پنجاب میں خواتین اور بچوں کے سائبر جرائم کی فوری تفتیش کے لیے خصوصی سیل قائم کرنے کا فیصلہ
پنجاب میں خواتین اور بچوں کے سائبر جرائم کی فوری تفتیش کے لیے خصوصی سیل قائم کرنے کا فیصلہ
لاہور: قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے نے پنجاب میں خواتین اور بچوں کے خلاف ہونے والے سائبر جرائم کی فوری تفتیش، مقدمات کے اندراج اور عدالتی کارروائی کو تیز کرنے کے لیے ایک خصوصی سیل قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ادارے کے پنجاب ڈائریکٹر محمد علی وسیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد متاثرہ خواتین اور بچوں کو فوری قانونی معاونت، تحفظ اور ادارہ جاتی مدد فراہم کرنا ہے تاکہ شکایات پر بغیر تاخیر کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
بیان کے مطابق اس نئے خصوصی یونٹ کے تحت آن لائن ہراسانی، سائبر اسٹاکنگ، بلیک میلنگ، ڈیجیٹل استحصال، شناخت کی چوری، ذاتی تصاویر اور ویڈیوز کے غلط استعمال یا غیر قانونی پھیلاؤ سمیت دیگر ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے جرائم کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس سیل کے ذریعے ایسے مقدمات کی تفتیش نہ صرف تیز ہوگی بلکہ متاثرہ افراد کو فوری تحفظ اور قانونی راستہ بھی فراہم کیا جائے گا، جبکہ ملزمان کے خلاف کارروائی کو بھی مؤثر بنایا جائے گا


