹاؤن میں ٹیکنالوجی کی دنیا کا ایک ایسا تجربہ سامنے آیا ہے جس نے رفتار، طاقت اور ماحولیاتی ذمہ داری کے درمیان جاری بحث کو ایک نئے بحران میں داخل کر دیا ہے۔ صرف ایک سو بائیس دن کے مختصر عرصے میں ایک انتہائی طاقتور سپر کمپیوٹر تعمیر کیا گیا، مگر اس تیز رفتار تعمیر نے اپنے پیچھے ایسے سوالات چھوڑ دیے ہیں جن کے جواب ابھی تک نہیں مل سکے۔

اس منصوبے کے آغاز کے ساتھ ہی علاقے کے رہائشیوں نے فضا میں ایک غیر معمولی، بھاری اور تیز بدبو محسوس کرنا شروع کی جو پہلے سے موجود کچرے کے کارخانے کی عام بدبو سے کہیں زیادہ شدید اور مختلف تھی۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ بدبو سلفر جیسی تھی، جیسے کسی گیس کے رساؤ کا مسلسل احساس ہو، جس نے پورے علاقے میں بے چینی اور خوف کو جنم دیا۔

رپورٹ کے مطابق اس سپر کمپیوٹر کے لیے توانائی پیدا کرنے کی خاطر پینتیس میتھین گیس سے چلنے والے بڑے ٹربائن مسلسل کام کر رہے ہیں، جن کے شور اور اخراج نے ماحول کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ قریبی آبادی میں رہنے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ روزمرہ زندگی میں اس صنعتی دباؤ کو واضح طور پر محسوس کر رہے ہیں اور انہیں اپنی صحت کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہو رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ اس بات کی علامت ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا کی عالمی دوڑ میں اب رفتار کو ہر چیز پر فوقیت دی جا رہی ہے، حتیٰ کہ ماحولیاتی تحفظ اور ضابطہ جاتی پابندیوں کو بھی وقتی طور پر پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسا ماڈل بنتا جا رہا ہے جہاں بڑے منصوبے روایتی قانونی اور ماحولیاتی رکاوٹوں سے ہٹ کر آگے بڑھ رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ایک خطرناک سوال پیدا کرتی ہے کہ کیا ٹیکنالوجی کی یہ بے لگام رفتار مستقبل میں ترقی کا ذریعہ بنے گی یا پھر انسانی صحت، ماحول اور سماجی توازن کے لیے ایک نیا بحران پیدا کرے گی۔ اس تجربے نے یہ بحث دوبارہ زندہ کر دی ہے کہ ترقی کا حقیقی مطلب صرف تیزی ہے یا پھر ذمہ داری بھی اس کا لازمی حصہ ہے۔

یوں یہ منصوبہ اب صرف ایک سپر کمپیوٹر کی تعمیر نہیں رہا بلکہ ایک ایسے نئے صنعتی دور کی علامت بن چکا ہے جہاں طاقت، رفتار اور ماحولیاتی قیمت ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں، اور اس ٹکراؤ کا سب سے بڑا سوال ابھی باقی ہے: آخر اس دوڑ کا فائدہ کس کو ہوگا اور قیمت کون ادا کرے گا

مزید پڑھیں