Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہایلون مسک کا نیا وار: سلیقے دار اور ٹریول فرینڈلی اسٹار لنک...

ٹرینڈنگ

ایلون مسک کا نیا وار: سلیقے دار اور ٹریول فرینڈلی اسٹار لنک ڈشز کی جھلک، سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی دنیا میں بڑی تبدیلی کا اشارہ

ایلون مسک کا نیا وار: سلیقے دار اور ٹریول فرینڈلی اسٹار لنک ڈشز کی جھلک، سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی دنیا میں بڑی تبدیلی کا اشارہ

واشنگٹن/ٹیکساس: سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے میدان میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایلون مسک نے اپنی کمپنی اسپیس ایکس کے تحت دو نئے، زیادہ پتلے اور سفر کے لیے موزوں اسٹار لنک ڈشز کی جھلک پیش کی ہے۔

یہ نئی ڈشز، جو پہلے صرف فرم ویئر اپ ڈیٹس اور افواہوں میں زیرِ بحث تھیں، اب ایک ویڈیو انٹرویو میں باقاعدہ طور پر دکھائی گئی ہیں، جس سے ان کی حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت ہو گئی ہے۔

ایلون مسک کے مطابق یہ نئے ماڈلز نہ صرف پہلے سے زیادہ پتلے اور ہلکے ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اسٹار لنک ٹرمینلز کی تعداد “سینکڑوں ملین” تک پہنچ سکتی ہے، جو عالمی انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر بدل سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی مارکیٹ میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں روایتی زمینی انٹرنیٹ نیٹ ورکس کے ساتھ ساتھ خلا پر مبنی براڈ بینڈ سسٹمز بھی مرکزی کردار ادا کریں گے۔

نئے ڈیزائن کو خاص طور پر سفر کرنے والے صارفین، ڈیجیٹل نوماڈز اور دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی ضرورت رکھنے والے افراد کے لیے بہتر بنایا گیا ہے، جس سے توقع ہے کہ اسٹار لنک کی عالمی رسائی مزید وسیع ہو جائے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ڈیوائسز بڑے پیمانے پر مارکیٹ میں آ گئیں تو یہ نہ صرف انٹرنیٹ سروس انڈسٹری بلکہ عالمی مواصلاتی نظام میں بھی ایک بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہیں، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی ان علاقوں تک بھی تیز رفتار کنیکٹیویٹی پہنچا سکتی ہے جہاں روایتی نیٹ ورکنگ ناممکن یا مہنگی ہے۔

اسپیس ایکس کے مطابق مستقبل میں اسٹار لنک کا ہدف صرف انٹرنیٹ فراہم کرنا نہیں بلکہ ایک مکمل عالمی ڈیجیٹل نیٹ ورک بنانا ہے جو زمین کے تقریباً ہر حصے کو آپس میں جوڑ دے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی عالمی دوڑ تیز ہو رہی ہے اور بڑی ٹیک کمپنیاں خلا کو نئے انفراسٹرکچر کے طور پر استعمال کرنے کی حکمتِ عملی پر کام کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں