عمران خان کے بیٹوں کی متوقع سیاسی انٹری، موروثی سیاست کی نئی بحث چھڑگئی
تحریک انصاف نے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے نئی احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ جس میں اس بار ایک نیا عنصر ان کے بیٹے قاسم اور سلیمان خان کی ممکنہ شمولیت ہے۔ سیاسی و سوشل میڈیا حلقوں میں ان کی واپسی اور متحرک کردار پر بحث زوروں پر ہے۔ کچھ صارفین نے ان کا موازنہ بے نظیر بھٹو اور مریم نواز سے کیا ہے جنہوں نے اپنے والد کی اسیری کے بعد سیاسی میدان میں قدم رکھا تھا۔
قاسم و سلیمان جو اپنی والدہ جمائما خان کے ساتھ برطانیہ میں مقیم ہیں۔ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا اور انٹرویوز کے ذریعے اپنے والد کی گرفتاری پر آواز اٹھا رہے ہیں۔ علیمہ خان کے مطابق دونوں پہلے امریکہ جائیں گے جہاں وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کریں گے اور پھر پاکستان واپس آکر تحریک میں حصہ لیں گے۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ان کی ممکنہ گرفتاری کی وارننگ دی ہے جس پر پی ٹی آئی نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کے اہل خانہ کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

زلفی بخاری نے بھی قاسم اور سلیمان کی شمولیت کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ ان کی شرکت سے کارکنان میں نیا جوش پیدا ہوگا۔ تاہم تجزیہ کار ضیغم خان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہونے پر بھی سوالات ہیں اور ایف آئی اے انہیں ایئرپورٹ پر ہی روک سکتا ہے۔
صحافی مظہر عباس کے مطابق دونوں بیٹے 5 اگست سے شروع ہونے والے احتجاج کا حصہ بن سکتے ہیں۔ جب کہ ضیغم خان کا کہنا ہے کہ اگر وہ پاکستان نہ بھی آئیں تو برطانیہ سے بین الاقوامی رائے عامہ پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک کی کامیابی کا دارومدار عوامی شرکت پر ہوگا اور اگر احتجاج میں تسلسل نہ رہا تو یہ ناکام ہو سکتا ہے۔ موروثی سیاست پر اٹھنے والی تنقید کے جواب میں مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کی سیاست بھی اسی راستے پر گامزن دکھائی دیتی ہے جہاں اب ان کے قریبی رشتہ دار مرکزی کردار ادا کرتے نظر آ رہے ہیں۔


