ہر چار میں سے ایک سفید پوش ملازم ترقی اور تنخواہ میں جمود کا شکار: محنت کے باوجود پیش رفت رک گئی، نئی رپورٹ نے تشویش بڑھا دی
ہر چار میں سے ایک سفید پوش ملازم ترقی اور تنخواہ میں جمود کا شکار: محنت کے باوجود پیش رفت رک گئی، نئی رپورٹ نے تشویش بڑھا دی
ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سفید پوش شعبے سے تعلق رکھنے والے ہر چار میں سے ایک ملازم اس وقت ایسی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جہاں نہ تنخواہ میں اضافہ ہو رہا ہے اور نہ ہی ترقی کے مواقع مل رہے ہیں، جس کے باعث کیریئر میں واضح جمود پیدا ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں ملازمین مسلسل محنت اور ذمہ داریاں ادا کرنے کے باوجود اسی درجے پر موجود ہیں، جبکہ اداروں میں ترقی کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف ملازمین کے حوصلے پر اثر ڈالا ہے بلکہ پیشہ ورانہ ترقی کے راستے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان کی بڑی وجوہات میں تنظیمی ڈھانچے کی تبدیلی، معاشی دباؤ، اور بعض شعبوں میں نئی بھرتیوں میں کمی شامل ہے۔ اس کے نتیجے میں تجربہ کار ملازمین کے لیے اوپر جانے کے مواقع کم ہو رہے ہیں، جبکہ نوجوان افرادی قوت بھی اسی جمود کا شکار ہو رہی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس صورتحال کے باعث ملازمین میں عدم اطمینان بڑھ رہا ہے اور کئی افراد بہتر مواقع کی تلاش میں ملازمت تبدیل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اس رجحان کو اداروں کے لیے ایک وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ اگر ترقی اور تنخواہوں کا نظام بہتر نہ بنایا گیا تو ہنر مند افراد کا نقصان ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ صرف ایک ملک یا ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر سفید پوش طبقے میں ایک بڑھتا ہوا رجحان بنتا جا رہا ہے، جو آنے والے برسوں میں لیبر مارکیٹ کے ڈھانچے کو مزید تبدیل کر سکتا ہے


