Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبریکنگ نیوزروٹی نہیں صبر شکر کا راشن

ٹرینڈنگ

روٹی نہیں صبر شکر کا راشن

آفاق فاروقی
تیسری دنیاؤں بالخصوص اُن انسانی معاشروں میں جہاں سماجی تفریق کے ساتھ مذہبی گھٹن بھی عروج پر ہو اور حکمراں اشرافیہ کو ملا پنڈت پادری کی حمایت بھی حاصل ہو ،انہیُ معاشروں میں صبر شکر توکل کا درس عروج پاتاہے اور عام انسان اُس پر یقین بھی رکھتا ہے کہ خدا امید آس توقع خواب تمنا آرزو ، حسرت کے ساتھ قہر جبر کی سب سے بڑی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو خوف لالچ کے امتزاج سے گوندھ کر عام لوگوں میں مفت تقسیم ہوتا ہے


زیر نگاہ ویڈیو میں دکھائے گئے بزرگ ساؤتھ ایشیائی معاشرے میں کوئی ایک اکیلے انوکھے نہیں، ہندوستان جو بظاہر اس وقت دنیا کی پانچویں بڑی معاشی طاقت ہے وہاں سرکار اسی کروڑ لوگوں میں فخریہ ماہانہ راشن مفت بانٹتی ہے ، پاکستان میں پنتالیس فیصد افراد براہ راست غربت کی لکیر سے نیچے زندگی جی رہے ہیں تو ساڑھے سولہ فیصد روٹی کے نوالے کو بھی محتاط ہیں، یہی حال بنگلہ دیش بھوٹان سری لنکا افغانستان کا ہے ، اس پورے خطے میں بس خدا بھگوان ہی امید کی پہلی اور آخری کرن ہیں جو صدیوں سے راشن اور دیگر سہولیات کی جگہ تسلی امید توقع آس امید اور خواب جھولی بھر بھر بانٹ رہے ہیں اور جس ملا کے ذریعے یہ دھندا کیا جاتا ہے وہ ہر دور میں حکران اشرافیہ کے ہم پلہ ہی عیش کرتا رہا ہے، کمال یہ بھی ہے عام آدمی اس فراڈ کو کسی مناسب حد تک سمجھ بھی چکا ہے مگر نشہ کی عادت اگر پرانی ہو اور لت میں تبدیل ہوگئی ہو تو ماڈرن سولائزڈ ورلڈ میں ایک انتہائی خوفناک بیماری تصور کی جاتی ہے اور اسکے سائنسی علاج بھی ہیں ، مگر ساوتھ ایشیا کی بدقسمتی یہ ہے اس بیماری کا علاج بھی اسی ملا پیر فقیر کے ذمے ہے جو اس کا اصل ذمہ دار ہے
پاکستان کے بعض دانشور حلقے تو یہاں تک دعوی کرتے ہیں اس وقت ساٹھ فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے کہیں نیچے زندگی بسر کررہے ہیں ، اور موجودہ سیاسی سماجی معاشی صورت حال میں بہتری نہ آی تو وہ قیامت بپا ہونے والی ہے کہ رہے نام سائیں کا ، جس کی امید بھی دور دور نظر نہیں آتی، کہ نو مئی کے واقعات میں جس طرح گزشتہ روز سزائیں سنائی گئیں ہیں وہ ظاہر کرتی ہیں جب تک عام پاکستانی اتحاد اتفاق یکجہتی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کسی سیاسی پارٹی کے بینر کی بجائے اپنے حقوق کی بحالی اور اسٹیٹس کو کے خاتمے کے لیے متحد ہوکر باہر نہیں نکلے گا یہ مظاہر اور مناظر بھی عام نظر آتے رہیں گے
بڑھتی غربت بھوک ننگ بیماری جو جرم کی ماں ہے جو فرد کو ہی نہیں خاندان سماج پورے کو توڑ دیتی ہے جو بد امنی افراتفری انتشار کی وجہ بنتی ہے اور آج کا پاکستان ان تمام خوفناک برائیوں کی اماجگاہ بن چکا ہے اور قیصر بنگالی جیسے بڑے معیشت داں معاشرے کی اس سیاسی سماجی معاشی افراتفری کو ریاست ٹوٹنے کی ابتدا قرار دیتے ہیں وہاں حکمراں اشرافیہ روز معاشی بحالی کی خوشخبریوں کا نیا زہر بانٹ کر اس عمل کو تیز کرنے میں اپنا حصہ ڈالتی نظر آتی ہے
زیر نگاہ ویڈیو میں بزرگ کے چہرے پر بھوک غربت کے اثرات کے ساتھ انکے بدن اور کپڑوں ، انکے پیروں اور چپل پر اٹی دھول مذہب کے اس فرمان کو بھی یاد دلاتی ہے بھوک ننگ انسان سے اسکا ضمیر ہی نہیں اس سے اپنی انسانی قدریں بھی چھین لیتی ہے کہ صفائی جو نصف ایمان قرار دی گئی پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں ہر طرف اسلام کے جھنڈے لہرا رہے ہیں اس صفائی کا بالکل ایسے ہی کوئ وجود نہیں جیسے اسلام کے دیگر ستون اتحاد، یکجہتی وایمان عنقا ہیں
عین ممکن ہے اک خدا بھی ہو
کہیں عرش بریں بھی ممکن ہے
زندگی اس گمان میں گزری
کیا کسی پر یقیں بھی ممکن ہے
کلیم اللہ احسان

مزید پڑھیں