ڈالر کی بلیک مارکیٹنگ اور اسمگلنگ تقریباً ختم ہوگئی ہے، وزیر داخلہ کا دعویٰ
کراچی میں پریس ٹاک کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ڈالر کی بلیک مارکیٹنگ اور اسمگلنگ بہت کم رہ گئی ہے اور بہت جلد اسکے نتائج آپکے سامنے ہوں گے۔ پاکستان کی فاریکس مارکیٹ کے مطابق ڈالر کا آفیشل ریٹ ایک ماہ میں تین روپے بڑھ کر 284 سے تجاوز کر چکا ہے اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر 294 روپے میں بھی دستیاب نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق ملک سے ڈالر کی اڑان مختلف چینلز سے بدستور جاری ہے اور غیر ملکی کرنسی کی بیرون ملک اسمگلنگ میں بااثر افراد ملوث ہیں جن پر ادارے ہاتھ ڈالنے سے کتراتے ہیں۔

بیرون ملک سے زرِمبادلہ کی ریکارڈ آمد کے باوجود پاکستانی روپے میں گراوٹ کی بڑی وجہ پاکستان کے کاروباری لوگوں اور عوام میں عدم تحفظ کا احساس اور ملکی معیشت کے دگرگوں حالات ہیں جس کی وجہ سے لوگ بیرون ملک اپنا سرمایہ اور کاروبار شفٹ کر رہے ہیں۔ فاریکس مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق ڈالر مزید مہنگا اور اسکا ریٹ تین سو روپے سے اوپر ہونے کا امکان ہے۔
وزیر داخلہ کے سندھ کے حالیہ دورے کو ملک میں تیزی سے بدلتے سیاسی ماحول کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے ۔


