Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہصدر ٹرمپ کے ٹیرف اہداف: کیا ایک ہی وقت میں قومی مفاد،...

ٹرینڈنگ

صدر ٹرمپ کے ٹیرف اہداف: کیا ایک ہی وقت میں قومی مفاد، آمدن اور عالمی دباؤ ممکن ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی تجارتی توازن کو امریکی مفادات کے مطابق تشکیل دینے کے لیے درآمدی محصولات (ٹیرف) کو بنیادی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی پالیسی کا دعویٰ ہے کہ ایک ساتھ کئی مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں: قومی صنعت کا تحفظ، تجارتی خسارے میں کمی، حکومتی آمدن میں اضافہ، اور عالمی حریفوں پر دباؤ۔
حال ہی میں وائٹ ہاؤس ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ جاپان اور جنوبی کوریا پر 25 فیصد درآمدی ٹیرف عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں، تاکہ ان دونوں اتحادی ممالک کو “منصفانہ تجارت” کے لیے امریکی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے چین، میکسیکو، یورپی یونین اور دیگر ممالک پر بھی سخت ٹیرف نافذ کیے تھے۔ جن کے ابتدائی اثرات میں چند فیکٹریوں کی واپسی اور تجارتی مذاکرات کی میز پر پیش رفت شامل ہے۔


مگر معاشی ماہرین کے مطابق یہ اہداف آپس میں متضاد ہیں۔ اگر ٹیرف واقعی درآمدات کو کم کر دیتے ہیں تو حکومتی ریونیو میں متوقع اضافہ نہیں ہو پاتا اور اگر ممالک جھک کر رعایت دے دیتے ہیں، تو پھر ٹیرف واپس لینا پڑتا ہے۔ یوں آمدنی اور دباؤ دونوں ختم ہو جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ امریکی مصنوعات مہنگی ہونے، پیداواری لاگت بڑھنے، مزدوروں کی کمی اور صارفین پر بوجھ جیسے اثرات طویل مدتی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
بروکنگز انسٹیٹیوشن سمیت متعدد تھنک ٹینکس نے اس حکمتِ عملی کو معاشی طور پر غیر پائیدار قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ٹیرف کے ذریعے بیک وقت تمام اہداف — مثلاً ریونیو میں اضافہ، ملکی صنعت کی بحالی، اور بین الاقوامی دباؤ حاصل کرنا ممکن نہیں بلکہ بعض صورتوں میں ایک ہدف کی تکمیل دوسرے کی نفی کرتی ہے۔
گوکہ صدر ٹرمپ کی یہ پالیسی سیاسی سطح پر مقبول ہو سکتی ہے مگر اقتصادی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس حکمت عملی پر یکطرفہ انحصار جاری رہا تو اس کے نتائج نہ صرف عالمی تجارت بلکہ امریکی صارف اور معیشت پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں