Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکالم / بلاگامریکہ میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم اور انتہاپسند تحریکوں کی واپسی: 2026...

ٹرینڈنگ

امریکہ میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم اور انتہاپسند تحریکوں کی واپسی: 2026 کے پس منظر میں ایک تفصیلی جائز

تجزیہ
آفاق فاروقی

امریکہ میں 2026 کے موجودہ سیاسی ماحول کو اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ “شدت اختیار کرتی ہوئی تقسیم” ہے۔ یہ تقسیم صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ معاشرتی شناخت، تاریخ، نسل اور قومی علامتوں تک پھیل چکی ہے۔ اسی ماحول میں وہ چھوٹے مگر شور مچانے والے گروہ دوبارہ سامنے آ رہے ہیں جو خود کو کنفیڈریٹ دور کی روایات یا سفید فام شناختی سیاست سے جوڑتے ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والی حالیہ ریلی اور مختلف ریاستوں میں پیدا ہونے والے تنازعات اسی بڑے رجحان کا حصہ ہیں۔

یہ بات پہلے سمجھنا ضروری ہے کہ یہ گروہ امریکہ میں کسی بڑی عوامی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ان کی تعداد بہت محدود ہے، لیکن ان کی سرگرمیوں کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنی موجودگی سے زیادہ بڑا اثر پیدا کرتے ہیں۔ مختلف سکیورٹی اور سماجی تحقیق کے مطابق ان تنظیموں کے فعال افراد کی تعداد زیادہ سے زیادہ چند ہزار سے لے کر دسیوں ہزار کے اندر سمجھی جاتی ہے، جبکہ حقیقی طور پر منظم اور مسلسل سرگرم گروہ اس سے بھی کم ہو سکتے ہیں۔ ان کی ریلیوں میں عام طور پر سینکڑوں افراد شریک ہوتے ہیں، اور یہ شرکت بھی زیادہ تر علامتی ہوتی ہے، یعنی مقصد طاقت دکھانا ہوتا ہے نہ کہ انتخابی یا سیاسی اقتدار حاصل کرنا۔

ان گروہوں کی تاریخی جڑیں انیسویں صدی کی امریکی خانہ جنگی سے جڑی ہیں، جب جنوبی ریاستوں نے کنفیڈریٹ ریاستوں کی شکل اختیار کی تھی۔ اس دور میں غلامی اور ریاستی خودمختاری جیسے مسائل بنیادی تھے۔ جنگ کے بعد کنفیڈریسی ختم ہو گئی، لیکن اس کی علامتیں وقت کے ساتھ مختلف شکلوں میں زندہ رہیں۔ بیسویں صدی کے وسط میں شہری حقوق کی تحریک کے دوران یہ علامتیں دوبارہ بحث میں آئیں، اور بعض حلقوں نے انہیں اپنی شناخت کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔ اکیسویں صدی میں سوشل میڈیا نے ان چھوٹے گروہوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور ان کے بیانیے کو پھیلانے میں کردار ادا کیا۔

ان گروہوں کا بنیادی دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ وہ “ثقافتی ورثے” یا “قومی شناخت” کا تحفظ چاہتے ہیں۔ تاہم ان کے ناقدین کے مطابق ان کے نظریات میں نسلی برتری اور سخت قوم پرستی کے عناصر بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان کے بیانیے میں امیگریشن پر سخت موقف، وفاقی حکومت پر عدم اعتماد، اور تاریخی علامتوں کو دوبارہ نمایاں کرنے کی کوشش شامل ہوتی ہے۔ یہ تمام عناصر مل کر ایک ایسا فکری ماحول بناتے ہیں جو معاشرے میں تقسیم کو مزید گہرا کرتا ہے۔

اگر عوامی حمایت کی بات کی جائے تو یہ تحریکیں انتہائی محدود حمایت رکھتی ہیں۔ مختلف رائے عامہ کے جائزوں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ کھلے طور پر سفید فام بالادستی جیسے نظریات کی حمایت بہت کم ہے، عام طور پر ایک سے تین فیصد سے بھی کم۔ زیادہ تر امریکی شہری ان گروہوں کو انتہاپسند سمجھتے ہیں اور ان کے نظریات کو معاشرتی ہم آہنگی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ کنفیڈریٹ پرچم جیسے مسائل پر بھی رائے منقسم ضرور ہے، لیکن اکثریت اسے تاریخی غلامی اور نسلی تقسیم سے جڑا ہوا علامتی مسئلہ سمجھتی ہے اور اس کے عوامی استعمال کی مخالفت کرتی ہے۔

یہ بھی اہم ہے کہ ان گروہوں کی ساخت روایتی سیاسی جماعتوں جیسی نہیں ہوتی۔ یہ زیادہ تر چھوٹے خلیوں کی شکل میں کام کرتے ہیں، جن میں رابطہ خفیہ یا نیم خفیہ ہوتا ہے۔ ان کی سرگرمیوں میں ریلیاں، مارچ، علامتی اجتماعات اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا شامل ہوتا ہے۔ ان کا مقصد انتخابی سیاست میں براہ راست کامیابی حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنی موجودگی کو نمایاں رکھنا اور اپنے نظریات کو زندہ رکھنا ہوتا ہے۔

کمیونٹی کے لحاظ سے ان گروہوں کی اکثریت سفید فام مردوں پر مشتمل ہوتی ہے، جن میں نوجوان اور درمیانی عمر کے افراد زیادہ شامل ہوتے ہیں۔ خواتین کی شرکت کم ہوتی ہے، اور دیگر نسلی گروہوں کی شرکت نہ ہونے کے برابر سمجھی جاتی ہے۔ اگر کہیں غیر سفید فام افراد شامل بھی ہوتے ہیں تو وہ عمومی طور پر ان گروہوں کے بنیادی نظریاتی ڈھانچے سے ہم آہنگ نہیں ہوتے یا بہت محدود کردار میں ہوتے ہیں۔

2026 کے موجودہ سیاسی ماحول میں ان گروہوں کی دوبارہ نمایاں موجودگی کو امریکہ میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ ایک طرف مرکزی سیاسی دھارے میں مہنگائی، معیشت، خارجہ پالیسی اور عالمی تنازعات جیسے مسائل ہیں، جبکہ دوسری طرف معاشرے کے اندر شناخت، تاریخ اور ثقافتی علامتوں پر بحثیں شدت اختیار کر رہی ہیں۔ اسی کشیدگی کے ماحول میں ایسے گروہ اپنے لیے جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اگرچہ ان کی حقیقی طاقت محدود ہی رہتی ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ یہ تحریکیں امریکہ کی مجموعی سیاست میں فیصلہ کن کردار نہیں رکھتیں، لیکن یہ اس بات کی علامت ضرور ہیں کہ معاشرے کے اندر کچھ ایسے گہرے تضادات موجود ہیں جو وقتاً فوقتاً سطح پر آ جاتے ہیں۔ یہی تضادات امریکہ کی سیاسی تقسیم کو مزید پیچیدہ اور بعض اوقات زیادہ جذباتی بنا دیتے ہیں، اور آنے والے برسوں میں بھی یہ بحث مکمل طور پر ختم ہونے کے بجائے مختلف شکلوں میں جاری رہنے کا امکان رکھتی ہے

مزید پڑھیں