Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبریکنگ نیوزتاجر صنعت کار حکومتی پالیسیوں پر سراپا احتجاج، 19 جولائی کو ملک...

ٹرینڈنگ

تاجر صنعت کار حکومتی پالیسیوں پر سراپا احتجاج، 19 جولائی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان

لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر میاں ابوذرشاد نے وزارت خزانہ اور ایف بی آر کی طرف سے 37اے اے کے قانون، بینک ٹرانزیکشنز پر بھاری ٹیکس عائد کرنے اور پنجاب حکومت کی صنعت و تاجر دشمن پالیسی کیخلاف 19جولائی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔

کراچی، کوئٹہ، پشاور، اسلام آباد ،فیصل آباد سمیت ملک کے تمام چیمبرز نے ہڑتال کی کال کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا ہے جب کہ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس جو زیادہ تر ایکسپورٹرز کی نمائندگی کرتا ہے، نے بھی پہلی بار اس ہڑتال کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔

صدر لاہور چیمبر نے موجودہ حکومت اور اس کی صنعتی و تجارتی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی 90 فیصد انڈسٹری حکومتی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے اس سال کے آخر تک بند ہو جائے گی اور بیروزگاری کا سیلاب امڈ آئے گا اور ملک صرف امپورٹ کرنے والا رہ جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا صنعت کار اپنی فیکٹریاں بند کر کے ہاؤسنگ اسکیمز بنا رہے ہیں یا مینوفیکچرنگ اور سرمایہ بیرون ملک شفٹ کر رہے ہیں۔

ابوذرشاد نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا اربوں ڈالر کا قرضہ کس نے لیا اور کہاں خرچ ہوا کسی کو پتہ نہیں۔ شاید کک بیکس میں لندن دبئی وغیرہ شفٹ ہوگیا اور اب اس کا سود عوام اور تاجروں کا خون نچوڑ کر ادا کیا جا رہا ہے۔ حکومتی اہلکار اور بیوروکریٹس کی اکثریت دوہری شہریت رکھتی ہے۔ مہنگی سرکاری گاڑیاں اور دوسری مراعات سے فیض یاب ہوتی ہے اور ہر کام اور پراجیکٹ میں حصہ وصول کرتی ہے۔ ہر ماہ اربوں روپے اسپیڈ منی کے طور پر ان کی جیبوں میں جاتے ہیں ۔ ملک میں غربت پنتالیس فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ 24 ہزار ارب انڈیپنڈنٹ پاور پراجیکٹس کو فکس چارجز میں دیا گیا ہے۔ 80 ارب کی سولر پر اوور انوائسنگ ہوئی، 400ارب کی گیس اور تیل کی امپورٹ ہوئی اور تجارتی خسارہ 70 ارب سے تجاوز کر چکا ہے اور حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی۔

صدر لاہور چیمبر نے کہا کے مجھے سچ بولنے پر گرفتار کیا یا جان سے مار دیا جا سکتا ہے لیکن ملک ، تاجر کمیونٹی اور عوام کی خاطر میں ہر طرح کے نتائج کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ابوذر شاد نے کہا کہ ملک کے دگرگوں معاشی حالات کی منظرکشی کرنے پر وزیر دفاع خواجہ آصف، جن کا صنعت و تجارت سے کوئی واسطہ نہیں میری ذاتی کردارکشی پر اتر آئے ہیں جبکہ خواجہ آصف کے بے تحاشا بڑھنے والے اثاثوں اور اکاؤنٹس کی تحقیقات کی تفصیل نیب آفس کے ریکارڈ میں موجود ہے ۔ ملک کی کمزور معیشت، بڑھتے خسارے اور آئی ایم ایف کے دباؤ پر نئے ٹیکسوں کے نفاذ اور پالیسیوں پر کاروباری طبقے کے شدید ردعمل سے حکومتی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور اگر صورتحال زیادہ خراب ہوئی تو کچھ تبدیلیاں کرنے کے علاوہ وزیر اعظم کے پسندیدہ بیوروکریٹ چیئرمین ایف بی آر کو تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے ۔

بعض حلقے تاجروں میں پھیلی بے چینی ، حکومتی پالیسیوں پر تنقید اور ہڑتالوں کے اعلانات کو موجودہ حالات میں معنی خیز قرار دے رہے ہیں ۔

مزید پڑھیں