Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہیورپ کا چھوٹا مگر حساس ملک جنگی خطرات کے سائے میں مکمل...

ٹرینڈنگ

یورپ کا چھوٹا مگر حساس ملک جنگی خطرات کے سائے میں مکمل دفاعی تیاریوں کے نئے دور میں داخل

یورپ کا چھوٹا مگر حساس ملک جنگی خطرات کے سائے میں مکمل دفاعی تیاریوں کے نئے دور میں داخل

ٹالن: یورپ کے شمال مشرق میں واقع چھوٹا سا مگر انتہائی حساس جغرافیائی محلِ وقوع رکھنے والا ملک ایسٹونیا روس اور نیٹو کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں غیر معمولی دفاعی تیاریوں کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اگرچہ فوری طور پر کسی حملے کے واضح شواہد موجود نہیں، تاہم یوکرین جنگ کے طویل ہوتے اثرات اور خطے میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی بے یقینی نے ایسٹونیا کو اپنی مجموعی دفاعی حکمتِ عملی از سر نو ترتیب دینے پر مجبور کر دیا ہے۔
حکام نے ملک بھر میں شہری دفاع کے نظام کو فعال بنانے کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں، جن میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت، انخلا کی عملی مشقیں، اور حساس تنصیبات کے تحفظ کے لیے نئے حفاظتی منصوبے شامل ہیں۔ اسکولوں اور عام شہریوں کو بھی ممکنہ بحران کی صورت میں فوری ردعمل دینے کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔
دفاعی ذرائع کے مطابق ملک میں فضائی نگرانی اور ڈرون ٹیکنالوجی کی صلاحیت کو بڑھایا جا رہا ہے جبکہ سرحدی نگرانی کے نظام کو مزید جدید بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کو فوری طور پر شناخت کیا جا سکے۔
نیٹو کے ساتھ مشترکہ مشقوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اور خطے میں اتحادی افواج کی موجودگی کو مزید مؤثر بنانے پر غور جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کسی فوری خطرے کے ردِعمل کے بجائے مستقبل میں ممکنہ سکیورٹی چیلنجز کے پیشِ نظر احتیاطی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بالٹک خطہ اس وقت یورپ میں سب سے زیادہ حساس سکیورٹی زون بن چکا ہے، جہاں معمولی کشیدگی بھی بڑے جغرافیائی سیاسی اثرات پیدا کر سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ یوکرین جنگ کے بعد یورپ کا سکیورٹی توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، اور چھوٹے ممالک بھی اب مکمل جنگی تیاریوں کے تقاضوں سے خود کو الگ نہیں رکھ سکتے۔

مزید پڑھیں