گلگت بلتستان انتخابات میں بھی تحریک انصاف کو دیوار سے لگانے کا عزم
گلگت بلتستان کے انتخابی ماحول میں ایک نیا تنازع اس وقت سامنے آیا جب بعض نوجوان امیدواروں نے، جو خود کو تحریک انصاف کے نظریے سے وابستہ قرار دیتے ہیں، آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک فورم کے نام سے ایک سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا اور مشترکہ انتخابی نشان پولو کھلاڑی کا حاصل کیا۔ تاہم جب ریاستی اعلیٰ حکام کو پتہ چلا کہ یہ ڈیموکریٹک فورم دراصل تحریک انصاف کا ذیلی سیاسی پلیٹ فارم ہے تو بعد ازاں متعلقہ حکام کو حکم ملا کہ انتخابی نشان فوری واپس لیا جائے، جسے ایک پیام رساں ایپلیکیشن کے ذریعے بھیجے گئے نوٹس کے ذریعے واپس لے لیا گیا اور امیدواروں کو ایک بار پھر دو ہزار چوبیس کے قومی انتخابات کی طرح مختلف انفرادی نشانات الاٹ کر دیے، جس کے نتیجے میں وہ ایک ہی پلیٹ فارم کے تحت انتخابی مہم چلانے سے محروم ہو گئے۔ امیدواروں اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام سیاسی انجینئرنگ کی ایک اور مثال ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کسی جماعت یا گروہ کو منظم انداز میں انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جائے تو اس سے جمہوری عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں، جس کی اس ریاست کو کب پروا تھی جو اب ہوگی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں انتخابی تنازعات، سیاسی کشیدگی، معاشی مشکلات اور داخلی اختلافات نے ریاستی نظم و نسق کے بارے میں سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کے مطابق جب بڑی سیاسی جماعتیں، قوم پرست حلقے اور دیگر ناراض گروہ مسلسل شکایات کا اظہار کر رہے ہوں تو قومی مفاہمت اور سیاسی مذاکرات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ دنیا کی جدید جمہوریتوں میں سیاسی اختلافات کا حل عموماً مذاکرات، شفاف انتخابات، آزاد عدلیہ اور مضبوط اداروں کے ذریعے تلاش کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی ریاست کی طاقت صرف اس کے انتظامی ڈھانچے میں نہیں بلکہ اس صلاحیت میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے مخالف سیاسی اور سماجی طبقات کو بھی آئینی اور جمہوری دائرے میں جگہ دے سکے۔ گلگت بلتستان میں سامنے آنے والا یہ تنازع بھی اسی بڑے سوال کو اجاگر کر رہا ہے کہ آیا سیاسی اختلافات کا جواب مزید محاذ آرائی ہے یا پھر وسیع تر قومی مفاہمت، وہ ریاست جو بظاہر عالمی کشیدگی و تنازعات میں فخریہ ثالث ہے مگر اپنے علاقے کے ناراض بیٹے بیٹیوں کے ساتھ بیٹھنے کی بجائے ان کے حقوق چھیننے سے ان کے سر اتارنے تک پر یقین رکھتی ہے۔


