Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہیہ عبادت گاہ تھی، میدانِ جنگ نہیں. سان ڈیاگو کی مسجد پر...

ٹرینڈنگ

یہ عبادت گاہ تھی، میدانِ جنگ نہیں. سان ڈیاگو کی مسجد پر حملے کے بعد خوف، خاموشی اور ٹوٹتے ہوئے لوگ

سان ڈیاگو کی دوپہر ابھی پوری طرح اتری بھی نہیں تھی کہ شہر کی سب سے بڑی مسجد کے باہر سائرن، پولیس گاڑیوں اور چیختی ہوئی خبروں نے ایک ایسا منظر بنا دیا جسے وہاں موجود لوگ شاید برسوں فراموش نہ کر سکیں۔ زرد پولیس ٹیپ کے اُس پار تیرہ سالہ مایا خاموش کھڑی تھی۔ اس کے سامنے بھاری اسلحے سے لیس اہلکار مسجد کے گرد گشت کر رہے تھے، سڑکیں بند تھیں، اور چند گھنٹے پہلے ہونے والی فائرنگ کی بازگشت ابھی تک فضا میں موجود تھی۔

سان ڈیاگو اسلامک سینٹر — جو نہ صرف کاؤنٹی کی سب سے بڑی مسجد ہے بلکہ مقامی مسلم خاندانوں کے لیے عبادت، ملاقات اور کمیونٹی زندگی کا ایک اہم مرکز بھی سمجھی جاتی ہے — پیر کی صبح اچانک خون اور خوف کی علامت بن گئی، جب دو نوعمر حملہ آوروں نے وہاں فائرنگ کر دی۔ حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے، جبکہ حکام کے مطابق دونوں حملہ آور، جن کی عمریں سترہ اور اٹھارہ برس بتائی جا رہی ہیں، بعد میں خود کو گولی مار کر ہلاک ہو گئے۔ تفتیش کار اس واقعے کو ممکنہ نفرت انگیز جرم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

مایا کے ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے۔ وہ بار بار اپنے فون پر انگلیاں مار رہی تھی جبکہ اس کے دوست مسلسل ویڈیو کالز کر رہے تھے۔ کیلیفورنیا کی نسبتاً گرم دوپہر میں بھی اس کے دانت بج رہے تھے۔ وہ بار بار ایک ہی جملہ دہرا رہی تھی: “یہ سب حقیقت نہیں لگتا۔”

یہ حملہ صرف ایک خبر نہیں تھا۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ ان کی ذاتی دنیا کے اندر گرنے والا دھماکہ تھا۔

مایا نے بتایا کہ اس کے دادا مسجد میں سیکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ جیسے ہی فائرنگ کی خبر پھیلی، اس کے ذہن میں سب سے پہلا خیال انہی کا آیا۔ اس نے فوراً اپنی والدہ کو فون کیا، اور تب جا کر معلوم ہوا کہ اس کے دادا اُس دن ڈیوٹی پر نہیں تھے۔

“وہ ہمیشہ اسی وقت کام کرتے ہیں… بس یہی سوچ رہی تھی کہ آج انہیں کچھ ہو سکتا تھا…” یہ کہتے ہوئے مایا کی آواز بھرّا گئی۔

حملے کے بعد مسجد کے قریب ایک عارضی مرکز قائم کیا گیا جہاں خوفزدہ والدین اپنے بچوں سے دوبارہ مل رہے تھے۔ مسجد کے اندر قائم اسکول میں زیرِ تعلیم کئی بچے فائرنگ کے وقت عمارت میں موجود تھے۔ کچھ والدین روتے ہوئے بچوں کو سینے سے لگائے کھڑے تھے، جبکہ مقامی ٹیلی ویژن چینلز کے نمائندے مسجد کو پس منظر میں رکھ کر براہِ راست نشریات کر رہے تھے۔

چند گلیوں کے فاصلے پر مقامی حکام بار بار پریس کانفرنسیں کر رہے تھے، مگر ہر نئی بریفنگ کے ساتھ سوال پہلے سے زیادہ بھاری محسوس ہونے لگتے تھے۔

سان ڈیاگو سے لے کر جنوبی کیلیفورنیا تک مسلم برادری، مقامی باشندے اور عام شہری شدید صدمے اور خوف میں مبتلا ہیں۔ امریکہ میں اجتماعی فائرنگ کے بے شمار واقعات دیکھنے کے باوجود بہت سے لوگوں کے لیے یہ حملہ مختلف تھا، کیونکہ اس بار نشانہ ایک عبادت گاہ تھی۔

واقعے کے بعد سیاسی، مذہبی اور سماجی حلقوں کی جانب سے مذمت اور اظہارِ یکجہتی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مسجد کے امام اور مرکز کے ڈائریکٹر طٰہٰ حسن نے ایک جذباتی بیان میں کہا:

“ہم نے اس سے پہلے کبھی ایسی سانحہ نہیں دیکھی۔ اس وقت میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ ہم اپنی برادری کے تمام خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہماری خوبصورت شہر کی تمام عبادت گاہوں کو محفوظ ہونا چاہیے۔ یہ عبادت کی جگہ ہے، میدانِ جنگ نہیں۔”

مسجد کے باہر ایک شخص، جس نے صرف اپنا پہلا نام “جیسس” بتایا، خاموشی سے کھڑا تھا۔ اس نے کہا کہ وہ تقریباً ایک ماہ پہلے نیویارک سے کیلیفورنیا منتقل ہوا تھا اور حال ہی میں اس مسجد میں آنا شروع کیا تھا۔ اس کا ارادہ پیر کی دوپہر مسجد آنے کا بھی تھا، مگر آخری لمحے میں ایک ملازمت کے انٹرویو کی وجہ سے رک گیا۔

“پھر مجھے واٹس ایپ پر پیغام آیا: مسجد مت آؤ، فائرنگ ہو گئی ہے…”

یہ جملہ بولتے ہوئے وہ کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا، جیسے ابھی تک خود کو یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہو کہ وہ زندہ ہے۔

تحقیقات جاری ہیں۔ حکام حملہ آوروں کے پس منظر، ذہنی حالت اور ممکنہ نظریاتی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ مگر سان ڈیاگو کی اس مسجد کے باہر کھڑے لوگوں کے لیے اصل سوال شاید ابھی بھی وہی ہے: آخر ایک عبادت گاہ تک نفرت کیسے پہنچ گئی؟

مزید پڑھیں