صدر زرداری کو کیوں ہٹایا جا رہا تھا، کیا آصف زرداری اور موجودہ سسٹم برقرار رہیں گے؟
صدر زرداری کو عہدے سے فارغ کرنے کی کوششوں اور ایک طاقتور شخصیت کو زیادہ اختیارات کے ساتھ صدر پاکستان کے عہدے پر براجمان کرنے کے منصوبے کو لیکر بعض سیاسی و غیر سیاسی شخصیات گزشتہ دنوں انتہائی متحرک رہیں اور اس منصوبے کا ڈراپ سین صدر آصف زرداری کے صدارتی عہدہ چھوڑنے سے انکار پر ہوا، اگرچہ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ منصوبہ ابھی ختم نہیں ہوا اور سینٹ و اسمبلیوں میں حکومتی پارٹیوں کی اکثریت اور ستائیسویں ترمیم کے بعد آئین اور حکومتی عہدوں میں تبدیلی کا عمل شروع ہوگا ۔
اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے چند صحافیوں کی طرف سے تاثر دیا جا رہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کی ازسرنو ترتیب اور نئی نہروں کی تعمیر جو فوڈ سیکورٹی کیلئے ضروری ہے ان کے خلاف جن اتحادی سیاستدانوں اور قوتوں نے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی پس پردہ مخالفت کی، ان کو سبق سکھایا جائے گا۔

تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آصف زرداری انکے بیٹے چیئرمین بلاول اور میاں برادران کے بغیر نظام کو بنانے اور چلانے والے سسٹم کو صرف اسی صورت چلا سکتے ہیں جب عمران خان اور اسکی پارٹی ساتھ دینے پر آمادہ ہوں اور انکی طرف سے اگرچہ لچک کا تاثر دیا جا رہا ہے مگر دونوں فریق ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں کم از کم اُس وقت تک جب تک کوئی بیرونی طاقت بیچ میں نہیں کودتی جسکا امکان بہرحال موجود ہے۔
پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اب تک کی ناقص کارکردگی، کمزور گورننس، عوام میں گرتی مقبولیت اور ملکی معیشت کی زبوں حالی و عام عوام میں مہنگائی اور دوسرے اسباب کی وجہ سے پھیلا اضطراب، ریاست کو چلانے اور معاملات کو بہتری کی طرف لے جانے والوں کیلئے فکر کا باعث بن رہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی طرف سے حکومتی پارٹیوں پر دباؤ اور اپوزیشن پر سختیاں بڑھ رہی ہیں۔
بعض تجربہ کار سیاستدان جو موجودہ سسٹم سے فائدے اٹھا رہے ہیں بدلتے حالات میں جمہوریت کو مضبوط کرنے کا تاثر دیکر طاقتور حلقوں کو خاموش پیغام دے رہے ہیں کہ انہیں بیچ راہ چھوڑ دیا گیا تو مخالفین کی طرف صلح کا پیغام بھجوایا جا سکتا ہے۔ ان حالات میں جب ملک میں سیاسی، سماجی اور ادارہ جاتی تقسیم بڑھتی جا رہی ہے، تمام سیاسی و غیر سیاسی قوتیں اور بیرونی طاقتیں پاکستان کے حالات کا بغور جائزہ لے رہی ہیں، ایسی صورتحال میں فیصلہ سازوں کیلئے اہم تبدیلیوں، نئی صف بندیوں اور مشکل فیصلوں کے بنا ملکی معاملات کو بدستور چلائے رکھنا مشکل امر ہوگا۔


