امریکی انٹیلی جنس کا دعویٰ: ایران کے سپریم لیڈر نامعلوم مقام پر محدود رابطے کے ساتھ موجود
امریکی انٹیلی جنس حکام کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر مبینہ طور پر ایک نامعلوم مقام پر موجود ہیں جہاں ان کا بیرونی دنیا سے رابطہ انتہائی محدود ہے اور وہ صرف ایک پیچیدہ کورئیر سسٹم کے ذریعے رابطہ رکھتے ہیں۔ سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے اندرونی حکومتی نظام میں رابطے کی مشکلات نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی پیش رفت کو بھی سست کر دیا ہے۔ امریکی عہدیداروں کے مطابق جب بھی واشنگٹن کی جانب سے کسی معاہدے کی تفصیلات بھیجی جاتی ہیں تو ایران کی اعلیٰ قیادت تک اس کی منظوری یا جواب پہنچنے میں خاصی تاخیر ہوتی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے وہ حکام جو امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے مجاز ہیں، انہیں بھی اپنے ہی حکومتی ڈھانچے میں رابطے کے مسائل کا سامنا ہے، جس کے باعث سفارتی عمل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اسی وجہ سے ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے اور حتمی شکل اختیار کرنے میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعوے درست ہیں تو ایران کے اندر طاقت کے مرکز اور فیصلہ سازی کے نظام میں موجود پیچیدگیاں خطے کی سفارت کاری پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور مذاکرات دونوں بیک وقت جاری ہیں


