پاکستان میں توہین مذہب کے مقدمات: 400 سے زائد نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جیلوں میں، اکثریت پھنسا کر گرفتار کی گئی
پاکستان بھر میں توہین مذہب کے قوانین کے تحت 450 کے قریب نوجوان لڑکے اور لڑکیاں قید کی زندگی گزار رہے ہیں جن میں سے اکثریت یا تو 20 سال کی عمر سے کم ہے یا ابھی 20کے پیٹے میں ہیں۔ 80 فیصد سے زائد مقدمات 2022 کے بعد درج ہوئے۔ ان نوجوانوں کا تعلق زیادہ تر غریب یا نچلے متوسط طبقے سے ہے، اور ان میں سے 99 فیصد مسلمان ہیں۔
فیکٹ فوکس کی ایک تحقیق کے مطابق ان مقدمات میں ایک خاص پیٹرن اور منظم سازش سامنے آئی ہے جسے “توہین مذہب کاروباری گروہ” (بلاسفیمی بزنس گروپ) کہا جا رہا ہے۔ اس گروہ پر الزام ہے کہ یہ مذہبی شدت پسند عناصر پر مشتمل ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو توہین آمیز مواد میں الجھا کر ان کے خلاف ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ سے مقدمات درج کراتے ہیں۔
متعدد متاثرین نے بیان دیا ہے کہ واٹس ایپ یا فیس بک پر مختلف لڑکیوں کے جعلی ناموں سے بنائے گئے اکاؤنٹس کے ذریعے ان سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ “ایمان” نامی لڑکی کئی مقدمات میں مرکزی کردار کے طور پر سامنے آئی ہے۔ نوجوانوں کو پہلے دوستی، نوکری کی پیشکش یا تعلق کے بہانے بلایا جاتا ہے اور بعد میں انہیں ایسا مواد دکھایا جاتا ہے جسے وہ لاعلمی میں یا اس کی مخالفت کی غرض سے آگے فارورڈ کرچکے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں غائب کر دیا جاتا ہے اور چند دنوں بعد ان کے خلاف توہین مذہب کے تحت مقدمہ درج ہوتا ہے۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ اس گروہ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ پنجاب پولیس کی اسپیشل برانچ کی ایک رپورٹ، جو جنوری 2024 میں ڈی جی ایف آئی اے کو بھیجی گئی، میں واضح طور پر کہا گیا کہ یہ گروہ منظم طریقے سے نوجوانوں کو پھنسا کر ایف آئی اے کے ذریعے گرفتار کراتا ہے۔ تاہم ایف آئی اے نے اس رپورٹ پر کوئی کارروائی نہیں کی۔
اس نیٹ ورک کی قیادت راؤ عبدالرہیم کر رہا ہے جو پیشے سے ایک وکیل ہے اور اس وقت اسلام آباد میں مقیم ہے۔ وہ “ناموس رسالت لائرز فورم” اور “لیگل کمیشن آن بلاسفیمی” کا بھی سربراہ ہے۔ 2012 میں وہ ایک عیسائی لڑکی پر توہین مذہب کا مقدمہ درج کرا کے عالمی خبروں میں آیا تھا۔
شیراز احمد فاروقی، اسلام آباد/راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی کارکن ہے جو مختلف سوشل میڈیا گروپس چلاتا ہے اور کئی مقدمات میں شکایت کنندہ کے طور پر سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان دونوں شخصیات کے درمیان قریبی روابط ہیں اور وہ ایک بین الاقوامی وی او آئی پی سروس (ڈیل مونٹ) استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنی شناخت چھپا کر رکھ سکیں۔
واضح رہے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 144، لاہور کی کیمپ جیل میں 130، کوٹ لکھپت جیل میں 30، اور کراچی سینٹرل جیل میں 50 سے زائد نوجوان قید ہیں۔ قیدیوں میں سافٹ ویئر انجینئرز، سول، مکینیکل، الیکٹریکل، اور کیمیکل انجینئرز، ماسٹرز و بیچلرز ڈگری ہولڈرز، حتیٰ کہ حافظ قرآن بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کے دوران توہین مذہب کے ان شکایت کنندگان کی جانب سے ججوں اور وکلا پر شدید دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ “گستاخِ رسول کی ایک سزا، سر تن سے جدا” جیسے نعرے کمرہ عدالت کے باہر لگائے جاتے ہیں جس سے ماحول نہایت پرخطر ہو جاتا ہے۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایف آئی اے کے بعض افسران مقدمات کی کارروائی کی ویڈیو بناتے ہیں جو بعد میں ججوں کو دباؤ میں لانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔
۔4جنوری 2024 کو ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ لاہور نے “دی بلاسفیمی بزنس” کے عنوان سے ایک خفیہ رپورٹ وزیراعلیٰ، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس، اور ڈی جی ایف آئی اے کو ارسال کی جس میں کہا گیا کہ یہ ایک منظم گروہ ہے جو نوجوانوں کو پھنساتا ہے اور بعد ازاں ان سے پیسے بٹورتا ہے۔ رپورٹ میں گروہ کے مرکزی کرداروں کے نام بھی درج تھے۔ رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کے متعدد اہلکار بھی اس گروہ کی معاونت میں ملوث ہیں اور ان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی۔

پاکستان میں انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی وکیل ایمان مزاری”لیگل کمیشن آن بلاسفیمی” کے اس مبینہ گروہ کی منظم سرگرمیوں، جیسے ہنی ٹریپنگ و فراڈ اور غیر قانونی مقدمات کی پولیس کے ذریعے اندراج کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔
پاکستان میں بلاسفیمی گینگ کی کاروائیوں کے حوالے سے مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اس مقدمے میں جج ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے اس مقدمے کی کارروائی لائیو اسٹریم کرائی جاتی ہے تاکہ یہ کاروائی عوام کے سامنے ہو اور انہیں پتہ چل سکے کہ یہ گینگ کس منظم انداز میں کام کر رہا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پر توہینِ مذہب کے مبینہ جعلی مقدمات سے متعلق ایک کیس کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ معاملے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی انکوائری کمیشن تشکیل دے جس میں ایک ریٹائرڈ جج، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کا سینئر افسر، ایک آئی ٹی ماہر اور ایک دینی اسکالر شامل ہوں گے۔
یہ ہدایات جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے اس وقت جاری کیں جب عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے بعض نوجوانوں کو توہین آمیز مواد میں ملوث ظاہر کر کے ان پر مقدمات قائم کیے گئے جن کی نوعیت اور انداز مشتبہ پایا گیا۔ عدالت کو مزید بتایا گیا کہ بعض مقدمات میں شکایات کنندگان، ایف آئی آرز اور شواہد کی زبان ایک جیسی ہے جس سے منظم گروہ کی موجودگی کا شبہ ظاہر ہوتا ہے۔


