Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانچونکا دینے والی حقیقت: ہر شخص خود کو درست اور دوسروں کو...

ٹرینڈنگ

چونکا دینے والی حقیقت: ہر شخص خود کو درست اور دوسروں کو مجرم سمجھنے کے زہریلے سماجی رویے نے پورے نظام کو جکڑ لیا

پاکستانی معاشرے میں ایک ایسا عجیب و غریب اور گہرا سماجی رویہ تیزی سے مضبوط ہوتا جا رہا ہے جس میں ہر فرد یہ سمجھتا ہے کہ اصلاح کی ضرورت صرف دوسروں کو ہے، جبکہ وہ خود ہر غلطی سے مبرا ہے۔ یہی سوچ آہستہ آہستہ اجتماعی زوال کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں اخلاقی معیار بکھرتے جا رہے ہیں اور جرم و غلط کاری ایک معمول بن کر رہ گئی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ ریاستی ڈھانچے میں موجود کمزوریوں کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی بے شمار ایسی خرابیاں جڑ پکڑ چکی ہیں جنہیں اب اکثر لوگ غلطی یا جرم ہی تصور نہیں کرتے۔ کہیں ملاوٹ شدہ خوراک عام بازاروں میں بے خوفی سے فروخت ہو رہی ہے، کہیں جعلی یا غیر معیاری ادویات انسانی زندگیوں سے کھیل رہی ہیں، تو کہیں دودھ اور اشیائے خوردونوش میں خطرناک کیمیکلز کی آمیزش معمول بن چکی ہے۔ گوشت اور سبزیوں کے کاروبار میں بھی ایسی بے احتیاطیاں اور جعل سازیاں عام ہیں جو انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ اسی طرح روزمرہ زندگی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، کمزوروں کا استحصال، جھوٹ اور دھوکہ دہی جیسے رویے اتنے عام ہو چکے ہیں کہ اب ان پر حیرت بھی کم ہی کی جاتی ہے۔ گویا معاشرہ ایک ایسی ڈھلان پر کھڑا ہے جہاں غلطی اور درستگی کے درمیان فرق دھندلا ہوتا جا رہا ہے۔ تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ دنیا کے کسی بھی معاشرے میں انسان اپنی فطرت میں ایک جیسے ہی ہوتے ہیں، مگر فرق وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں قانون، انصاف اور اجتماعی نظم مضبوط ہو۔ یورپ اور امریکا جیسے معاشروں میں اگر یہ خوف ختم کر دیا جائے کہ قانون کی خلاف ورزی پر فوری اور یقینی کارروائی ہوگی، تو وہاں بھی افراتفری جنم لے سکتی ہے۔ وہاں نظام اس اصول پر قائم ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں انجام ناگزیر ہے۔ اصل مسئلہ یہی ہے کہ جب معاشرے میں یہ یقین کمزور ہو جائے کہ عمل کا نتیجہ ضرور نکلے گا، تو پھر لوگ اپنی حدیں پار کرنے لگتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب نظم اجتماعی بکھرنے لگتا ہے اور معاشرہ اخلاقی بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے، معاشرہ اپنی اجتماعی اخلاقیات کو بحال کرے اور ریاستی نظام انصاف کو اتنا مؤثر بنایا جائے کہ قانون صرف کتابوں میں نہیں بلکہ عملی زندگی میں بھی مکمل طور پر نافذ نظر آئے۔ ورنہ یہ رویے اسی طرح بڑھتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب درست اور غلط کا فرق صرف الفاظ تک محدود رہ جائے گا

~ܶ*'i(Z؟hZھ(셪޶+eygح^hr鞞bW\"0*'z[jW*)X"0*'jZ흶 wt]

مزید پڑھیں