معرکہ حق کے 3ماہ بعد بھارتی ایئرچیف کاپاکستانی طیارے گرانے کا مضحکہ خیز دعویٰ
آپریشن سندور میں پاکستان کے ہاتھوں منہ توڑ شکست کے بعد بھارت کی سیاسی و عسکری قیادت شدید دباؤ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ مہینوں کی خاموشی کے بعد، بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے ایک حیران کن اور بے بنیاد دعویٰ کر ڈالا کہ بھارت نے جھڑپوں کے دوران پاکستان کے 6 طیارے مار گرائے۔
جنوبی بھارتی شہر بنگلورو میں ایک میموریل لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے اے پی سنگھ نے کہا کہ بھارت نے ’’5 پاکستانی لڑاکا طیارے اور ایک ریڈار/نگرانی طیارہ‘‘ تباہ کیا اور ان میں سے زیادہ تر حملے روسی ساختہ ایس-400 میزائل سسٹم سے کیے گئے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی ایئرچیف نہ تو گرائے گئے طیاروں کی شناخت بتا سکے، نہ کوئی فوٹیج یا ’’الیکٹرانک ٹریکنگ ڈیٹا‘‘ پیش کر سکے۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں آیا ہے جب ماضی میں خود بھارتی آرمی چیف تسلیم کر چکے ہیں کہ پاکستان نے ان کے کئی طیارے مار گرائے تھے۔

اسلام آباد واضح کر چکا ہے کہ 7 سے 10 مئی کے دوران بھارت کسی بھی پاکستانی طیارے کو گرانے میں ناکام رہا، جبکہ اسی عرصے میں پاکستان نے 6 بھارتی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا جن میں کم از کم ایک فرانسیسی ساختہ رافیل بھی شامل ہے۔
فرانسیسی فضائیہ کے سربراہ جنرل جیروم بیلینگر بھی تصدیق کر چکے ہیں کہ انہوں نے 3 بھارتی لڑاکا طیاروں (بشمول ایک رافیل) کی تباہی کے شواہد دیکھے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر بھارتی فضائیہ نے آج تک ان دعوؤں پر لب کشائی نہیں کی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی ایئرچیف کا یہ بیان محض مودی سرکار کی پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد اندرونِ ملک عوام کو تسلی دینا، شکست پر پردہ ڈالنا اور عالمی سطح پر اصل حقائق سے توجہ ہٹانا ہے۔


