Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںجامعہ چھوڑنے والے نوجوان نے چین کے نامور علمی شہنشاہ کو بے...

ٹرینڈنگ

جامعہ چھوڑنے والے نوجوان نے چین کے نامور علمی شہنشاہ کو بے نقاب کر دیا، مصنوعی ذہانت کی دنیا میں تہلکہ

جامعہ چھوڑنے والے نوجوان نے چین کے نامور علمی شہنشاہ کو بے نقاب کر دیا، مصنوعی ذہانت کی دنیا میں تہلکہ

بیجنگ: چین میں مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ ایک ایسے تنازع نے جنم لیا ہے جس نے ملک کے تعلیمی اور تحقیقی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک ایسے نوجوان نے، جس نے اپنی اعلیٰ تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی، چین کے ایک انتہائی بااثر اور عالمی شہرت یافتہ تعلیمی محقق کے تحقیقی کام پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔ اس کے بعد متعلقہ اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا، جبکہ سائنسی برادری میں تحقیقی دیانت، ہم مرتبہ جانچ اور جامعات کے احتساب پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق نوجوان نے کئی ماہ تک تحقیقی مقالوں، اعداد و شمار اور تجرباتی نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ بعض تحقیقات میں ایسے تضادات اور خامیاں موجود ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے الزامات اور پیش کیے گئے شواہد سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئے، جس کے بعد معاملہ عوامی توجہ کا مرکز بن گیا۔

رپورٹس کے مطابق دباؤ بڑھنے پر متعلقہ جامعہ اور تحقیقی اداروں نے الزامات کی باضابطہ جانچ شروع کر دی ہے۔ بعض تحقیقی مقالوں کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا تحقیق میں بین الاقوامی اصولوں کی مکمل پابندی کی گئی تھی یا نہیں۔

اس واقعے نے چین کے علمی حلقوں میں ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا اعلیٰ عہدے، عالمی شہرت اور تعلیمی اعزازات کسی محقق کو تنقید سے بالاتر بنا دیتے ہیں، یا پھر تحقیق کی اصل طاقت شواہد اور حقائق میں ہوتی ہے، چاہے انہیں پیش کرنے والا شخص کسی جامعہ کا پروفیسر ہو یا تعلیم ادھوری چھوڑنے والا ایک آزاد محقق۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ صرف ایک ممتاز سائنس دان کی ساکھ کا مسئلہ نہیں ہوگا بلکہ چین کے مصنوعی ذہانت کے تحقیقی نظام، نگرانی کے طریقۂ کار اور سائنسی احتساب کے ڈھانچے پر بھی دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی بھی فریق کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں، کیونکہ سائنسی تنازعات کا فیصلہ شواہد اور غیر جانبدارانہ جانچ کی بنیاد پر ہی ہونا چاہیے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جدید دور میں تحقیق صرف جامعات کی چار دیواری تک محدود نہیں رہی۔ آزاد محققین، کھلے اعداد و شمار اور عوامی جانچ پڑتال بھی سائنسی دنیا میں طاقتور کردار ادا کر رہے ہیں، اور بعض اوقات ایک گمنام فرد بھی برسوں سے قائم علمی ساکھ کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

مزید پڑھیں