پی آئی اے پر پابندی کے ذمہ دار سابق وزیر غلام سرور خان اور ان کے ساتھی تھے، وزیر دفاع خواجہ آصف کی اپنے اتحادی سابق وزیر ہوابازی پر الزام تراشی
مسلم لیگی حکومت کی اتحادی جماعت استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی لیڈر سابق وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان پر وزیر دفاع خواجہ آصف کے الزامات کی ٹائمنگ پر مبصرین کی طرف سے حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
تحریک انصاف کے دور حکومت میں غلام سرور خان نے جو اسلام آباد کے نئے ائیرپورٹ کی حدود میں زمینوں کی ملکیت کے مسئلے پر اپنی حکومت سے ناراض ہو گئے تھے۔ انہوں نے اُس وقت بطور وزیر سول ایوی ایشن پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن کے پائلٹس کے لائسنسوں سے متعلق غیر ذمہ درانہ بیان دیا تھا۔ جو ہمارے جہازوں پر یورپ میں پابندی لگنے کی ایک وجہ تھی۔
تحریک اِنصاف کو خیر آباد کہہ کر استحکام پارٹی میں شمولیت کے بعد ان کے خلاف انکوائری ختم کر دی گئی تھی۔ اب پی آئی اے کی یورپ پروازوں کے دوبارہ آغاز کے موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف اپنےموجودہ اتحادی ، سابق وزیر ہوا بازی سرور خان کے ساتھ اس وقت کی پی ٹی آئی حکومت کو بھی اس معاملے میں ملوث کرنا چاہتے ہیں تاکہ پی آئی اے کی نجکاری اور نیویارک میں لینڈ مارک روزویلٹ ہوٹل کی فروخت میں اپوزیشن رخنہ نہ ڈالے، اور من پسند لوگوں کو قومی اثاثے اونے پونے بیچ دیے جائیں ۔


