امریکی معیشت کو غیر ملکی کارکنوں کی کمی کا سامنا، ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے اثرات نمایاں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کے اثرات اب صرف زرعی شعبے تک محدود نہیں رہے بلکہ پورے امریکی معاشی نظام پر گہرے اثرات ڈالنے لگے ہیں۔ امریکہ بھر میں چھوٹے فارمز سے لے کر بڑی کارپوریشنز تک، کمپنیاں ان غیر ملکی کارکنوں کی کمی کا سامنا کر رہی ہیں جن پر انحصار کیا جاتا تھا۔ خاص طور پر وہ سیکڑوں ہزاروں افراد جو صدر جوبائیڈن کے دور میں عارضی ورک پرمٹ کے تحت کام کر رہے تھے اب قانونی حیثیت سے محروم کیے جا چکے ہیں۔
نساس لائیواسٹاک ایسوسی ایشن کے سربراہ میٹ ٹیگارڈن کے مطابق ایسینشل یعنی ضروری کا لفظ بھی ان کارکنوں کی اہمیت کے لیے کافی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سی صنعتیں ایسے مزدوروں پر انحصار کرتی ہیں جو یا تو خود تارکین وطن ہیں یا ان کے خاندان کا پس منظر غیر ملکی ہے اور ان کی عدم موجودگی روزمرہ کے کاموں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے حالیہ جلسے میں تسلیم کیا کہ انہیں کسانوں کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ چاہے اس کے نتیجے میں قدامت پسند حلقے ناراض ہی کیوں نہ ہوں۔ اسی ضمن میں ٹرمپ انتظامیہ نے محکمہ زراعت کے تحت میڈی کیڈ حاصل کرنے والے افراد کو زرعی شعبے میں مزدوری کے لیے استعمال کرنے کی تجویز بھی دی ہے بشرطیکہ وہ نئے ورک رکوائرمنٹ پر پورے اترتے ہوں۔

اس کے علاوہ لیبر ڈیپارٹمنٹ میں ایک نیا امیگریشن پالیسی آفس بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ غیر ملکی مزدوروں کی قلت کے اثرات کا جائزہ لیا جاسکے۔
اگرچہ وائٹ ہاؤس سخت امیگریشن پالیسیوں کو کامیابی قراردیتا ہے۔ جن سے سرحد پار داخلوں میں کمی آئی ہے لیکن دوسری طرف ان پالیسیوں نے معیشت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہونڈوراس اور نکاراگوا کے 76,000 افراد کی قانونی حیثیت ختم کر دی گئی ہے جبکہ اس سے قبل ہائیتی، افغان، وینزویلا اور کیمرون کے شہریوں پر بھی یہی پالیسی لاگو ہو چکی ہے۔
وال مارٹ اور ڈزنی جیسی بڑی کمپنیوں نے ان اقدامات کے بعد عارضی ورک پرمٹ رکھنے والے کارکنوں کو فارغ کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ آئی سی ای (امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) کے چھاپوں نے دیگر شعبوں کے قانونی کارکنوں کو بھی خوفزدہ کر دیا ہے جو کام پر آنے سے کترا رہے ہیں۔
فیڈرل ریزرو کے سربراہ جیروم پاول نے حالیہ کانگریسی سماعت میں خبردار کیا کہ لیبر فورس کے سکڑنے سے معاشی ترقی کی رفتار سست ہو رہی ہے اور اگر سخت امیگریشن اقدامات جاری رہے تو مہنگائی میں مستقل اضافہ اور پیداوار میں کمی جیسے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
نیشنل فاؤنڈیشن فارامریکن پالیسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسٹورٹ اینڈرسن کے مطابق ترقی کرتی معیشت کے لیے بڑھتی ہوئی لیبر فورس ناگزیر ہے۔ یہ سوچ کہ کم مزدوروں سے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے، حقیقت سے دور ہے۔
زرعی شعبے کے نمائندوں نے ٹرمپ انتظامیہ سے سیزنل ویزہ پروگرام کو سال بھر پر محیط کرنے اور اجرت کی شرائط میں نرمی کا مطالبہ کیا ہے تاہم تاحال کوئی حتمی فیصلہ یا قانون سازی سامنے نہیں آئی۔ انٹرنیشنل فریش پروڈیوس ایسوسی ایشن کی ترجمان سارہ گونزالیز کا کہنا تھا ہم صدر ٹرمپ کی مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کرنے پر ان کے شکر گزار ہیں لیکن اس کا مستقل حل صرف دو طرفہ قانون سازی سے ممکن ہے۔


