Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںترکی کی عالمی تجویز: 2035 تک دنیا کی 35 فیصد توانائی بجلی...

ٹرینڈنگ

ترکی کی عالمی تجویز: 2035 تک دنیا کی 35 فیصد توانائی بجلی پر منتقل کرنے کا ہدف، موسمیاتی کانفرنس میں نئی بحث چھڑ گئی

ترکی کی عالمی تجویز: 2035 تک دنیا کی 35 فیصد توانائی بجلی پر منتقل کرنے کا ہدف، موسمیاتی کانفرنس میں نئی بحث چھڑ گئی

COP30 سے قبل بڑا اقدام؛ فوسل فیول پر انحصار کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر بجلی کے استعمال میں تاریخی اضافہ کی تجویز

موسمیاتی تبدیلی سے متعلق عالمی کانفرنس COP30 کی میزبانی کی تیاریوں کے دوران ترکی نے ایک اہم عالمی تجویز پیش کی ہے جس کے تحت 2035 تک دنیا کی مجموعی توانائی کا کم از کم 35 فیصد حصہ بجلی پر منتقل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ تجویز ترکی کی جانب سے ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر توانائی بحران، جغرافیائی کشیدگی اور خاص طور پر ایران جنگ جیسے خطے کے حالات نے توانائی پالیسیوں پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔

فوسل فیول سے بجلی کی طرف بڑی منتقلی کا منصوبہ

ترکی کی تجویز کے مطابق دنیا کو آہستہ آہستہ تیل، کوئلے اور گیس جیسے روایتی ایندھن سے ہٹا کر زیادہ سے زیادہ شعبوں کو بجلی پر منتقل کرنا ہوگا۔ اس میں خاص طور پر درج ذیل شعبے شامل ہیں:

  • ٹرانسپورٹ کا نظام (الیکٹرک گاڑیاں)
  • بھاری صنعتی پیداوار (الیکٹرک فرنسز)
  • گھریلو حرارت اور ہیٹنگ سسٹمز (ہیٹ پمپس)

یہ منصوبہ بظاہر ایک رضاکارانہ عالمی ہدف ہوگا، یعنی اسے کسی باضابطہ معاہدے کی لازمی شرط نہیں بنایا جائے گا، لیکن اس کا مقصد ممالک کو مشترکہ سمت میں لانا ہے۔

توانائی نظام میں تاریخی تبدیلی کی کوشش

ترکی کا مؤقف ہے کہ دنیا کو اب ایسی ٹیکنالوجیز کی طرف جانا ہوگا جو کم کاربن اخراج پیدا کریں اور توانائی کی کارکردگی بہتر بنائیں۔ اس اقدام کو عالمی توانائی نظام میں ایک بڑے “ٹیکٹونک شفٹ” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ ہدف عالمی سطح پر قبول کر لیا جاتا ہے تو یہ تیل اور گیس پر انحصار رکھنے والی معیشتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا، جبکہ قابلِ تجدید توانائی اور بجلی کی صنعتوں کے لیے یہ ایک تاریخی موقع ثابت ہو سکتا ہے۔
اگرچہ یہ ہدف قانونی طور پر لازمی نہیں ہوگا، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی عالمی تجویز مستقبل کی توانائی پالیسیوں، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کے رخ کو تبدیل کر سکتی ہے

مزید پڑھیں