ورلڈ کپ کی چمک دمک کے سائے میں امریکی شہر پورٹ آرتھر کے رہائشی آلودگی اور صحت کے خطرات سے پریشان
ورلڈ کپ کی چمک دمک کے سائے میں امریکی شہر پورٹ آرتھر کے رہائشی آلودگی اور صحت کے خطرات سے پریشان
امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر پورٹ آرتھر میں رہائشیوں نے تیل کی بڑی کمپنی سعودی آرامکو کے صنعتی پلانٹ اور ریفائنری سے پیدا ہونے والی آلودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ یہی کمپنی عالمی فٹبال تنظیم فیفا کے ساتھ اسپانسرشپ معاہدے کے باعث ورلڈ کپ میچوں میں نمایاں نظر آ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ہاؤسٹن میں جاری ورلڈ کپ سرگرمیوں کے دوران اس کمپنی کی برانڈنگ نمایاں طور پر دکھائی دیتی رہی، تاہم تقریباً 100 میل دور پورٹ آرتھر کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں ریفائنری سے خارج ہونے والی زہریلی گیسوں اور طویل المدتی صحت کے مسائل کا سامنا ہے۔
مقامی رہائشی جمیل جانسن نے علاقے کی صورتحال کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کا محلہ بظاہر ایک خاموش اور معمولی رہائشی علاقہ ہے، لیکن اس کے قریب واقع صنعتی تنصیبات ایک مستقل خطرہ بن چکی ہیں، جہاں ریلوے لائن اور فیکٹریوں کی موجودگی نے ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ علاقہ بظاہر عام محنت کش طبقے کی بستیوں جیسا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی بڑے صنعتی منصوبوں کی موجودگی نے وہاں کے رہائشیوں کو ماحولیاتی اور صحت کے سنگین خدشات میں مبتلا کر دیا ہے، جس پر ماہرین اور سماجی کارکن طویل عرصے سے تنقید کرتے آ رہے ہیں


