صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی ایلون مسک کی راہیں جُدا، اپنی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان
دنیا کےسب سے امیر شخص ایلون مسک جن کی دولت کا تخمیہ 400 بلین ڈالر لگایا جاتا ہے اور جو الیکٹرک کار ٹیسلا ، اسپیس ایکس (سابقہ ٹویٹر)، ایکس اے آٰٗئی اور دوسری بڑی کمپنیوں کے مالک ہیں۔ 2024 کے جنرل الیکشن میں صدر ٹرمپ کے سب سے قریبی ساتھی اور ڈونر تھے۔ انہوں نے اپنی راہیں الگ کرتے ہوئے اپنی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا ہے ۔
سیاست میں انتہائی دائیں طرف جھکاؤ رکھنے والے اینٹی امیگرنٹ ایلون نے صدر ٹرمپ کے چیف ایڈوائزر اور گورنمنٹ ایفیشنسی ڈیپارمنٹ (ڈی او جی ای) کے سربراہ کے طور پر چند ماہ کام کیا جس دوران لاتعداد محکموں کو ختم کیا گیا اور ہزاروں سرکاری ملازمین کو بچت کے نام پر نوکریوں سے فارغ کیا گیا۔ جس کا کریڈٹ ایلون مسک نے لیتے ہوئے کہا کہ انکی کوششوں سے کئی بلین ڈالر کی بچت ہوئی۔

ایلون مسک نے صدر ٹرمپ کے تاریخی لیکن متنازع بجٹ اور ٹیکس بل کی مخالفت میں اپنی سیاسی جماعت “امریکا پارٹی” کے نام سے رجسٹر کرانے کا اعلان کیا ہے اور حکومت کو دھمکی دی ہے کہ آئندہ سال مڈ ٹرم انتخابات میں وہ حکومتی پارٹی کی دونوں ایوانوں میں اکثریت ختم کرنے کے لئے جدوجہد کریں گے۔
اگرچہ ایلون مسک کی اعلان کردہ پارٹی کو عوام میں کافی پذیرائی مل رہی ہے۔ ریپبلیکن پارٹی کے لیڈران نے مسک کی پارٹی کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا ہے یہ کیسی امریکا پارٹی ہے جس کا لیڈر ایلون مسک اور ان کی ٹیسلا کمپنی کا سی ایف او بھارتی نژاد تنیجا جس کو پارٹی کا خزانچی بنایا ہے دونوں امریکہ میں پیدا نہیں ہوئے۔
واضح رہے امریکی آئین کے مطابق پیدائشی امریکی نہ ہونے والا شخص اگر امریکی شہری بھی ہو تو وہ صدر نہیں بن سکتا۔ ڈیموکریٹ پارٹی بھی ایلون مسک کے سیاسی عزائم کو بغور دیکھ رہی ہے۔ انہیں یہ شبہ ہے کہ نئی امریکہ پارٹی ان کے ووٹ بینک کو بھی متاثر کر سکتی ہے ۔


